Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہی ہے جس نے بنائے رات اور دن اور سورج اور چاند ہر ایک ایک گھیرے میں  پَیر رہا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  اور وہی ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو پیدا کیا ۔ سب ایک گھیرے میں  تیر رہے ہیں ۔

{وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ:اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو پیدا کیا ۔} ارشاد فرمایا کہ وہی اکیلا معبود ہے جس نے رات کو تاریک بنایا تاکہ لوگ اس میں  آرام کریں  اور دن کو روشن بنایا تاکہ اس میں  معاش وغیرہ کے کام انجام دیں  اور سورج کو پیدا کیا تاکہ وہ دن کا چراغ ہو اور چاند کو پیدا کیا تاکہ وہ رات کا چراغ ہو ۔یہ سب ایک گھیرے میں  ا یسے تیر رہے ہیں  جس طرح تیراک پانی میں  تیرتا ہے۔( مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۳۳ ،  ص۷۱۵ ،  خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۳۳ ،  ۳ / ۲۷۶ ،  ملتقطاً)

وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَؕ-اَفَاۡىٕنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ(۳۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کے لیے دنیا میں  ہمیشگی نہ بنائی تو کیا اگر تم انتقال فرماؤ تو یہ ہمیشہ رہیں  گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کے لیے (دنیا میں ) ہمیشہ رہنا نہ بنایا تو کیا اگر تم انتقال فرماؤ تو یہ دوسرے لوگ ہمیشہ رہیں  گے ؟

{وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ:اور ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کے لیے ہمیشہ رہنا نہ بنایا۔}  گزشتہ آیات میں   اللہ عَزَّوَجَلَّنے اپنے قادرِمُطْلَق ہونے کی نشانیاں  بیان فرمائیں  اور اسی کے تحت اپنی نعمتوں  کابھی بیان فرمایا ،  اب ان آیات میں  بتایا جارہا ہے کہ دنیا فنا ہونے والی ہے اور اس میں  ہرچیز کوفنا ہونا ہے لہٰذا اس میں  دل نہ لگاؤ اور نہ ہی اس دنیا کے عجائب وغرائب اور اس کی آرائشوں  پرجان ودل سے قربان ہوجاؤ بلکہ  اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تویہ چیزیں  تمہاری آزمائش کے لیے پیدا کی ہیں  لہٰذا اپنی ابدی زندگی پر نظر رکھتے ہوئے اسی کی تیاری کرو۔ شانِ نزول: رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دشمن اپنی گمراہی اوردشمنی کی وجہ سے کہتے تھے کہ ہم حوادثِ زمانہ کا انتظار کررہے ہیں  ،  عنقریب ایسا وقت آنے والاہے کہ حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی وفات ہوجائے گی ۔اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ دشمنانِ رسول کے لئے یہ کوئی خوشی کی بات نہیں  کیونکہ ہم نے دنیا میں  کسی آدمی کے لئے ہمیشگی نہیں  رکھی۔ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  کیا اگر آپ انتقال فرما جائیں  تو یہ لوگ ہمیشہ رہیں  گے اور انہیں  موت کے پنجے سے رہائی مل جائے گی ؟جب ایسا نہیں  ہے تو پھر وہ کس بات پر خوش ہوتے ہیں ؟ اورحقیقت یہ ہے کہ ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔( خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۳۴-۳۵ ،  ۳ / ۲۷۶)

كُلُّ نَفْسٍ ذَآىٕقَةُ الْمَوْتِؕ-وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةًؕ-وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ(۳۵)

ترجمۂ کنزالایمان: ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور ہم تمہاری آزمائش کرتے ہیں  برائی اور بھلائی سے جانچنے کو اور ہماری ہی طرف تمہیں  لوٹ کر آنا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور ہم برائی اور بھلائی کے ذریعے تمہیں  خوب آزماتے ہیں  اور ہماری ہی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

{وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً: اور ہم برائی اور بھلائی کے ذریعے تمہیں خوب آزماتے ہیں ۔} یعنی ہم تمہیں  راحت و تکلیف  ، تندرستی و بیماری  ،  دولت مندی و ناداری ،  نفع اور نقصان کے ذریعے آزماتے ہیں  تاکہ ظاہر ہو جائے کہ صبر و شکر میں  تمہارا کیا درجہ ہے اور بالآخر تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے اورہم تمہیں  تمہارے اعمال کی جزا دیں  گے۔( خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۳۵ ،  ۳ / ۲۷۶)

مصیبت آنے پر صبر اور نعمت ملنے پر شکر کرنے کی ترغیب:

            ا س سے معلوم ہو اکہ بعض اوقات مصیبت نازل کر کے یا نعمت عطا کر کے بندے کواس بات میں  آزمایا جاتا ہے کہ وہ مصیبت آنے پر کتنا صبر کرتا اور نعمت ملنے پر کتنا شکر کرتا ہے ، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ جب وہ     محتاجی یا بیماری وغیرہ کسی مصیبت میں  مبتلا ہو تو شکوہ شکایت نہ کرے بلکہ اس میں   اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہے اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں  مصروف رہے اور جب اسے مالداری اور صحت وغیرہ کوئی نعمت ملے تو وہ  اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے ۔ ترغیب کے لئے یہاں  مصیبت پر صبر اور نعمت پر شکر کرنے سے متعلق 4اَحادیث ملاحظہ ہوں ۔

(1)…حضرت ابو سعید رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور انورصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’ جو صبر کرنا چاہے گا  اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق عطا فرمادے گا اور صبر سے بہتر اور وسعت والی عطا کسی پر نہیں  کی گئی۔( مسلم ،  کتاب الزکاۃ ،  باب فضل التعفّف والصبر ،  ص۵۲۴ ،  الحدیث: ۱۲۴(۱۰۵۳))

(2)…حضر ت انس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  تاجدار رسالتصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بے شک زیادہ اجر سخت آزمائش پر ہی ہے اور  اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو انہیں  آزمائش میں  مبتلا کر دیتا ہے ،  تو جو اس کی قضا پر راضی ہو اس کے لئے رضا ہے اور جوناراض ہو اس کے لئے ناراضی ہے۔( ابن ماجہ ،  کتاب الفتن ،  باب الصبر علی البلاء ،  ۴ / ۳۷۴ ،  الحدیث: ۴۰۳۱)

(3)…حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روا یت ہے ، نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جسے چار چیزیں  عطا کی گئیں  اسے دنیا و آخرت کی بھلائی عطا کی گئی :(۱) شکر کرنے والا دل۔ (۲)  اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والی زبان۔ (۳) مصیبت پر صبر کرنے والا بدن۔ (۴) اس کے مال اور عزت میں  خیانت نہ کرنے والی بیوی۔( معجم الکبیر ،  طلق بن حبیب عن ابن عباس ،  ۱۱ / ۱۳۴ ،  الحدیث: ۱۱۲۷۵)

(4)…حضرت حسن بصری رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں : مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جب  اللہ تعالیٰ کسی قوم کو نعمت عطا فرماتا ہے تو ان سے شکر کامطالبہ فرماتا ہے ،  اگر وہ اس کا شکر کریں  تو  اللہ تعالیٰ انہیں  زیادہ دینے پر قادر ہے اور اگر وہ ناشکری کریں

تووہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ اپنی نعمت کو ان پر عذاب سے بدل دے۔( شعب الایمان ،  الثالث والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ ،  ۴ / ۱۲۷ ،  روایت نمبر: ۴۵۳۶)

وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًاؕ-اَهٰذَا الَّذِیْ یَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْۚ-وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ(۳۶)

 



Total Pages: 235

Go To