Book Name:Bemar Abid

’’ٹھیک ہوں ‘‘ وغیرہ کہہ دیا تو گناہ نہیں نیزمعمولی مَرَض میں بیماری کو ناقابلِ ذکر سمجھتے ہوئے یا اکثرمَرَض ٹھیک ہو جانے اور معمولی سا رہ جانے کی صورت میں بھی ’’ ٹھیک ہوں ‘‘ کہنے میں حَرَج نہیں البتّہ ایسے موقع پر بالکل ٹھیک ہوں ،  فرسٹ کلاس طبیعت ہے، اے ون ہوں ،  ذرَّہ برابر بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے اور اِسی معنیٰ کے دیگر الفاظ کہنا گناہ بھرا جھوٹ شُمار ہوں گے۔    

اَلحَمدُ لِلّٰہ علٰی کُلِّ حالکہنے کی ایک نیّت

    کسی نے طبیعت پوچھی اور مریض کے منہ سے بِغیر کسی نیّت کے بے اختیار نکلا :   ’’اَلحَمدُ لِلّٰہ ‘‘ تو اس میں حرج نہیں ۔    یا بیماری کی طرف توجُّہ ہونے کے باوُجُود’’ ٹھیک ہوں ‘‘کے معنیٰ میں نہیں بلکہ ہر حال میں شکرِ الٰہی بجالانے کی نیّت سے کہا:   ’’اَلحَمدُ لِلّٰہ علٰی کُلِّ حال‘‘ (یعنی ہر حال میں اللہ کا شکر ہے )  تو اس صورت میں بھی جھوٹ نہیں ۔    

مریض کو تسلی دینے کیلئے بولے جانے والے جھوٹ کی13 مثالیں

 (جو بات سچ کا الٹ ہے وہ جھوٹ ہے)

          ذیل میں جو جملے دئیے جارہے ہیں یہ جھوٹ بھی ہو سکتے ہیں اور نہیں بھی ، یونہی اِن کے بولنے میں رخصت کی صورت بھی ہو سکتی ہے اور نہیں بھی،  لہٰذا اگر کوئی دوسرا شخص یہ جملے بولے تو ہم اُس کے بارے میں گناہ گار ہونے کی بدگمانی نہ کریں البتّہ اپنی حد تک اِس طرح کے جملے بولتے وقت بات کی صداقت اور اپنی نیّت کا خیال رکھیں ۔   سمجھانے کے لئے ایک مثال عرض ہے کہ جیسے ایک آدَمی نے ہمارے سامنے مُرَغّن (یعنی تیل گھی والا)  کھانا کھایااور کسی دوسرے شخص سے کہا کہ میں پرہیز کر رہا ہوں تو ضَروری نہیں یہ کہنا جھوٹ ہو کیونکہ ہو سکتاہے کہ ڈاکٹر نے مہینے میں ایک مرتبہ اِس طرح کھانے کی اجازت دی ہو یا یہ جملہ کہتے وَقت قائل کی  (یعنی کہنے والے کی)  توجّہ اپنے کھانے کی طرف نہ رہی ہو۔   اسی طرح بقیہ جملوں میں بھی بَہُت سے اِحتمالات وقِیاسات ہو سکتے ہیں ۔  

 {۱} آپ تو مَاشَآءَ اللہبہت صبر  (یا ہمت )  والے ہیں  {۲}  آپ نے تو بڑے بڑے دُکھ اٹھائے ہیں مگر کبھی ’’اُف‘‘ تک نہیں کیا {۳} آپ نے تو ہمیشہ صبر ہی کیا ہے  {۴}  واہ!  بھئی !       واہ! آپ کے چہرے پر تو ’’پانی‘‘ آ گیاہے {۵} مَاشَآءَ اللہ اب توآپ بالکل ٹھیک ہو چکے ہیں!   {۶}  آپ تو بیمار لگ ہی نہیں رہے!  {۷}  آپ کی بیماری بھاگ گئی ہے!   {۸}  نہیں !  نہیں !  آپ کو تو کچھ بھی نہیں ہوا ہے {۹}  مبارک ہو! آپ کی ساری رپورٹیں کلئیر آئی ہیں  {۱۰}  تشویشناک مرض پر مطّلع ہونے کے باوُجُود کہنا: ’’گھبرانے کی کوئی بات نہیں ، ڈاکٹر تو خوامخواہ ہی ڈرا دیتے ہیں ‘‘  {۱۱} فُلاں کو بھی یہ مرض ہوا تھا دو دن میں ٹھیک ہوگیا تھا تم بھی جلدی ٹھیک ہوجاؤ گے  (جس مریض کا حوالہ دے رہے ہوتے ہیں اس کا حقیقت کی دنیا میں کوئی وجود نہیں ہوتا )  {۱۲}  بخار میں تپتے مریض کی نبض پر ہاتھ رکھ کرجان بوجھ کر کہنا: ’’نہیں بھائی! نہیں !  تمہیں کوئی بُخار ُوخار نہیں ہے‘‘ {۱۳} دل کی تائید نہ ہونے کے باوُجُود   محض تسلی دینے کیلئے سخت بیمار سے کہنا: ’’بھائی!  تم تو چھوٹی سی بیماری میں دل ہار بیٹھے ! ‘‘

مریض کے جھوٹ بولنے کی13مثالیں

 (جو بات سچ کا الٹ ہے وہ جھوٹ ہے)

 {۱} کینسر وغیرہ کے اندیشے کے موقع پر کہنا: ’’ مجھے اپنی بیماری کی کوئی پروا نہیں ،   بسچھوٹے چھوٹے بچّوں کی فکر ہے‘‘ {۲} میرے پاس بالکل گنجائش نہیں ،  میں علاج کا خرچ برداشت کر ہی نہیں سکتا (حالانکہ اچھی خاصی رقم جمع کرکے رکھی ہوتی ہے)   {۳} گنجائش ہونے کے باوُجُود لوگوں کی ہمدردیاں لینے کیلئے کہنا:   میرے پاس کھانے کو پیسے نہیں ہیں علاج کیلئے کہاں سے لاؤ ں !  {۴} میں فل پرہیزی کر رہا ہوں  ( حالانکہ کہیں دعوت ہو تو’’جناب‘‘سب سے پہلے جا پہنچتے ہیں)  {۵}  ڈاکٹر صاحب!  بالکل ٹائم ٹُوٹا ئم دوا پی رہا ہوں  ( حالانکہ خوب ناغے کر رہے ہوتے ہیں)   {۶} شوگر کے مریض کاکہنا:   میں مٹھائی تو چکھتا تک نہیں  ( جب کہ بے چارے مٹھائی کھانے سے باز نہیں رہ پارہے ہوتے )  {۷} کسی بھاری بھر کم



Total Pages: 20

Go To