Book Name:Bemar Abid

                        مُفَسِّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّتحضر  تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّاناِس حدیثِ پاک کے تحت  ’’مرآت ‘‘ جلد2 صَفْحَہ 424 پر فرماتے ہیں : کیونکہ مومن بیماری میں اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے،  وہ سمجھتا ہے کہ یہ بیماری میرے کسی گناہ کی وجہ سے آئی اور شاید یہ آخِری بیماری ہو جس کے بعد موت ہی آئے،  اِس لیے اسے شِفا کے ساتھ مغفِرت بھی نصیب ہوتی ہے۔     (جبکہ)  منافقغافل یہی سمجھتا ہے کہ فلاں وجہ سے میں بیمار ہوا تھا  (مَثَلاً فلاں چیز کھا لی تھی ،   موسم کی تبدیلی کے سبب بیماری آئی ہے،  آج کل اس بیماری کی ہوا چلی ہے وغیرہ)  اور فُلاں دوا سے مجھے آرام ملا  (وغیرہ وغیرہ)  اَسباب میں ایسا پھنسا رہتا ہے کہ مُسَبِّبُ الْاَسباب (یعنی سبب پیدا کرنے والے رب عَزَّ وَجَلَّ)  پر نظر ہی نہیں جاتی،  نہ توبہ کرتا ہے نہ اپنے گناہوں میں غور۔      ( مراٰۃ المناجیح )

مَرَض اُسی نے دیاہے دوا وہی دے گا

کرم سے چاہے گا جب بھی شفا وہی دے گا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

زخمی ہوتے ہی ہنس پڑیں  (حکایت)

    حضرتِ سیِّدُنا فتح موصلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوَلِی کی اَہلیۂ محتر مہ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا ایک مرتبہ زور سے گِریں جس سے ناخن مُبارک ٹوٹ گیا،  لیکن دَرد سے ’’ ہائے ہو ‘‘ کرنے کے بجائے ہنسنے لگیں ! !  کسی نے پوچھا :   کیا زَخم میں دَرد نہیں ہو رہا ؟  فرمایا : ’’ صَبْر کے بدلے میں ہاتھ آنے والے ثواب کی خوشی میں مجھے چوٹ کی تکلیف کا خیال ہی نہ آسکا ۔   ‘‘  (اَلْمُجالَسَۃ لِلدَّیْنَوَرِی   ج ۳ ص ۱۳۴)

          امیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ مولائے کائنات،  علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں :   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عَظَمت اور معرفت کا یہ حق ہے کہ تم اپنی تکلیف کی شکایت نہ کرواور نہ اپنی مصیبت کا تذکرہ کرو۔    ([1])  ( بِلاضَرورت بیماری پریشانی کا دوسروں پراظہار بے صَبری ہے افسوس! معمولی نَزلہ اور زُکام یا دَرد سر بھی ہو جائے توبعض لو گ خوامخواہ ہر ایک کو کہتے پھرتے ہیں )

ٹوٹے گو  سرپہ کوہِ بلا صَبْر کر ،      اے مبلِّغ ! نہ تُو ڈگمگا  صَبْر کر

          لب پہ حرفِ شکایت نہ لا صَبْر کر،          ہاں یہی سنّتِ شاہِ ابرارہے (وسائلِ بخشش (مرمَّم) ص ۴۷۳ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مُصیبت چُھپانے کی فضیلت

   میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!   بیماری اور پریشانی پرشِکوہ کرنے کے بجائے صَبْر کی عادت بنانی چاہئے کہ شکایت کرنے سے مصیبت دُور نہیں ہوجاتی بلکہ بے صبری کرنے سے صَبْرکا اَجرضائِع ہو جاتا ہے۔   بلا ضرورت بیماری و مصیبت کا اِظہار کرنا بھی اچّھی بات نہیں ۔    چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم،  نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرشاد فرمایا:  ’’جس کے مال یا جان میں مصیبت آئی پھر اُس نے اسے چھپایا اور لوگوں سے اس کی شکایت نہ کی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّپر حق ہے کہ اس کی مغفرت فرما دے۔   ‘‘       (مُعْجَم اَ وْسَط  ج ۱ ص ۲۱۴ حدیث ۷۳۷  )

   داڑھ میں درد کے سبب میں سو نہ سکا!  (حکایت )

           حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوَلِینَقْل کرتے ہیں : حضرتِ سیِّدُنا  احنف بن قیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ایک بار میری داڑھ میں شدید درد ہوا جس کے سبب میں ساری رات سو نہ سکا ۔  میں نے دوسرے دن اپنے چچا جان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ



[1]     منہاج القاصدین ومفید الصادقین لابن الجوزی ص۱۰۵۶



Total Pages: 20

Go To