Book Name:Islam kay Bunyadi Aqeeday

پیدا ہی محض اللّٰہ تعالیٰ کا حکم ماننے کے لیے کیے گئے ہیں ،  وہ کیوں ،  کیسے،  کیا،  اس طرح کے سوال اللّٰہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر نہیں پوچھتے وہ مکمل طور پر اللّٰہ تعالیٰ کی اِطاعت میں رہتے ہیں ۔

          دو فرشتے ہمیشہ انسان کے ساتھ اس کے دونوں کندھوں پرہوتے ہیں ،  ان کو کراماً کاتبین کہتے ہیں ،  وہ اچھے بُرے اَعمال لکھتے ہیں ،  دوسرے دو مشہور فرشتے منکر اور نکیر ہیں ،  میت کو دفنا دینے کے بعد یہ فرشتے میت سے ایمان کے متعلق تین سوال پوچھتے ہیں :

          سوال نمبر۱: تیرا رب کون ہے ؟

          سوال نمبر۲:  تیرا دین کیا ہے؟

          سوال نمبر۳:  اس ذات کے بارے میں تو کیا کہا کرتا تھا؟ (حضرت محمد صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف اشارہ کرتے ہوئے) ۔

جِنّ

          ایک دوسری طاقتور مخلوق جس کو جن کہا جاتا ہے یہ آگ سے بنائے گئے ہیں ،  کچھ ایسے ہیں کہ وہ کوئی بھی شکل و صورت اختیار کرسکتے ہیں ،  ان کی زندگیاں بہت لمبی ہوتیں ہیں اور کچھ چیزیں ان کی انسانوں کی طرح ہوتی ہیں جیسے عقل ا ور روح،  وہ کھاتے،  پیتے،  شادیاں کرتے ہیں اور ان کی بھی اولاد ہوتی ہے،  انسانوں کی طرح انتقال بھی کرتے ہیں ،  اُن میں مسلمان بھی ہیں غیر مسلم بھی، صحیح العقیدہ بھی اور بد مذہب بھی،  سب جنوں کو بُرا سمجھنا سختی سے منع کیا گیا ہے۔  ([1])

اللّٰہ تعالٰی کی کتابوں پر ایمان

          ساری آسمانی کتابیں سچی ہیں اور جو احکام اللّٰہ تعالیٰ نے ان میں دیئے ہیں ان پر ایمان لانا ضروری ہے البتہ قرآنِ پاک کے علاوہ دیگر کتابوں میں تبدیلی اور تحریف کی وجہ سے ان کی موجودہ عبارتوں پر سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا ہے۔

          اُن مقدس کتابوں کی حفاظت کا ذمہ ان کتابوں کے ماننے والوں کو دیا گیا تھا،  بجائے اس کے کہ وہ لوگ کتابوں کو سینوں اور تختیوں میں محفوظ کرتے کتابوں میں تبدیلیاں کرنے لگ گئے ،  نتیجہ یہ نکلا کہ ان کتابوں سے اعتماد اٹھ گیا کیونکہ وہ ایسی نہ رہیں جیسے نازل ہوئی تھیں ۔

           لوگوں نے اپنے مفاد کی خاطر ان کتابوں کے الفاظ،  حروف اور معانی تبدیل کر دیئے اور اپنی خواہشات کے مطابق کتابوں میں کمی بیشی کر ڈالی،  آسمانی کتابوں میں اس طرح کی تبدیلی کو تحریف کہتے ہیں ،  اس لیے مناسب یہ ہے کہ جب ہمارے سامنے کوئی ایسی چیز آئے کہ جس کا ذکر پچھلی کتابوں میں ہے ہم اسے صرف اس صورت میں قبول کریں گے کہ وہ قرآن پاک کے ساتھ مطابقت رکھتی ہو،  لیکن اگر وہ چیز قرآن پاک کی تعلیمات سے ٹکراتی ہے تو اس کو تحریف کا نتیجہ سمجھیں گے۔

          لہٰذا اگر پچھلی کتابوں کے حوالے سے کوئی چیز ہمارے سامنے آئے تووہ چیز قرآن پاک سے مطابقت رکھتی ہے یا نہیں اس کی تحقیق کیے بغیر ہم نہ تو فوراً اُسے قبول کرلیں اور نہ ہی انکار کریں ،  اس معاملہ میں احتیاط کا دامن پکڑے رہنابہت ضروری ہے۔

قرآنِ مجیداللّٰہ تعالٰی کا آخری کلام ہے

          اللّٰہ تعالیٰ نے کئی مقدس کتابیں اور صحیفے اپنے انبیاءعَلَیْہِمُ السَّلَام کے ذریعے سے انسانوں کو عطا فرمائے،  ان میں سے چار کتابیں



[1]    بہار شریعت، حصہ ۱ ،۱ / ۹۶، ماخوذًا



Total Pages: 55

Go To