Book Name:Islam kay Bunyadi Aqeeday

            اس کام میں آپ کو جو خوبیاں نظر آئیں یقیناوہ اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ کی عطا اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عنایت سے ہیں اورعلمائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام بالخصوص شیخ طریقت امیر اہلسنّت بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔ قادری ضیائی مُدَّظِلُّہُ الْعَالِی کے فیضان کا صدقہ ہیں اور باوجود احتیاط کے جو خامیاں رہ گئیں انہیں ہماری طرف سے نا دانستہ کوتاہی پر محمول کیا جائے۔ قارئین خصوصاً علماء کرام دَامَتْ فُیُوْضُہُم سے گزارش ہے اگر کوئی خامی آپ محسوس فرمائیں یا اپنی قیمتی آراء اور تجاویزدینا چاہیں توہمیں تحریری طور پر مطلع فرمائیے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اپنی رضا کے لیے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دعوت ِاسلامی کی مجلس  ’’  المدینۃ العلمیۃ  ‘‘  اور دیگر مجالس کو دن گیارھویں رات بارھویں ترقی عطافرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم۔

شعبہ اِصلاحی کتب

مجلس المدینۃ العلمیۃ

اللّٰہ تعالٰی پر ایمان

          مسلمان ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ انسان اللّٰہتعالیٰ کی وحدانیت کو مانے اور حضرت محمد صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نبوت و رِسالت کو مانے۔

          اللّٰہ تعالیٰ ایک ہے،  اس کی خدائی میں ،  اس کے کاموں میں ،  اس کے اَحکام میں اور اس کے اَسماء میں کوئی اس کا شریک نہیں ۔

          اللّٰہ     عَزَّوَجَلَّ واجب الوجود ہے جس کا معنی یہ ہے کہ اس کاوجود ضروری ہے اور عدم محال ہے،  وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا،  صرف اللّٰہ ہی غیر محدود تعریفوں ،  محبتوں اور عبادت کا حق دار ہے۔

          اللّٰہ تعالیٰ کسی کا  محتاج نہیں ہے بلکہ ہر شے اللّٰہ تعالیٰ کی محتاج ہے۔

           اللّٰہ تعالیٰ کی ذات کا عقل کے ذریعے سے اِحاطہ نہیں کیا جاسکتا،  وہ ہمارے خیال اور سمجھ سے وَراء ہے،  عقل،  دانائی اور حکمت ان ذرائع سے اللّٰہ تعالیٰ کی عظیم ذات کو جاننا ممکن نہیں ہے،  وہ خیالات سے وَراء ہے،  وہ کسی حد میں محدود نہیں ہے۔

          کسی چیز کو تصور میں تب ہی لایا جاسکتا ہے جب اس کی کوئی طے شدہ شکل و صورت ہواوراللّٰہ  تعالیٰ شکل و صورت سے پاک ہے،  لا محدود ہے اور ہر پابندی سے آزاد ہے،  لہٰذا عقل میں اس کی کوئی بھی شکل و صورت بٹھانا ممکن نہیں ہے،  البتہ اللّٰہ تعالیٰ کی مخلوق پر غور اور تدبر کرنے سے اور اس کے ساتھ ساتھ اللّٰہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت عقل کو استعمال کرنے سے اللّٰہ تعالیٰ کے وجود کی معرفت ممکن ہے۔

          اللّٰہ تعالیٰ نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا اور نہ ہی اس کی کوئی بیوی ہے،  جو یہ مانے یا کہے کہ اللّٰہ  تعالیٰ کسی کا باپ ہے یا بیٹا ہے وہ دائرۂ اسلام سے خارِج ہے۔

          اللّٰہ تعالیٰ سارے کمالات کا جامع ہے،  ہر ناپاکی،  عیب،  ظلم،  بداَخلاقی اور بے حیائی کے کاموں سے پاک ہے،  کسی نقص ،  کوتاہی یا کمزوری کا اس کی ذات میں پایا جانا بالکل ناممکن ہے۔

          جھوٹ بولنا،  دھوکہ دینا،  بدتمیزی ،  وحشت،  جہالت ،  بے رحمی اور اس جیسی دیگر مذموم چیزیں اللّٰہ تعالیٰ کے لیے ممکن نہیں ہیں ۔

          اللّٰہ تعالیٰ وقت،  جگہ اور سمت کی حدود سے،  شکل و صورت اور ہر وہ چیز جو مخلوق سے مشابہت رکھتی ہے اس سے پاک ہے۔

 



Total Pages: 55

Go To