Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب کافر تمہیں  دیکھتے ہیں  تو تمہیں  نہیں  ٹھہراتے مگر ٹھٹھا کیا یہ ہیں  وہ جو تمہارے خداؤں  کو برا کہتے ہیں  اور وہ رحمٰن ہی کی یاد سے منکر ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب کافر آپ کو دیکھتے ہیں  توآپ کو صرف ہنسی مذاق بنالیتے ہیں  ۔ کیا یہ وہ آدمی ہے جو تمہارے خداؤں  کو برا کہتا ہے اور وہ (کافر) رحمٰن ہی کی یاد سے منکر ہیں ۔

{وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا:اور جب کافر آپ کو دیکھتے ہیں  ۔} گزشتہ آیت میں  سرکارِ دو عالَم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وصال کی باتیں  کرنے والوں  کوجواب دیا گیا ،  اب اس آیت میں  ان لوگوں  کو جواب دیا جا رہا ہے جو مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ،  نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ مَسخرہ پن کیا کرتے تھے۔ شانِ نزول:یہ آیت ابوجہل کے بارے میں  نازِل ہوئی۔ ایک مرتبہ حضور اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لے جارہے تھے تو ابو جہل آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو دیکھ کر ہنسا اور اپنے ساتھ موجود لوگوں  سے کہنے لگا کہ: یہ بنی عبد ِمناف کے نبی ہیں   ، پھر وہ آپس میں  ایک دوسرے سے کہنے لگے : کیا یہ وہ آدمی ہے جو تمہارے خداؤں  کو برا کہتا ہے۔‘‘ اس پر  اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ، یہ آپ پر اپنے خداؤں  کو برا کہنے کا عیب لگاتے ہیں  حالانکہ ان کا اپنا حال یہ ہے کہ وہ رحمٰن ہی کی یاد سے منکر ہیں  اور کہتے ہیں  کہ ہم رحمٰن کو جانتے ہی نہیں  ۔ اس جہالت اور گمراہی میں  مبتلا ہونے کے باوجود آپ کے ساتھ مذاق کرتے ہیں  اور یہ نہیں  دیکھتے کہ ہنسی کے قابل توخود ان کا اپنا حال ہے ۔(خازن  ،  الانبیاء  ،  تحت الآیۃ: ۳۶ ،  ۳ / ۲۷۷ ،  مدارک  ،  الانبیاء  ،  تحت الآیۃ: ۳۶ ،  ص۷۱۶ ،   روح البیان ،  الانبیاء  ،  تحت الآیۃ: ۳۶ ،  ۵ / ۴۷۹-۴۸۰ ،  ملتقطاً)

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍؕ-سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ(۳۷)

ترجمۂ کنزالایمان: آدمی جلد باز بنایا گیا اب میں  تمہیں  اپنی نشانیاں  دکھاؤں  گا مجھ سے جلدی نہ کرو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: آدمی جلد باز بنایا گیا۔ اب میں  تمہیں  اپنی نشانیاں  دکھاؤں  گا تومجھ سے جلدی نہ کرو۔

{خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ:آدمی جلد باز بنایا گیا۔} اس کا ایک معنی یہ ہے کہ جلد بازی کی زیادتی اور صبر کی کمی کی وجہ سے گویا انسان بنایا ہی جلد بازی سے گیا ہے یعنی جلد بازی انسان کا خمیر ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ جلد بازی کو انسان کی فطرت اور اخلاق میں  پیدا کیا گیا ہے۔ یہاں  آیت میں  انسان سے کون مراد ہے ،  اس کے بارے میں  مفسرین کے تین قول ہیں : (1) اس سے انسان کی جنس مراد ہے ۔ (2) یہاں  انسان سے مراد نضر بن حارث ہے ۔ (3) اس آیت میں  انسان سے مراد حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہیں ۔( روح المعانی ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ۹ / ۶۴-۶۵)

{سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ:اب میں  تمہیں  اپنی نشانیاں  دکھاؤں  گا۔} شانِ نزول: جب نضر بن حارث نے جلد عذاب نازل کرنے کامطالبہ کیا تواس کے بارے میں  یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایاگیاکہ اب میں  تمہیں  اپنی نشانیاں  دکھاؤں  گا۔ ان نشانیوں  سے عذاب کے وہ وعدے مراد ہیں  جو مشرکین کو دئیے گئے تھے  ،  ان وعدوں  کا وقت قریب آ گیا ہے ،  لہٰذا انہیں  چاہئے کہ وقت سے پہلے ان کا مطالبہ نہ کریں ۔چنانچہ دنیا میں بدر کے دن وہ منظر ان کی نگاہوں  کے سامنے آ گیا اور آخرت میں  وہ جہنم کا عذاب دیکھیں  گے۔( خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ۳ / ۲۷۷ ،  روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ۵ / ۴۸۰ ،  ملتقطاً)

حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی گستاخی کا انجام:

            علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  نے اس مقام پر ’’تاویلات ِنجمیہ‘‘ کے حوالے سے ایک بہت پیارا نکتہ بیان کیا ہے کہ (گویا  اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا) اے کافرو! تم اپنی جہالت و گمراہی کی وجہ سے عذاب طلب کرنے میں  جلدی مچا رہے ہو ،  کیونکہ تم نے مذاق اڑا کر اور دشمنی کر کے میرے حبیب اور میرے نبیصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تکلیف دی ہے۔

(میرے اولیاء کا میری بارگاہ میں  یہ مقام ہے کہ ) جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی تو اس نے مجھ سے جنگ کا اعلان کر دیا اور بے شک اس نے عذاب طلب کرنے میں  جلدی کر لی کیونکہ میں  اپنے اولیاء کی وجہ سے شدید غضب فرماتا ہوں  اور جو بد بخت میرے حبیب اور میرے نبی صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے دشمنی کرے تو اس کا انجام کیا ہو گا۔( روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ۵ / ۴۸۱)

            اس میں  ان لوگوں  کے لئے بڑی عبر ت ہے جو حضور پُر نورصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے بے اَدبانہ انداز اپنا کر ،  آپ کی سیرت اور سنتوں  کا مذاق اڑا کر ، آپ کے اَعمال کو ہدفِ تنقید بنا کر ، آپ کے صحابۂ کرام اور آل اولاد پر انگشت ِاِعتراض اٹھا کر الغرض کسی بھی طریقے سے حضور پُر نورصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے اَذِیَّت اور تکلیف کاباعث بنتے ہیں  ۔ اللہ تعالیٰ انہیں  ہدایت عطا فرمائے۔

جلد بازی کی مذمت اور مستقل مزاجی کی اہمیت:

            اس آیت سے معلوم ہو اکہ جلد بازی ایسی بری چیز ہے کہ اس کی وجہ سے انسان اپنی ہلاکت و بربادی اور عبرتناک موت تک کا مطالبہ کر بیٹھتا ہے اور یہ جلد بازی کا ہی نتیجہ ہے کہ انسان اچھائی کو برائی اور برائی کو اچھائی سمجھ بیٹھتا ہے اور وہ کوئی عملی قدم اٹھانے سے پہلے ا س کے اچھے اوربرے پہلوؤں  پر غور نہیں  کر پاتا اوریوں  اکثر وہ اپنا نقصان کر بیٹھتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں  مستقل مزاج اور سکون و اطمینان سے کام کرنے والاآدمی اپنے مقصد کو پا لیتا ہے اور نقصان سے بھی بچ جاتا ہے۔حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے ،  رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جب تم نے بردباری سے کام لیا تو اپنے مقصد کو پالیا ،  یا عنقریب پا لوگے اور جب تم نے جلدبازی کی تو تم خطا کھاجاؤ گے یا ممکن ہے کہ تم سے خطا سرزد ہوجائے۔( السنن الصغری ،  کتاب آداب القاضی ،  باب التثبت فی الحکم ،  ۲ / ۶۱۰ ،  الحدیث: ۴۴۹۹)

             حضرت حسن رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جو جلدی کرتا ہے وہ خطا میں  پڑتا ہے۔ (نوادر الاصول ،  الاصل الحادی والستّون والمائتان ،  ۲ / ۱۲۶۸ ،  الحدیث: ۱۵۵۹)

            لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ جلد بازی سے بچے اور مستقل مزاجی کو اختیار کرنے کی کوشش کرے۔ خیال رہے کہ چند چیزوں  میں  جلد ی اچھی ہے ،  جیسے گناہوں  سے توبہ  ،  نماز کی



Total Pages: 235

Go To