Book Name:Islam kay Bunyadi Aqeeday

گیا ہے،  کیا یہ تضاد نہیں ہے؟

جواب:   اللّٰہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّؕ-  (پ۱۷،  الانبیاء: ۳۰ )

ترجمۂ کنزالایمان:  اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی۔

فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ  (پ۱۷،  حج: ۵)

ترجمۂ کنزالایمان:  کہ ہم نے تمہیں پیدا کیا مٹی سے۔

اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ (۱۱)   (پ۲۳،  اَلصّٰفّٰت: ۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان:  بیشک ہم نے ان کو چپکتی مٹی سے بنایا۔

          ان آیات میں اللّٰہ تعالیٰ نے تخلیق انسان کے کئی مراحل کا ذکر فرمایا ہے،  قرآنِ پاک کے مطابق انسان کو سب سے پہلے پانی اور مٹی سے پیدا کیا گیا،  جس سے گارا تیار ہوااور یہ سارے انسانوں کے باپ حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کے متعلق بیان ہواپھر اللّٰہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی اولاد اِسی فطری اور قدرتی نظام کے تحت آگے بڑھے گی جس طرح سے دیگر جانداروں کی نسلیں آگے بڑھ رہی ہیں ۔

          کبھی کبھی قرآن پاک نطفے کو پانی کے نام سے بھی بیان کرتا ہے،  اس کا مطلب یہ ہے کہ بہنے والی چیز۔ جب اللّٰہ تعالیٰ قرآن کریم میں یہ ارشاد فرماتا ہے کہ جاندار چیزوں کو پانی سے پیدا کیا گیا ہے،  اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ ہر مخلوق وہ چاہے انسان ہوں ،  چاہے جانوریادرخت،  سب پانی سے پیدا کیے گئے ہیں اور اپنے وجود میں باقی رہنے کے لیے پانی پر موقوف ہیں لیکن یہی آیت جس میں اس بات کا ذکر ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا،  اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ انسان اور دیگر جانور اپنے باپ کے نطفے سے پیدا کیے گئے ہیں اور اس کی تائید دوسری آیت سے ہوتی ہے جیسا کہ:  

اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۙ (۲۰)   (پ۲۹،  مُرسلٰت: ۲۰ )

ترجمۂ کنزالایمان:  کیا ہم نے تمہیں ایک بے قدر پانی سے پیدا نہ فرمایا۔

          جہاں تک سائنسی شواہد کا تعلق ہے،  سائنسی تحقیق میں ثابت کیا گیا ہے کہ انسان کے جسم کا زیادہ حصہ دوسرے جانداروں کی طرح پانی سے بنایا گیا ہے،  تقریباً ستر فیصد انسان کا جسم پانی سے بنا ہے اور انسانی جسم میں وہ اَجزاء بِعَیْنِہٖ پائے جاتے ہیں جو کہ زمین کی مٹی کے اندر پائے جاتے ہیں ،  اِن کی تعداد اگرچہ کم ہے کیونکہ انسانی جسم میں پانی زیادہ ہے اور مٹی کم ہے۔

سوال:  اسلام میں شراب کا استعمال کیوں منع ہے؟

جواب:  ہر وہ چیز جو نقصان دہ ہے یا اس کے نقصانات اس کے فائدوں سے زیادہ ہیں وہ جائز نہیں ہے لہٰذا شراب اسلام کے اندر حرام اور منع ہے۔

          شراب انسانی معاشرے میں ایک لعنت بن کر ہمیشہ موجود رہی ہے،  بے شمار انسانی جانیں اس کے سبب لُقْمَۂ اَجل بن چکی ہیں اور لاکھوں انسانوں کی زندگیوں میں شراب نے تکلیف،  درد اور دُکھ پیدا کیے ہیں ،  اعداد و شمار اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ شراب بہت گھناؤنے جرائم،  جسمانی و دماغی بیماریوں کا سبب بنتی ہے اور لاکھوں گھر اس طاقتور برباد کرنے والی شراب کے ذریعے سے برباد



Total Pages: 55

Go To