Book Name:Islam kay Bunyadi Aqeeday

ذہن سے اس معاملے پر غور کرے اور اس آیت کے تاریخی پس منظر کو سامنے رکھے تو وہ ضرور اس بات سے اتفاق کرے گا کہ یہ آیت اس بات کی شہادت کے طور پر پیش نہیں کی جاسکتی کہ اسلام قتل و غارت،  خون بہانے اور بربریت کی ترغیب دیتا ہے اور جو لوگ دائرۂ اسلام میں داخل نہیں ہیں ان کے قتلِ عام کا حکم دیتا ہے۔

          اس سے اگلی آیت اس اعتراض کا جواب دیتی ہے،  اللّٰہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ۠ (۶)   (پ۱۰،  التوبہ: ۶)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور اے محبوب اگر کوئی مشرک تم سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دوکہ وہ اللّٰہ کا کلام سنے پھر اُسے اس کی امن کی جگہ پہنچادو یہ اس لئے کہ وہ نادان لوگ ہیں ۔

قرآن پاک صرف اس بات کی ہدایت نہیں دیتا کہ جو مشرک پناہ مانگے اس کو پناہ دو بلکہ اُس کی حفاظت کی بھی ضمانت دیتا ہے،  آج کے دور میں کون سا ایسا ملٹری کمانڈر ہے جو اپنی فوج کو اس بات کا حکم دے:   ’’  نہ صرف پناہ مانگنے والوں کو پناہ دو بلکہ ان کو حفاظت کے ساتھ محفوظ جگہ پر پہنچا بھی دو  ‘‘   جبکہ اس بات کا حکم اللّٰہ     عَزَّوَجَلَّ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے۔ 

اسلام کا پیغام آفاقی ہے

سوال:  کیا یہ درست ہے کہ اسلام صرف اہلِ عرب کا دین ہے ؟

جواب: یہ سوچ صرف اِس ایک حقیقت سے غلط ثابت ہوجاتی ہے کہ دنیا میں عرب مسلمانوں کی تعداد کل مسلمان آبادی کا پندرہ سے بیس فیصد ہے،  انڈین مسلمان عرب مسلمانوں سے زیادہ ہیں اور انڈونیشیا میں مسلمان انڈیا سے بھی ز یادہ ہیں ، یہ غلط فہمی شاید اسی وجہ سے ہوتی ہے کہ مسلمانوں کی پہلی کئی نسلیں اکثر عرب تھیں ،  قرآنِ مجید عربی میں ہے اور حضرت محمدصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زبانِ اقدس بھی عربی ہے۔

          تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ آقا ئے دو عالمصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم،  آپ کے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور پہلے کے مسلمانوں نے اسلام کو تمام قوموں ،  تمام نسلوں اور تمام انسانوں تک پہنچانے کی بھرپور کوشش فرمائی،  اسلام کے ابتدائی ایام ہی میں حضور صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کئی صحابہ مختلف ملکوں ،  زبانوں اور تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے تھے،  ان میں سے حضرتِ بلال حبشی ایک افریقی غلام تھے،  حضرت صہیب کا تعلق یورپ یعنی  ’’ روم ‘‘  سے تھا،  حضرت عبداللّٰہ بن سلام یہودی عالم تھے اور حضرت سلمان فارسی ایران سے تھے رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم۔

اس کے علاوہ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ نہ تو سارے کے سارے مسلمان عربی ہیں اور نہ ہی سب کے سب عرب مسلمان ہیں ،  ایک عربی شخص مسلمان،  عیسائی،  یہودی یا دہریہ کچھ بھی ہوسکتا ہے،  بعض لوگ ترکیوں اور ایرانیوں کو بھی عرب سمجھ لیتے ہیں حالانکہ وہ بالکل عرب نہیں ہیں ،  اُن کی زبانیں الگ ہیں ،  ان کی تہذیبیں ،  عادات و اطوار عربوں سے بالکل جدا ہیں ۔

اسلام کی سچائی تمام انسانوں کے لیے ہے،  ان کا تعلق کسی بھی رنگ و نسل ،  قوم ،  قبیلے،  تہذیب یا زبان سے ہو،  آپ نائجیریا سے بوسنیا تک اور ملائشیا سے افغانستان تک نظر دوڑائیں تو یہ اس بات کا کافی ثبوت ہوگا کہ اسلام ایک عبقری (Universal)   دین ہے اور یہ پیغام ِ ہدایت اور پیغامِ امن ساری انسانیت کے لیے ہے،  اِس کا ذکر کرنا بھی فائدہ مند ہوگا کہ مسلمانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد امریکن اور یورپین ہے جن کی زبانیں اورتہذیبیں مختلف ہیں ،  وہ دائرۂ اسلام میں داخل ہورہے ہیں حالانکہ عربوں کا کچھ بھی ان کے اندر نہیں ہے،  قرآن واضح طور پر ارشاد فرماتا ہے:

 



Total Pages: 55

Go To