Book Name:Sirat ul jinan jild 6

فرماتا ہے:

’’اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْاۚ-رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ‘‘(مومن: ۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: عرش اٹھانے والے اور اس کے ارد گردموجود (فرشتے) اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے ہیں  اور اس پر ایمان رکھتے ہیں  اور مسلمانوں  کی بخشش مانگتے ہیں  ۔اے ہمارے رب!تیری رحمت اور علم ہرشے سے وسیع ہے تو انہیں  بخش دے جوتوبہ کریں  اور تیرے راستے کی پیروی کریں  اور انہیں  دوزخ کے عذاب سے بچالے۔

            اور ارشاد فرماتا ہے

’’وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ‘‘(شوری)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں  اور زمین والوں  کے لیے معافی مانگتے ہیں ۔

             اور آخرت میں  بھی فرشتے مسلمانوں  کی شفاعت کریں  گے جیسا کہ زیرِ تفسیر آیت سے معلوم ہو رہا ہے اور مسلم شریف کی حدیث میں  ہے کہ (قیامت کے دن)  اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: فرشتوں  نے ،  نبیوں  نے اور ایمان والوں  نے شفاعت کر لی اور اب اَرحم الرّاحِمین کے علاوہ اور کوئی باقی نہیں  رہا ،  پھر  اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں  کی ایک تعداد کو جہنم سے نکال لے گا جنہوں  نے کبھی کوئی نیک عمل نہ کیا ہو گا۔( مسلم ،  کتاب الایمان ،  باب معرفۃ طریق الرؤیۃ ،  ص۱۱۲ ،  الحدیث: ۳۰۲(۱۸۳))

{وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ:اور وہ اس کے خوف سے ڈر رہے ہیں ۔} یعنی فرشتے ا س مقام و مرتبے کے باوجود  اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف نہیں  بلکہ وہ  اللہ تعالیٰ کے خوف سے ڈر رہے ہیں ۔( خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۲۸ ،  ۳ / ۲۷۵)

فرشتوں  کا خوفِ خدا:

             فرشتے  اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر ،  اس کی پکڑ اور ا س کے قہر سے کس قدر خوف زدہ رہتے ہیں   ،  اس سلسلے میں  4 اَحادیث ملاحظہ ہوں

(1)…حضرت جابر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُسے روایت ہے ،  حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’میں  معراج کی رات فرشتوں  کے پاس سے گزرا تو حضرت جبرئیل عَلَیْہِ  السَّلَام اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے اس چادر کی طرح تھے جو اونٹ کی پیٹھ پر ڈالی جاتی ہے۔(معجم الاوسط ،  باب العین ،  من اسمہ عبد الرحمٰن ،  ۳ / ۳۰۹ ،  الحدیث: ۴۶۷۹)

(2)…ایک روایت میں  ہے کہ حضرت جبرئیل عَلَیْہِ  السَّلَام سیّد المرسَلینصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  روتے ہوئے حاضر ہوئے ۔ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’تم کیوں  رو رہے ہو؟ حضرت جبرئیل عَلَیْہِ  السَّلَام نے عرض کی :جب سے  اللہ تعالیٰ نے جہنم کو پیدا فرمایا ہے تب سے میری آنکھ ا س خوف کی وجہ سے خشک نہیں  ہوئی کہ کہیں  مجھ سے  اللہ تعالیٰ کی کوئی نافرمانی ہو جائے اور میں  جہنم میں  ڈال دیا جاؤں ۔( شعب الایمان ،  الحادی عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ ،  ۱ / ۵۲۱ ،  الحدیث: ۹۱۵)

