Book Name:Islam kay Bunyadi Aqeeday

          اسلام میں زنا سخت جرم شمار ہوتا ہے کیونکہ یہ خاندان کی اُن بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے جس پر ایک خاندان کی تعمیر ہوتی ہے،  مرد و عورت کے ناجائز تعلقات خاندان کو ڈھا دیتے ہیں اور معاشرتی نظام کو توڑ پھوڑ کررکھ دیتے ہیں ،  خاندانوں کا ٹوٹ پھوٹ جانا،  آنے والی نسلوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کو بُری طرح اثر انداز کرتا ہے جو کہ متاثرین کو گناہ بھرے موڑ پر لا کر کھڑا کردیتا ہے،  جس میں ہر طرف خواہشاتِ نفس،  شہوت اور لڑائی جھگڑ اہوتا ہے۔ اس لیے یہ لازم ہے کہ ہر وہ طریقہ اپنایا جائے جس کے ذریعے سے خاندان کو بچایا جاسکے،  یہی وجہ ہے کہ اسلام خاندانوں کے تحفظ کا داعی ہے اور ہر جرم جس کی وجہ سے یہ خاندانی تعمیر ٹوٹتی ہوئی نظر آتی ہے اس پر سخت سزائیں دینے کا اسلام نے حکم دیا ہے،  یہ سزائیں مرد و عورت کے لیے یکساں ہیں ۔

سوال:  اسلامی قانون کے مطابق عورت کو مرد کے مقابلے میں آدھا حصہ کیوں ملتا ہے؟

جواب:  اسلام نے وراثت کے اُس نظام کو ختم کیا جس میں سارے کا سارا ترکہ بڑے بیٹے کو ملتا تھا،  قرآن پاک کے حکم کے مطابق عورت کو خود بخود اپنے باپ،  خاوند،  اپنے بیٹے اوراپنے اُس بھائی سے جس کی کوئی اولاد نہ ہو یا صرف بیٹیاں ہی ہوں ، وراثت میں حصہ ملتا ہے۔

قرآن پاک میں وراثت کے اندر حصہ پانے والے حق داروں کی بڑی وضاحت کے ساتھ تفصیل بیان کی گئی ہے،  سورۂ نساء کی آیت نمبر ۱۱۔۱۲۔ اور ۱۷۸ میں قریبی رشتے داروں کے وراثت میں حقوق بیان کردیئے گئے ہیں ،  اللّٰہ تعالیٰ نے بچوں ،  ماں باپ اور میاں بیوی کے وراثت میں حقوق کوخوب واضح کردیاہے اور اُس کو لوگوں کی صوابدید اور جذبات کی نظر ہونے سے محفوظ فرمادیا ہے،  بعض قریبی رشتے داروں کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے دور والے رشتہ دار بھی حصہ پاتے ہیں ۔ وراثت کی تقسیم میں ہمارے خالق کے بے عیب ہونے اورعلم و حکمت کا نظارہ نظر آتا ہے کہ ایک ایسا متوازن نظامِ وراثت قائم کیا کہ جس میں ہر شخص کوا سکی ذمے داریوں کے حساب سے مختلف حالات میں اس کا حصہ ملتاہے۔

          بہت صورتوں میں عورت کو مرد سے آدھا حصہ ملتا ہے،  بہر کیف ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا،  بعض صورتوں میں عورتوں کو مرد کے برابر بھی حصہ ملتا ہے اور بعض صورتوں میں عورت کو مرد سے زیادہ وراثت بھی ملتی ہے اور جب مرد کو زیادہ حصہ دیا جاتا ہے تو وہ بھی خوب سمجھ میں آنے والا اور عقلاً نقلاً ہر اعتبار سے درست ہے،  اسلام میں عورت پر معاشی طور پر کوئی ذمے داریاں خاندان کے لیے نہیں ڈالی گئیں اگرچہ وہ مال دار ہی کیوں نہ ہو یا اس کا اپنا کوئی آمدنی کا ذریعہ ہو،  معاشی ذمے داریوں کا بوجھ صرف اور صرف مرد کے کندھوں پر ڈالا گیا ہے،  جب عورت غیر شادی شدہ ہوتی ہے تو قانوناً اس کے نان و نفقہ ا ور اخراجات باپ یا بھائی کی ذمے دار ی ہوتی ہے،  جب اس کی شادی ہوجائے تو پھر یہ ذمہ داری اس کے خاوندپر یا بالغ بیٹے پر پڑتی ہے،  اسلام نے مرد پر اپنے خاندان کی ہر طرح کی معاشی ضرورت کی ذمہ داری ڈالی ہے۔

          لہٰذا وراثت کے حصوں میں فرق کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ ایک جنس کو دوسری جنس پرترجیح دی گئی ہے،  یہ فرق صرف اس بات کی نمائندگی کرتا ہے کہ گھر کے افراد میں ذہنی،  نفسیاتی اور جسمانی فرق کی وجہ سے ان کی ذمہ داریاں الگ الگ ہیں اور ان کی ذمے داریوں کے حساب سے سب کو صحیح اور متواز ن حصے دیئے گئے ہیں ۔

          الغرض عورت کا گھر میں یہ کردار ہے کہ وہ گھر کو سنبھالے اور گھر کے اندر جو ضرورتیں ہیں ان کو پورا کرے لہٰذاا س کو معاشی ذمے داریوں کے بوجھ سے آزاد کردیا گیا ہے،  اُس کو وراثت میں حصہ ملتا ہے لیکن وہ سارے کا سارا اُس کا اپنا ہے،  وہ چاہے تو استعمال



Total Pages: 55

Go To