Book Name:Bemar Abid

آنا اور کہنا مراد ہے،  یہ لفظ ایسے موقع پر نہیں بولا جائے گا کہ ایک ہی مرتبہ آیا ہو یا ایک ہی مرتبہ کہا ہو اور اگر ایک مرتبہ آیا اور یہ کہہ دیا کہ ہزار مرتبہ آیا تو جھوٹا ہے۔    (رَدُّالمحتارج۹ص۷۰۵)  {۱}  بعض اوقات بیماری کا تذکرہ کرنے میں ایسا     مبالغہ کیا جاتا ہے کہ عرف و رواج میں لوگ اس حد کی بیماری کو بیان کرنے کیلئے مبالغے کے ایسے الفاظ استعمال نہیں کرتے ،  مَثَلاً:   کسی کو معمولی سی بیماری ہو اُس کے بارے میں کہنا:  ’’ اس کی طبیعت بہت سخت ناساز ہے‘‘ یہ جھوٹ ہے {۲}  اجتماع وغیرہ میں حقیقت میں کسی اور وجہ سے شرکت نہ کی اوراتِّفاق سے کوئی معمولی سی بیماری بھی تھی مگر غیر حاضِری کا سبب بیماری نہ ہونے کے باوُجُود کہنا:  ’’ میں سخت بیمار تھا اِس لئے نہ آ سکا۔   ‘‘ اس جُملے میں گناہ بھرے     دو جھوٹ ہیں !   (الف)  معمولی سی بیماری کو  ’’سخت بیماری‘‘  کہا  (ب)  بیماری کو غیر حاضِری کا سبب قرار دیاحالانکہ سبب کچھ اور تھا {۳}  اسی طرح معمولی بخار ہو اور کہنا:  ’’مجھے اتنا تیز بخار تھا کہ ساری رات سو نہیں سکا‘‘  {۴} کام کے لئے بولیں تو معمولی تھکاوٹ ہونے کے باوُجُود جان چھڑانے کے لئے کہنا:  ’’ میں بہت تھکا ہوا ہوں کسی اور سے کام کا کہہ دیں ‘‘ ہاں صرف اتنا کہا:    ’’تھکا ہوا ہوں ‘‘  تو جھوٹ نہیں ۔     یا  {۵}  معمولی سا درد ہو تب بھی بولنا:   میری ٹانگوں میں شدید درد ہے {۶}  یونہی کورٹ کچہری میں پیشی وغیرہ سے بچنے کے لئے معمولی بیماری کو بڑا بنا کر پیش کرنا مَثَلاًکہنا:   ان کے دل کی شِریان (VEIN)  بند ہے ، دل کا دَورہ پڑ سکتا ہے وغیرہ ۔    

دُکھوں کے باوُجُود نیکیوں بھرے جوابات کی مثالیں

           مزاج پُرسی کرنے میں اکثر رسمی سُوالات کی تکرار ہوتی ہے مَثلاً:   کیا حال ہے؟ خیریت ہے؟  عافیت ہے؟ کیسے ہیں آپ؟صحت کیسی ہے؟ اور سناؤ  طبیعت اچھّی ہے؟ ٹھیک ٹھاک ہیں نا؟کوئی پریشانی تو نہیں ؟وغیرہ وغیرہ ۔   تجرِبہ یِہی ہے کہ عُمُوماً سائل  (یعنی پوچھنے والا) صِرف بولنے کی خاطر بول رہا ہوتا ہے،  حقیقت میں مخاطَب (یعنی جس کی مزاج پُرسی کر رہا ہے اُس)  کی طبیعت سے اُسے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔   اب اگر مَسْؤ ل  (مَس۔   اُوْل)   یعنی جس سے سُوال کیا گیا وہ شخص بیمار، ٹینشن کا شکار، قَرض دار اور مشکِلات سے دو چار ہو اور اپنے اَمراض اور دُکھوں کی فائل کھولدے اور پریشانیوں کی فہرِس بیان کرناشروع کر دے تو خود سائل یعنی مزاج پُرسی کرنے والا امتحان میں پڑ جائے!  لہٰذاجس سے طبیعت پوچھی گئی وہ چاہے تو بہ نیّتِ شکرِ الٰہی مختلف نعمتوں مَثَلاً :   ایمان کی دولت ملنے ، دامنِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے ہاتھ میں ہونے کا تصوُّر باندھ کر اس طرح کے جوابات دیکر ثواب کما سکتا ہے :  {۱}  اَلحَمدُ لِلّٰہ  {۲}  اَلحَمدُ لِلّٰہ علٰی کُلِّ حال (یعنی ہر حال میںاللہ کا شکر ہے )   {۳}  مالک کا بہت کرم ہے {۴} اللہ تعالٰی کی رحمت ہے وغیرہ۔    اِسی طرح اللہ تعالٰیکی عطا کردہ دیگر نعمتوں کے مقابلے میں اپنی تکلیفوں کو کم تر تصوُّر کرتے ہوئے بھی شکرِ الٰہی کینیّت سے یا رحمتِ الٰہی کی اُمّیدپربیان کردہ چار جوابات میں سے کوئی سا جواب دے سکتا ہے ۔    یاد رہے!  اگر بیماری پر توجُّہ ہے لیکن اس کے باوجودبغیر شرعی رُخصت کے اَلحَمدُ للّٰہ،  اَلحَمدُ للّٰہ علٰی کُلِّ حال،  مالک کا کرم ہے یا اسی طرح کاکوئی جملہ کہنا جس سے بیمار ہونے کے باوُجوداسی مرض کے متعلق صحت بہتر بتانا مقصود ہوجس کے بارے میں پوچھا جارہا ہے تو یہ گناہ بھرا جھوٹ ہے۔    

مزاج پُرسی کے جواب میں جھوٹ بولنے کی9مثالیں

   جب کسی سے پوچھا جاتا ہے:   آپ کی طبیعت کیسی ہے؟ تو طبیعت ناساز ہونے کے باوجود بسااوقات اس طرح کے جوابات ملتے ہیں :  {۱}  ٹھیک ہوں  {۲}  بہت ٹھیک ہوں  {۳}  بالکل ٹھیک ہوں  {۴}  طبیعت فرسٹ کلاس ہے {۵}  اے ون طبیعت ہے  {۶} کسی قسم کی تکلیف نہیں  {۷}  مزے میں ہوں  {۸}  ذرّہ برابر بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے  {۹} ایک دَم فِٹ ہوں ۔  

          مریض کی طرف سے دیئے جانے والے مذکورہ 9 جوابات گناہ بھرے جھوٹ ہیں ۔    البتہ مریض کی جواب دینے میں کوئی صحیح تاویل (یعنی بچاؤ  کی سچّی دلیل)  یا دُرُست نیّت ہو تو گناہ سے بچت ممکن ہے مگر عُمُوماً بِغیر کسی نیّت کے ہی مذکورہ اور اس سے ملتے جلتے جھوٹے جوابات دے دیئے جاتے ہیں ۔    اگر بیماری ذِہن میں نہ ہو،  جیسے عارِضی یعنی وقتی طور پر ہو جانے والے آرام پر بسا اوقات انسان اپنی بیماری بھول جاتا ہے،  تو ایسی حالت میں



Total Pages: 20

Go To