Book Name:Sirat ul jinan jild 6

لَا یُسْــٴَـلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْــٴَـلُوْنَ(۲۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اس سے نہیں  پوچھا جاتا جو وہ کرے اور ان سب سے سوال ہوگا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  اللہ سے اس کام کے متعلق سوال نہیں  کیا جاتا جو وہ کرتا ہے اور لوگوں  سے سوال کیا جائے گا۔

{لَا یُسْــٴَـلُ عَمَّا یَفْعَلُ: اللہ سے اس کام کے متعلق سوال نہیں  کیا جاتا جو وہ کرتا ہے۔}یعنی  اللہ تعالیٰ کی عظمت وشان یہ ہے کہ وہ جو کام کرتا ہے اس کے بارے میں   اللہ تعالیٰ سے پوچھا نہیں  جا سکتا کیونکہ وہ حقیقی مالک ہے ،  جو چاہے کرے  ،  جسے چاہے عزت دے اورجسے چاہے ذلت دے  ،  جسے چاہے سعادت دے اورجسے چاہے بدبخت کرے ،  وہ سب کا حاکم ہے اور کوئی اس کا حاکم نہیں  جو اس سے پوچھ سکے۔( مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۲۳ ،  ص۷۱۳ ،  خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۲۳ ،  ۳ / ۲۷۴ ،  ملتقطاً)

             یہاں  پوچھنے سے مراد سرزنش اور حساب کا پوچھنا ہے یعنی کسی مخلوق کی جرأت نہیں  کہ رب عَزَّوَجَلَّسے عتاب کی پوچھ گچھ کرے بلکہ رب تعالیٰ ان سے پوچھ گچھ کرے گا۔البتہ  اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اطمینانِ قلب یاکشف ِحقیقت کے لیے سوال کرسکتے ہیں  جیساکہ قرآنِ مجید  ، فرقانِ حمید میں  ہی حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کااطمینانِ قلب کے لیے مُردوں  کوزندہ کرنے کاسوا ل کرنا منقول ہے یا فرشتوں  نے رب تعالیٰ سے حضرت آدمعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی پیدائش کی حکمت پوچھی تھی۔البتہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ سوال اگرچہ حسنِ نیت سے ہولیکن کسی دوسری حکمت کی وجہ سے مُطْلَقاً ہی سوال سے منع کردیا جاتا ہے جیسا کہ اس کے متعلق بھی روایات موجود ہیں ۔

بد ترین اعتراضات اور ان کا انجام:

            یاد رہے کہ سب سے بد ترین اعتراض یہ ہے کہ کوئی  اللہ تعالیٰ کے کسی فعل پر اعتراض کرے  ، جیسے شیطان نے  اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی مخلوق یعنی حضرت آدمعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر اعتراض کیا تواس کی تمام تر عبادت و ریاضت اور مقامو مرتبے کے باوجودبارگاہ ِ الہٰی سے اسے مَردُود و رسوا کر کے نکال دیا گیا ،  جب  اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی مخلوق پر اعتراض کا یہ انجام ہے تو جو  اللہ تعالیٰ کی شان اور ا س کے افعال وصفات پر اعتراض کرنے کی جرأت کرے گا اس کا کیا حال ہو گا۔

            اسی طرح نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر اعتراض کرنا بھی بہت بد ترین ہے کیونکہ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنی خواہش سے کچھ کہتے ہیں  نہ کرتے ہیں  بلکہ جو کہتے اور کرتے ہیں  سب  اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ،  تو آپ پر اعتراض کرنا  اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرنا ہے اور اس میں  ہلاکت و بربادی ہے ، جبکہ  اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور بزرگ علماء پر اعتراض کرنا خیر و بھلائی سے محروم کر دیتا ہے  ،  ان کی صحبت کی برکت اور علم میں  اضافہ ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ تو اعتراض کرنے والوں  کا دُنْیَوی انجام ہے اور آخرت میں  ان کا حال یہ ہو گا کہ  اللہ تعالیٰ ان سے کلام فرمائے گا نہ ان کی طرف رحمت کی نظر فرمائے گا اور ان کے لئے جہنم کا دردناک عذاب ہو گا۔( روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۲۳ ،  ۵ / ۴۶۵-۴۶۶ ،  ملخصاً)

