Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ترجمۂ کنزالایمان: ان کے جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں  گم گئی اور وہ اس خیال میں  ہیں  کہ ہم اچھا کام کررہے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:وہ لوگ جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں  برباد ہو گئی حالانکہ وہ یہ گمان کررہے ہیں  کہ وہ اچھا کام کررہے ہیں ۔

{اَلَّذِیْنَ:وہ لوگ۔} اس سے پہلی آیت میں  اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ خسارے والے لوگوں  کی خبر دینے کے بارے میں  فرمایا ،  اب ا س آیت میں  فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں  جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں  برباد ہو گئی اور عمل باطل ہوگئے حالانکہ وہ اس گمان میں  ہیں  کہ وہ اچھا کام کررہے ہیں  جو انہیں  آخرت میں  نفع دے گا۔( روح البیان ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۱۰۴ ،  ۵ / ۳۰۴)

بدکار سے زیادہ بد نصیب:

            یہ آیتِ مبارکہ بنیادی طور پر تو کافروں  کے متعلق ہے لیکن اس سے اشارتاً یہ بھی معلوم ہوا کہ بدکار سے زیادہ بد نصیب وہ نیکوکار ہے جو محنت مشقت اٹھا کر نیکیاں  کرے مگر اس کی کوئی نیکی اس کے کام نہ آئے ،  وہ اس دھوکے میں  رہے کہ میں نیکو کار ہوں ۔ ہم اس سے  اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں ۔

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآىٕهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا(۱۰۵)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ لوگ ہیں  جنہوں  نے اپنے رب کی آیتیں  اور اس کا ملنا نہ مانا تو ان کا کیا دھرا سب اکارت ہے تو ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی تول نہ قائم کریں  گے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہی وہ لوگ ہیں  جنہوں  نے اپنے رب کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا تو ان کے سب اعمال برباد ہوگئے پس ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی وزن قائم نہیں کریں  گے۔

{اُولٰٓىٕكَ:یہ لوگ۔} ارشاد فرمایا کہ کثیر نیک اعمال کے باوجود خسارے کاشکار ہونے والے  ، یہی وہ لوگ ہیں  جنہوں  نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا  ،  رسول اور قرآن پر ایمان نہ لائے اور مرنے کے بعد اٹھائے جانے ،  حساب  ، ثواب اور عذاب کے منکر رہے تو ان کے سب اعمال برباد ہوگئے اور انہیں  ان اعمال پر کوئی ثواب نہ ملے گا۔( روح البیان ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۱۰۵ ،  ۵ / ۳۰۵ ،  خازن ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۱۰۵ ،  ۳ / ۲۲۷ ،  ملتقطاً)

{فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا:پس ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی وزن قائم نہیں کریں  گے۔} وزن قائم نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن ان کے ظاہری نیک اعمال کی کوئی قدر وقیمت ہو گی اور نہ ہی ان میں  کوئی وزن ہو گا اور جب میزانِ عمل میں  ان کے ظاہری نیک اعمال اور کفر و مَعْصِیَت کا وزن ہو گا تو تمام ظاہری نیک اعمال بے وزن ثابت ہوں  گے کیونکہ نیک اعمال کی قدر و قیمت اور ان میں  وز ن کا دار ومدار ایمان اور اخلاص پر ہے اور جب یہ لوگ ایمان اور اخلاص سے ہی خالی ہیں  تو ان کے اعمال میں  وزن کہاں  سے ہو گا۔ کفار کے اعمال کے بارے میں  ایک اور مقام پر  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے

’’وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا‘‘(فرقان:۲۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور انہوں  نے جو کوئی عمل کیا ہوگا ہم اس کیطرف قصد کرکے باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذروں  کی طرح (بے وقعت) بنادیں  گے جو روشندان کی دھوپ میں  نظر آتے ہیں ۔

            اور حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُسے روایت ہے ،  نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’قیامت کے دن ایک بہت ہی موٹے تازے آدمی کو جب  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  پیش کیا جائے گا تو ( اتنا بھاری بھر کم ہونے کے باوجود)  اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا وزن ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہو گا ،  اور فرمایا کہ یہ آیت پڑھ لو

’’فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان:پس ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی وزن قائم نہیں  کریں  گے۔( بخاری ،  کتاب التفسیر ،  باب اولئک الذین کفروا بآیات ربّہم ولقائہ فحبطت اعمالہم ،  ۳ / ۲۷۰ ،  الحدیث: ۴۷۲۹)

اعمال میں  وزن سے محروم ہونے والے لوگ:

            یاد رہے کہ کافروں  کے ظاہری نیک اعمال تو قیامت کے دن بے وزن ہی ہوں  گے البتہ بعض مسلمان بھی ایسے ہوں  گے جو اپنے نیک اعمال میں  وزن سے محروم ہو جائیں  گے  ،  جیسا کہ حضرت ثوبان رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’میں  اپنی امت میں  سے ان قوموں  کو جانتا ہوں  کہ جب وہ قیامت کے دن آئیں  گے تو ان کی نیکیاں  تِہامہ کے پہاڑوں  کی مانند ہوں  گی لیکن  اللہ تعالیٰ انہیں  روشندان سے نظر آنے والےغبار کے بکھرے ہوئے ذروں  کی طرح (بے وقعت) کر دے گا۔ حضرت ثوبان رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے عرض کی: یا رسولَ  اللہ ! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  ہمارے سامنے ان لوگوں  کا صاف صاف حال بیان فرما دیجئے تاکہ ہم معلومات نہ ہوتے ہوئے ان لوگوں  میں  شریک نہ ہو جائیں ۔ سرکارِ دو عالَم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’وہ تمہارے بھائی ،  تمہارے ہم قوم ہوں  گے ۔ راتوں  کو تمہاری طرح عبادت کیا کریں  گے لیکن وہ لوگ تنہائی میں  برے اَفعال کے مُرتکب ہوں  گے۔( ابن ماجہ ،  کتاب الزہد ،  باب ذکر الذنوب ،  ۴ / ۴۸۹ ،  الحدیث: ۴۲۴۵)

            اور حضرت ابو حذیفہرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُکے آزاد کردہ غلام حضرت سالِم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُفرماتے ہیں  ،  رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’قیامت کے دن کچھ لوگ ایسے آئیں  گے کہ ان کے پاس تہامہ کے پہاڑوں  کے برابر نیکیاں  ہو ں گی ،  یہاں  تک کہ جب انہیں  لایا جائے گا تو  اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو روشندان سے نظر آنے والےغبار کے ذروں  کی طرح (بے وقعت) کر دے گا  ،  پھر انہیں  جہنم میں  ڈال دے گا۔ حضرت سالِم نے عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  میرے ماں  باپ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر قربان ہو جائیں ! ہمیں  ان لوگوں  کا حال بتا دیجئے ؟ ارشاد فرمایا ’’وہ لوگ نماز پڑھتے ہوں  گے  ،  روزے رکھتے ہوں  گے لیکن جب ان کے سامنے کوئی حرام چیز پیش کی جائے تو وہ اس پر کود پڑیں  گے تو  اللہ تعالیٰ ان کے اعمال باطل فرما دے گا۔( حلیۃ الاولیا ،  سالم مولی ابی حذیفۃ ،  ۱ / ۱۳۳ ،  الحدیث: ۵۷۵)

            اور حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ قیامت کے دن بعض لوگ ایسے اعمال لائیں  گے جو اُن کے خیالوں  میں  مکہ مکرمہ کے پہاڑوں  سے زیادہ بڑے ہوں  گے لیکن



Total Pages: 235

Go To