Book Name:Islam kay Bunyadi Aqeeday

کی طرف سے آتی ہے ‘‘  جو کہ سارے جہانوں کا پیدا کرنے والا ہے اور سب کچھ اسی کی مرضی سے ہوتا ہے،  یہ وجہ ہے کہ مسلمان مادی معاملوں کی کم فکر کرتا ہے اور دنیا کی اِس عارضی زندگی کو ایسے دیکھتا ہے جیسے اُسے دیکھنا چاہیے،  ایک سچا مسلمان اللّٰہ تعالیٰ پر کامل بھروسا کرتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ ہمارے بھلے کیلئے ہوتاہے ،  یہ بات کسی کی سمجھ میں آئے یا  نہ آئے لیکن مسلمان خوشی سے اللّٰہ تعالیٰ کے فیصلے  (تقدیر) کو قبول کرلیتا ہے،  جو اُس کے ناراض ہونے یا نا خوش ہونے کی وجہ سے بدلنے والا نہیں ہے۔

          اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ مسلمان بیٹھ کر اپنی تقدیر کا انتظار کرے اور عملی طور پر زندگی میں کوئی قدم نہ اٹھائے بلکہ اسلام اس بات پر زور دیتا اور تقاضا کرتا ہے کہ مسلمان کوشش کرکے ہر قابلِ کراہت اور قابلِ مَذمت عادت کو بدل ڈالیں ،  عمل تو مسلمان کے ایمان کے ساتھ ساتھ چلتا ہے کیونکہ اگر انسان کے اندر اپنے فیصلے سے کچھ کرنے کی صلاحیت نہ ہوتی تو پھر یہ بات انصاف سے بہت دور ہوتی کہ اس سے عمل کا تقاضاہی کیا جائے یا وہ بعض بُرے عمل چھوڑ دے۔

          دَقیانوسی ہونا تو دور کی بات ہے اسلام تو اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ انسان کا اِس زندگی میں بڑا مقصد اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے اور ایسے عمل کرنے ہیں جس سے وہ راضی ہوجائے، اسلام کی تعلیمات یہ ہیں کہ انسان زندگی میں مثبت قدم اُٹھائے اور عبادت و دعا کے ذریعے سے اس کو مضبوط کرے،  کچھ لوگ سست اور لاپرواہ ہوتے ہیں اور جب اُنہیں کوئی مشکل یا دکھ پہنچتا ہے تو سارے کا سارا الزام اپنی قسمت یا تقدیر پر لگادیتے ہیں ،  کچھ تو نَعُوْذُ بِاللّٰہِ اس حد تک پہنچ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر اللّٰہ تعالیٰ چاہتا تو وہ یہ گناہ یا یہ جرم نہ کرتے،  نَعُوْذُ بِاللّٰہِگویا کہ یہ گناہ اُن سے اللّٰہ       عَزَّوَجَلَّ نے کروایا ہو۔ 

          اِس طرح کے دلائل ناسمجھی پر مبنی ہوتے ہیں کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ ہمیشہ وہی کرتا ہے جو صحیح ہوتاہے،  اللّٰہ تعالیٰ نے ہمیں اس چیز کا حکم نہیں دیا ہے جوہماری طاقت سے باہر ہے کیونکہ اس کا انصاف کا مل ہے اور بے عیب ہے۔

سوال:  کیا تم مرنے کے بعدد وبا رہ زندہ ہونے کا یقین رکھتے ہو؟ موت کے بعد زندگی کی تصدیق آپ کیسے کرسکتے ہیں ؟

جواب: اسلام اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ موجودہ زندگی ایک آزمائش ہے اور آخرت کی تیاری کے لیے ہم کو دی گئی ہے،  ایک دن ایسا آئے گا کہ یہ سارا جہان تباہ و برباد کردیا جائے گااور پھر سے اس کی تخلیق ہوگی اور مردے پھر سے زندہ ہوجائیں گے،  اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حساب و کتاب کے لیے پیش ہوں گے۔

          قیامت کا دن ایک دوسری زندگی کی ابتداء ہوگی،  ایسی زندگی جو پھر ختم نہ ہوگی،  یہ وہ وقت ہوگا کہ جب ہر ایک کو اس کے کیے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا،  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ جو کہ سب سے زیادہ انصاف فرمانے والا ہے انسان کے اچھے اور بُرے اعمال کی بنیاد پر اُنہیں جزاد ے گا۔

          اگر موت کے بعد زندگی نہ ہوتی تو اللّٰہ تعالیٰ کو ماننا بے معنی ہوجاتا ہے اور اگر کوئی اللّٰہ تعالیٰ پر یقین رکھتا بھی تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ یہ کیسا عجیب خدا ہے کہ ایک بار انسان کو پیدا کرنے کے بعد اس کے بارے میں اُسے کوئی پرواہ ہی نہیں ہے،  بے شک اللّٰہ تعالیٰ سب سے ز یادہ انصاف فرمانے والا ہے،  وہ ایسے ظالم کو سزا دے گا جس کے جُرم بہت ہیں ،  مثلا سینکڑوں بے قصور انسانوں کو قتل کرنے والا،  معاشرے کے اندر بُرائی پھیلانے والا ،  اپنے آرام اور سکھ کے لیے دوسرے انسانوں کو اپنا غلام بنانے والا وغیرہ وغیرہ۔

          زندگی مختصر سی ہے ایک شخص کے اچھے یا بُرے اعمال کی وجہ سے بہت سارے لوگ متأثر ہوتے ہیں ،  صحیح اور پوری پوری جزا اس



Total Pages: 55

Go To