Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ہیں۔( مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۲۴ ،  ص۷۱۳ ،  روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۲۴ ،  ۵ / ۴۶۶-۴۶۷ ،  ملتقطاً)

 فساد کی سب سے بڑی جڑ :

            اس سے معلوم ہوا کہ حق کے بارے میں  معلومات نہ ہونا اور حق و باطل میں  تمیز نہ کرنا حق سے منہ پھیرنے کا بہت بڑ اسبب اورفساد کی سب سے بڑی جڑ ہے کیونکہ ان ہی دوچیزوں  کا یہ نتیجہ ہے کہ کئی لوگ کفر و شرک جیسے عظیم فساد میں  مبتلا ہیں   ، بعض افراد منافقت کے بد ترین مرض کا شکار ہیں   ، بعض مسلمان ریا کاری ،  نفسانی خواہشات کی پیروی اور دنیا کی محبت میں  گرفتار ہیں  ،  بعض پڑھے لکھے جاہل حضرات اپنے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنے کے باوجود اسلام کے اَحکام اور ان کی حکمتوں  سے ناواقف ہونے کی وجہ سے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا اور بطورِ خاص سوشل میڈیا پراسلامی احکام اور اسلامی اقدار پر اعتراضات کرنے اور انہیں  انسانیت کے برخلاف ثابت کرنے میں  مصروف ہیں  ،  نیزدینِ اسلام کی تعلیمات سے جہالت کی وجہ سے لوگوں  کی ایک تعداد اپنے باہمی اُمور میں  شریعت کی رعایت کرنے سے منہ پھیرے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں  عقلِ سلیم عطا فرمائے  ، حق کا علم  ،  حق و باطل میں  تمیز کرنے  ،  حق کو اختیار کرنے اور باطل سے منہ پھیر لینے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ(۲۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول نہ بھیجا مگر یہ کہ ہم اس کی طرف وحی فرماتے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں  تو مجھی کو پوجو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول نہ بھیجا مگر یہ کہ ہم اس کی طرف وحی فرماتے رہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں  تو میری ہی عبادت کرو۔

{وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا:اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول نہ بھیجا مگر۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، ہم نے آپ سے پہلے جس امت کی طرف کوئی رسول اور نبی بھیجا  ، ہم اس کی طرف وحی فرماتےرہے کہ زمین و آسمان میں  میرے علاوہ کوئی معبود نہیں  جو عبادت کئے جانے کامستحق ہو ،  تو اخلاص کے ساتھ میری عبادت کرو اور صرف مجھے ہی معبود مانو۔( تفسیر طبری ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۲۵ ،  ۹ / ۱۶)

آیت ’’وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:

            اس آیت سے تین باتیں  معلوم ہو ئیں

(1)…ہر نبی عَلَیْہِ  السَّلَام پر وحی آتی تھی۔ نبوت کے لئے وحی لازم و ضروری ہے۔

(2)… تمام اَنبیاء اور رُسُل عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو مبعوث فرمانے کی بنیادی حکمت  اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو ثابت کرنا اور اخلاص کے ساتھ  اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے۔

(3)…تمام اَنبیاء اور رُسُل عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام عقائد میں  متفق ہیں   ، اعمال میں  فرق ہے۔کسی نبی عَلَیْہِ  السَّلَامکے دین میں  شرک جائز نہیں  ہوا  ،  لہٰذا سجدہِ تعظیمی شرک نہیں  کیونکہ بعض انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانے میں  یہ ہوا ہے البتہ ہماری شریعت میں  حرام ضرور ہے۔

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗؕ-بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ(۲۶) لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ(۲۷)

ترجمۂ کنزالایمان:اور بولے رحمٰن نے بیٹا اختیار کیا پاک ہے وہ بلکہ بندے ہیں  عزت والے ۔بات میں  اس سے سبقت نہیں  کرتے اور وہ اسی کے حکم پر کاربند ہوتے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور کافروں  نے کہا: رحمٰن نے اولاد بنالی ہے۔وہ پاک ہے ،  بلکہ (فرشتے)عزت والے بندے ہیں۔ وہ کسی بات میں   اللہ سے سبقت نہیں  کرتے اور وہ اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں ۔

{وَ قَالُوْا:اور کافروں  نے کہا۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ یہ آیت خزاعہ قبیلے کے بارے میں  نازِل ہوئی جنہوں  نے فرشتوں  کو خدا کی بیٹیاں  کہا تھا ۔ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کافر فرشتوں  کو  اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دیتے ہیں  جبکہ  اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے پاک ہے کہ اس کے اولاد ہو۔ فرشتے  اللہ تعالیٰ کی اولاد نہیں  بلکہ وہ اس کے برگزیدہ اور مکرم بندے ہیں ، وہ کسی بات میں   اللہ تعالیٰ سے سبقت نہیں  کرتے ، صرف وہی بات کرتے ہیں  جس کا  اللہ تعالیٰ انہیں  حکم دیتا ہے اور وہ کسی اعتبار سے  اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت نہیں  کرتے بلکہ اس کے ہر حکم پر عمل کرتے ہیں۔(خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۲۶-۲۷ ،  ۳ / ۲۷۵)

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یَشْفَعُوْنَۙ-اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ(۲۸)

ترجمۂ کنزالایمان:وہ جانتا ہے جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور شفاعت نہیں  کرتے مگر اس کے لیے جسے وہ پسند فرمائے اور وہ اس کے خوف سے ڈر رہے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:وہ جانتا ہے جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ صرف اسی کی شفاعت کرتے ہیں  جسے  اللہ پسند فرمائے اور وہ اس کے خوف سے ڈر رہے ہیں ۔

{یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ:وہ جانتا ہے جو ان کے آگے ہے۔} اس آیت کی تفسیر میں  ایک قول یہ ہے کہ جو کچھ فرشتوں  نے کیا اور جو کچھ وہ آئندہ کریں  گے سب کچھ  اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ جانتاہے کہ فرشتوں  کی تخلیق سے پہلے کیاتھااوران کی تخلیق کے بعد کیاہوگا۔( بغوی ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۲۸ ،  ۳ / ۲۰۴)

{وَ لَا یَشْفَعُوْنَۙ-اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى:اور وہ صرف اسی کی شفاعت کرتے ہیں  جسے  اللہ پسند فرمائے۔}حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ ’’ لِمَنِ ارْتَضٰى‘‘سے وہ لوگ مراد ہیں  جو توحید کے قائل ہوں ۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے ہر وہ شخص مراد ہے جس سے  اللہ تعالیٰ راضی ہو(جن کا مسلمان ہونا بہرحال ضروری ہے۔)( خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۲۸ ،  ۳ / ۲۷۵)

فرشتے دنیا میں  شفاعت کرتے ہیں  اور آخرت میں  بھی کریں  گے:

            یاد رہے کہ فرشتے دنیا میں  بھی شفا عت کرتے ہیں   ، کیونکہ وہ زمین پر رہنے والے ایمان والوں  کے لئے  اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگتے ہیں   ، جیساکہ ایک اور مقام پر  اللہ تعالیٰ ارشاد



Total Pages: 235

Go To