Book Name:Bemar Abid

سر درد کے شکرانے میں 400رَکْعَت نَفْل  (حکایت)

          منقول ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا فتح مو صلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الولیکو دردِسرہُوا توخوش ہو کر ارشاد فرمایا:   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے وہ مَرَض عنایت فرمایاجو انبیائے کرام عَلَيْهِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکو درپیش ہوتا تھا لہٰذا اب اس کا شکرانہ یہ ہے کہ میں 400 رَکعَت نفل پڑھوں۔     (152رَحمت بھری حکایات ص۱۷۱)

 بخار اور دردِسر مبارَک  امراض ہیں

        دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ561 صَفحات پر مشتمل کتاب ،   ’’ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت‘‘  صَفْحَہ118پر ہے:   (اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : )  دردِ سر اور بخار وہ مبارَک امراض ہیں جو انبیاء عَلَيْهِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو ہوتے تھے ،   ایک ولِیُّ اللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے دردِ سر ہوا ،  آپ نے اس شکریہ میں تمام رات نوافل میں گزاردی کہ ربُّ العزّت تبارَکَ وَتعالیٰ نے مجھے وہ مرض دیا جو انبیاء عَلَيْهِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  کو ہوتا تھا ۔     اللہُ اَکْبَر!   یہاں  (عوام کی ) یہ حالت کہ اگر برائے نام درد معلوم ہوا تو یہ خیال ہوتا ہے کہ جلد نماز پڑھ لیں ۔   پھر فرمایا :   ہر ایک مرض یا تکلیف جسم کے جس مَوضِع  (یعنی جگہ )  پرہوتی ہے وہ زیادہ کفّارہ اُسی موقع (یعنی مقام)  کا ہے کہ جس کاتعلُّق خاص اِس سے ہے لیکن بخاروہ مرض ہے کہ تمام جسم میں سَرایت کرجاتا ہے جس سے بِاِذْنِہٖ تَعَالٰی (یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم سے )   (بخار)  تمام رَگ رَگ کے گناہ نکال لیتا ہے ۔      (ملفوظات اعلٰی حضرت ص ۱۱۸)  

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

جنَّتی خاتون (حکایت)

     حضرتِ سیِّدُنا عطا ء بن ابو رَباح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے مجھ سے فرمایا:   کیا میں تمہیں ایک جنتی عورت نہ دکھاؤں ؟ میں نے عرض کی:   ضرور دکھائیے۔    فرمایا:   یہ حبشی عورت،  اس نے  نبیِّ کریم،  رء ُوفٌ رَّحیم عَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلاةِ وَالتَّسْلِيْم کی خدمتِ بابَرَکت میں حاضِر ہوکر عرض کی:   یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! مجھے مرگی ([1])  کا مَرَض ہے جس کی وجہ سے میں گر جاتی ہوں اور میرا پردہ کھل جاتا ہے لہٰذا  اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے میرے لئے دعا کیجئے ۔    فرمایا:  ’’ اگر تم چاہو تو صَبْرکرو  اور تمہارے لئے جنّت ہے اوراگر چاہو تو میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دُعا کروں کہ وہ تمہیں عافیت عنایت فرما دے۔    ‘‘  عرض کی :   میں صَبْر کروں گی۔    پھر عرض کی:    (جب مرگی کا دورہ پڑتا ہے)  میرا  پردہ کھل جاتا ہے،  اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا کیجئے کہ میرا پردہ نہ کُھلا کرے ۔   پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس کے لئے دعا فرمائی۔     (بُخاری ج۴ص۶حدیث ۵۶۵۲)

دوا بھی سنّت ہے اور دعا بھی

        مُفَسِّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان  مِرآت جلد2  صَفْحَہ427 پرفرماتے ہیں: اُس مبارَک عورت کا نام سُعَیرہ یاسُقَیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہے بی بی خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی کنگھی چوٹی کی خدمت انجام دیتی تھیں  ( لمعات و مرقات)   (مرگی میں گر جاتی ہوں اورمیرا پردہ کھل جاتا ہے )  کے ضِمْن میں مفتی صاحِب فرماتے ہیں : یعنی گِر کر مجھے تن بدن کا ہوش نہیں رہتا،  دوپٹا وغیرہ اتر جاتا ہے ،  خوف کرتی ہوں کہ کبھی بے ہوشی میں سِتْر نہ کھل جائے۔    آگے چل کر سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف سے اس صحابیہ کو ’’شِفا یا صبر ‘‘  کا اختیار دینے کے تعلُّق سے مفتی صاحِب فرماتے ہیں : اس میں اشارۃً معلوم ہوا کہ کبھی بیماری کی دوا اور مصائب میں دعا نہ کرنا ثواب اور صبر میں شامل ہے اس کا نام خودکشی نہیں ،  خُصوصاً جب پتا لگ جائے کہ یہ



[1]     ایک بیماری جس سے اعضاء میں جھٹکے لگتے ہیں۔



Total Pages: 20

Go To