Book Name:Sirat ul jinan jild 6

{یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ:رات اوردن اس کی پاکی بیان کرتے ہیں ۔}یعنی فرشتے ہر وقت  اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور پاکی بیان کرتے رہتے ہیں  اور اس میں  وہ کسی طرح کی سستی نہیں  کرتے۔( خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۲۰ ،  ۳ / ۲۷۳)

 فرشتوں  کی تسبیح کی کیفیت:

            علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’فرشتوں  کے لئے تسبیح ایسے ہے جیسے ہمارے لئے سانس لینا تو جس طرح ہمارا کھڑ ا ہونا  ،  بیٹھنا ، کلام کرنا اور دیگر کاموں  میں  مصروف ہونا ہمیں  سانس لینے سے مانع نہیں  ہوتا اسی طرح فرشتوں  کے کام انہیں  تسبیح سے مانع نہیں  ہوتے۔( روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۲۰ ،  ۵ / ۴۶۲)

            اور دلیل کے طور پر آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  نے یہ روایت ذکر فرمائی کہ حضرت عبد اللہ بن حارث رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں :میں  نے حضرت کعب رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُسے اس آیت کے بارے میں  پوچھا کہ کیا فرشتے پیغام رسانی میں  مصروف نہیں  ہوتے؟ کیا وہ دیگر کاموں  میں  مشغول نہیں  ہوتے؟ (اورجب وہ ان چیزوں  میں  مصروف ہوتے ہیں  تو پھر ہر وقت وہ تسبیح کس طرح کرتے ہیں ) حضرت کعب رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا ’’ فرشتوں  کے لیے تسبیح کو ایسے بنایا گیا ہے جیسے تمہارے لیے سانس بنائی گئی ہے ۔کیا آپ کھاتے  ، پیتے  ، آتے جاتے اور بولتے وقت سانس نہیں  لے رہے ہوتے ؟ بالکل یہی کیفیت ان کی تسبیح کی ہے۔( شعب الایمان ،  الثالث من شعب الایمان۔۔۔ الخ ،  فصل فی معرفۃ الملائکۃ ،  ۱ / ۱۷۸ ،  روایت نمبر:  ۱۶۱)

قرب و شرف رکھنے والوں  کا وصف:

            علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  اس آیت کے تحت فرماتے ہیں  ’’فرشتوں  کے بارے میں  یہ خبر دینے سے مقصود مسلمانوں  کو  اللہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت کرنے پر ابھارنا اور کافروں  کو  اللہ تعالیٰ کی اطاعت وعبادت ترک کرنے پر شرم دلانا ہے کیونکہ عبادت اور تسبیح کرنا قرب اور شرف رکھنے والے لوگوں  کا وصف ہے اور اسے چھوڑ دینا ( اللہ تعالیٰ کی

رحمت سے )دور ہونے والے اور ذلیل لوگوں  کا شیوہ ہے۔( تفسیر صاوی ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۲۰ ،  ۴ / ۱۲۹۴)

                لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کے مقرب بندوں  کے طریقے پر چلتے ہوئے  اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی اطاعت کرنے میں  مصروف رہے اور اس سلسلے میں  کسی طرح کی شرم وعار محسوس نہ کرے ۔

اَمِ اتَّخَذُوْۤا اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ هُمْ یُنْشِرُوْنَ(۲۱)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا انہوں  نے زمین میں  سے کچھ ایسے خدا بنالئے ہیں  کہ وہ کچھ پیدا کرتے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا انہوں  نے زمین میں  سے کچھ ایسے معبود بنالئے ہیں  جومردوں  کو زندہ کرتے ہوں ؟

{اَمِ اتَّخَذُوْۤا اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ:کیا انہوں  نے زمین میں  سے کچھ ایسے معبود بنالئے ہیں ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کیا کافروں  نے زمین کے جواہر اور معدنیات جیسے سونے چاندی اور پتھر وغیرہ سے کچھ ایسے معبود بنالئے ہیں  جو مُردوں  کو زندہ کرنے کی قدرت رکھتے ہیں  ؟ایسا تو نہیں  ہے اور نہ ہی یہ ہو سکتا ہے کہ جو خو دبے جان ہو وہ کسی کو جان دے سکے ،  تو پھر ان چیزوں  کو معبود ٹھہرانا اور اِلٰہ قرار دینا کتنا کھلا باطل ہے ۔ معبود وہی ہے جو ہر شے پر قادر ہو اور جو زندگی موت دینے اورنفع نقصان پہنچانے پر ہی قادر نہیں  تو اسے معبود بنانے کو کون سی عقل جائز قرار دے سکتی ہے۔( مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۲۱ ،  ص۷۱۲-۷۱۳ ،  تفسیر کبیر ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۲۱ ،  ۸ / ۱۲۷ ،  ملتقطاً)

لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَاۚ-فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ(۲۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اگر آسمان و زمین میں   اللہ کے سوا اور خدا ہوتے تو ضرور وہ تباہ ہوجاتے تو پاکی ہے  اللہ عرش کے مالک کو ان باتوں  سے جو یہ بناتے ہیں  ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اگر آسمان و زمین میں   اللہ کے سوا اورمعبود ہوتے تو ضرور آسمان و زمین تباہ ہوجاتے تولوگوں  کی بنائی ہوئی باتوں  سے  اللہ پاک ہے جوعرش کا مالک ہے۔

{ لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا:اگر آسمان و زمین میں   اللہ کے سوا اور معبود ہوتے تو ضرور آسمان و زمین تباہ ہوجاتے ۔} اس آیت میں   اللہ تعالیٰ کے واحد معبود ہونے کی ایک قطعی دلیل بیان کی گئی ہے ،  اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر آسمانوں  یازمین پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور خدا ہوتا تو سارے عالَم کانظام درہم برہم ہوجاتا ،  کیونکہ اگر خدا سے وہ خدا مراد لئے جائیں  جن کی خدائی کا بت پرست اعتقاد رکھتے ہیں  تو عالَم کے فساد کا لازم ہونا ظاہر ہے کیونکہ بت پرستوں  کے خدا جمادات ہیں  اوروہ عالَم کا نظام چلانے پر اَصْلاً قدرت نہیں  رکھتے  ، تو جب قدرت ہی کچھ نہیں  تو وہ کائنات کو کیسے چلاتے ؟ اور اگر خدا سے مُطْلَقاً وہ سارے خدا مراد ہوں  جنہیں  کوئی بھی مانتا ہے تو بھی جہان کی تباہی یقینی ہے  ، کیونکہ اگر دو خدا فرض کئے جائیں  تو دو حال سے خالی نہیں   ، (1)وہ دونوں  کسی شے پرمتفق ہوں  گے۔(2)وہ دونوں  کسی شے پر مختلف ہوں  گے۔ اگر ایک چیز پر متفق ہوئے تواس سے لازم آئے گا کہ ایک چیز دونوں  کی قدرت میں  ہو اور دونوں  کی قدرت سے واقع ہو۔ یہ محال ہے ،  اور اگر مختلف ہوئے تو ایک چیز کے بارے میں  دونوں  کے ارادوں  کی مختلف صورتیں  ہوں  گی ،  (۱) دونوں  کے ارادے ایک ساتھ واقع ہوں  گے۔اس صورت میں  ایک ہی وقت میں  وہ چیز موجود اور معدوم دونوں  ہوجائے گی ۔ (۲) دونوں  کے ارادے واقع نہ ہوں ۔ اس صورت میں  وہ چیز نہ موجود ہو گی نہ معدوم۔ (۳) ایک کا ارادہ واقع ہو اور دوسرے کا واقع نہ ہو۔ یہ تمام صورتیں  محال ہیں  کیونکہ جس کی بات پوری نہ ہوگی وہ خدا نہیں  ہوسکتا حالانکہ جو صورت فرض کی گئی ہے وہ خدا فرض کرکے کی گئی ہے ،  تو ثابت ہوا کہ بہر صورت ایک سے زیادہ خدا ماننے میں  نظامِ کائنات کی تباہی اورفساد لازم ہے۔(تفسیرکبیر ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۲۱ ،  ۸ / ۱۲۷ ،  ملخصاً)

             اللہ تعالیٰ کی وحدانیت سے متعلق یہ انتہائی مضبوط دلیل ہے اور اسے بیان کرنے کے مختلف انداز بڑی تفصیل کے ساتھ علمِ کلام کے ماہر علماء کی کتابوں  میں  مذکور ہیں  ،  عوام کی تفہیم کے لئے اتنا ہی کافی ہے جتنابیان کیا گیا البتہ جو علمائِ کرام اس کی مزید تفصیلات جاننا چاہیں  وہ علمِ کلام کے معتبر اور با اعتماد ماہرین کی لکھی ہوئی کتابوں  کی طرف رجو ع فرمائیں۔

{فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ:تو  اللہ پاک ہے ۔}یعنی عرش کا مالک  اللہ تعالیٰ اپنے بارے میں  لوگوں  کی بنائی ہوئی ان تمام باتوں  سے پاک ہے جو اس کی شان کے لائق نہیں   ، لہٰذا نہ ا س کی کوئی اولاد ہے اور نہ ہی کوئی اس کا شریک ہے۔

 



Total Pages: 235

Go To