{وَ هُمْ یُسْــٴَـلُوْنَ:اور لوگوں  سے سوال کیا جائے گا۔}ارشاد فرمایا کہ لوگوں  سے ان کے کاموں  کے بارے میں  سوال کیا جائے گا اور قیامت کے دن ان سے کہا جائے گا کہ تم نے یہ کام کیوں  کیا؟ کیونکہ سب اس کے بندے اوراس کی ملکیت ہیں  اور سب پر اس کی اطاعت وفرمانبرداری لازم ہے۔( خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۲۳ ،  ۳ / ۲۷۴)

             اس آیت سے  اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی ایک اور دلیل بھی معلوم ہوتی ہے کہ جب سب  اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں  تو ان میں  سے کوئی خدا کیسے ہو سکتا ہے کیونکہ ایک ہی چیز مالک اور مملوک نہیں  ہو سکتی۔

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةًؕ-قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْۚ-هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِیَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِیْؕ-بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَۙ-الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ(۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا  اللہ کے سوا اور خدا بنا رکھے ہیں  تم فرماؤ اپنی دلیل لاؤ یہ قرآن میرے ساتھ والوں  کا ذکر ہے اور مجھ سے اگلوں  کا تذکرہ بلکہ ان میں  اکثر حق کو نہیں  جانتے تو وہ رو گرداں  ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا انہوں  نے  اللہ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں ؟تم فرماؤ: تم اپنی دلیل لاؤ۔ یہ قرآن میرے ساتھ والوں  کا ذکرہے اور مجھ سے پہلوں  کا تذکرہ ہے بلکہ اُن کے اکثر لوگ حق کو نہیں  جانتے تو وہ منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔

{اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً:کیا انہوں  نے  اللہ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں ؟}  اللہ تعالیٰ نے کفار کو ڈانٹتے ہوئے اِستفہام کے انداز میں  فرمایا کہ کیا انہوں  نے  اللہ تعالیٰ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں ؟ اے حبیب !صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ ان مشرکین سے فرما دیں  کہ تم اپنے اس باطل دعوے پر اپنی دلیل لاؤ اورحجت قائم کرو خواہ عقلی ہو یا نقلی ،  مگر تم نہ کوئی عقلی دلیل لا سکتے ہو جیسا کہ مذکورہ بالا دلائل سے ظاہر ہو چکا اور نہ کوئی نقلی دلیل پیش کر سکتے ہو  ، کیونکہ تمام آسمانی کتابوں  میں   اللہ تعالیٰ کی توحید کا بیان ہے اور سب میں  شرک کوباطل قرار دیا گیا اور ا س کا رد کیا گیا ہے ۔( خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۲۴ ،  ۳ / ۲۷۴ ،  مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۲۴ ،  ص۷۱۳ ،  ملتقطاً)

{هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِیَ:یہ قرآن میرے ساتھ والوں  کا ذکرہے۔} ساتھ والوں  سے مرادحضور پُر نورصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت ہے  ،  قرآنِ کریم میں  اس کا ذکر ہے کہ اس کو طاعت پر کیا ثواب ملے گا اور معصیت پر کیا عذاب کیا جائے گا ۔پہلوں  سے مراد یہ ہے کہ پہلے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی امتوں  کا اور اس کا تذکرہ ہے کہ دنیا میں  ان کے ساتھ کیا کیا گیا اور آخرت میں  کیا کیا جائے گا۔حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَافرماتے ہیں  کہ ساتھ والوں  کے ذکر سے مراد قرآنِ مجید ہے اور پہلوں  کے ذکر سے مراد تورات اور انجیل ہے  ، اور معنی یہ ہے کہ تم قرآن ،  تورات ،  انجیل اور تمام (آسمانی) کتابوں  کی طرف رجوع کرو ،  کیا تم ان میں  یہ بات پاتے ہو کہ  اللہ تعالیٰ نے اولاد اختیار کی یا اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟( خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۲۴ ،  ۳ / ۲۷۵)

{بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَۙ-الْحَقَّ:بلکہ اُن کے اکثر لوگ حق کو نہیں  جانتے ۔} اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار کے عوام کا حال یہ کہ وہ حق کو جانتے نہیں  اور بے شعوری و جہالت کی وجہ سے حق سے منہ پھیرے ہوئے ہیں  اور ا س بات پرغور و فکر نہیں  کرتے کہ توحید پر ایمان لانا ان کے لئے کتنا ضروری ہے جبکہ ان کے علماء جان بوجھ کر عناد کی وجہ سے حق کے منکر



Total Pages: 235

Go To