(3)…حضرت انس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں   ، رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرت جبرئیل عَلَیْہِ  السَّلَام سے دریافت کیا کہ میں  نے کبھی حضرت اسرافیل عَلَیْہِ  السَّلَام کو ہنستے ہوئے نہیں  دیکھا ،  اس کی کیا وجہ ہے؟ حضرت جبرئیل عَلَیْہِ  السَّلَامنے عرض کی: جب سے جہنم کو پیدا کیا گیا ہے تب سے حضرت اسرافیل عَلَیْہِ  السَّلَام نہیں  ہنسے۔( مسند امام احمد ،  مسند انس بن مالک رضی  اللہ عنہ ،  ۴ / ۴۴۷ ،  الحدیث: ۱۳۳۴۲)

(4)…نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں  جن کے پہلو اس کے خوف کی وجہ سے لرزتے رہتے ہیں   ،  ان کی آنکھ سے گرنے والے ہر آنسو سے ایک فرشتہ پیدا ہوتا ہے  ، جو کھڑے ہوکر اپنے ربعَزَّوَجَلَّ کی پاکی بیان کرنا شروع کر دیتا ہے۔( شعب الایمان ،  الحادی عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ ،  ۱ / ۵۲۱ ،  الحدیث: ۹۱۴)

            فرشتے گناہوں  سے معصوم ہونے کے باوجود  اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے اس قدر ڈرتے ہیں  تو ہرنیک اور گناہگار مسلمان کو بھی چاہئے کہ وہ  اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے ڈرے اور اس کی پکڑ ، گرفت اور قہر سے خوف کھائے۔  اللہ تعالیٰ سبمسلمانوں  کو اس کی توفیق عطا فرمائے ،  اٰمین۔

وَ مَنْ یَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّیْۤ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِیْهِ جَهَنَّمَؕ-كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ۠(۲۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ان میں  جو کوئی کہے کہ میں   اللہ کے سوا معبود ہوں  تو اسے ہم جہنم کی جزا دیں  گے ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں  ستمگاروں  کو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ان میں  جو کوئی کہے کہ میں   اللہ کے سوا معبود ہوں  تو اسے ہم جہنم کی سزا دیں  گے۔ ہم ظالموں  کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں ۔

{وَ مَنْ یَّقُلْ مِنْهُمْ:اور ان میں  جو کوئی کہے۔} بعض مفسرین فرماتے ہیں  کہ اس آیت میں در اصل ان مشرکوں  کو ڈرایا گیا ہے جو معبود ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں  تاکہ وہ اپنے شرک سے باز آ جائیں  ،  اور آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ بفرضِ محال فرشتوں  میں  سے کوئی یہ کہے کہ میں   اللہ تعالیٰ کے سوا معبود ہوں  تو  اللہ تعالیٰ اسے بھی دوسرے مجرموں  کی طرح جہنم کی سزا دے گا اور اس فرشتے کے اوصاف اور پسندیدہ اَفعال جہنم کی سزا سے اسے بچا نہ سکیں  گے اور  اللہ تعالیٰ ان ظالموں  کو ایسی ہی سزا دیتا ہے جو اس کے سوا معبود ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں(اور جب فرشتوں  کے بارے  اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے تو اے مشرکو! اس بد ترین عمل سے باز نہ آنے کی صورت میں  تمہارا انجام کتنا دردناک ہو گا؟ )

            اور بعض مفسرین فرماتے ہیں  کہ یہ بات’’میںاللہ کے سوا معبود ہوں‘‘ کہنے والا ابلیس ہے جو اپنی عبادت کی دعوت دیتا ہے  ،  فرشتوں  میں  اور کوئی ایسا نہیں  جو یہ کلمہ کہے۔( روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۲۹ ،  ۵ / ۴۶۹ ،  خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۲۹ ،  ۳ / ۲۷۵ ،  ملتقطاً) یاد رہے کہ ابلیس در حقیقت جِنّات میں  سے ہے اور چونکہ وہ فرشتوں  کے ساتھ رہتا تھا اس لیے حکمی طور پر ان ہی میں  سے شمار ہوتا تھا۔

اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَاؕ-وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّؕ-اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ(۳۰)

 



Total Pages: 235

Go To