Book Name:Islam kay Bunyadi Aqeeday

سخت مخالفت کرتے ہیں ،  اس عقیدے کی وجہ سے یہودی بھی عیسائیوں کے سخت مخالف ہیں ،  اسی طرح یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ عزیر عَلَیْہِ السَّلَام اللّٰہ      عَزَّوَجَلَّ کے بیٹے ہیں ،  مسلمان اس عقیدے کا بھی رد کرتے ہیں مگراس کا مطلب یہ ہر گزنہیں کہ یہ تینوں ادیان تین مختلف خداؤں کی پوجا کرتے ہیں ۔

          ہم پہلے ہی اس بات کی وضاحت کرچکے ہیں کہ سچا خدا صرف ایک ہی ہے،  یہودی،  عیسائی اور مسلمان سب کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں ،  لیکن اسلام نے اس بات کی خوب وضاحت کردی ہے کہ دیگر ادیان والوں نے خدا تعالیٰ کے بارے میں صحیح عقائد کو بگاڑ دیا ہے اوردین کی سچی تعلیمات کو ہٹا کر انسانوں کے بنائے ہوئے نظریات کو اپنالیا ہے ۔

           تمام اَدیان سے تعلق رکھنے والے عرب خدا کو  ’’  اللّٰہ ‘‘  ہی کہتے ہیں ،  مثال کے طور پر اگر آپ انجیل کا کوئی عربی ترجمہ اُٹھا کر پڑھیں تو آپ  وہاں وہاں لفظ اللّٰہ دیکھیں گے جہاں جہاں انگلش کی انجیل میں لفظ  God ہوگا،  اِس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اللّٰہ صرف مسلمانوں کا خدا نہیں بلکہ اللّٰہ اُسی خدا کا نام ہے جس کی تمام ادیان میں عبادت کی جاتی ہے،  یہ بات تو بالکل ایسے ہی ہے جیسے کہ کوئی کہے کہ فرینچ  (French) لوگ مختلف خداکی پوجا کرتے ہیں کیونکہ ان کی زبان میں خدا کے لیے  ’’  ‘‘ Dieuکا لفظ استعمال ہوتا ہے اور اسپین والے مختلف خداکی عبادت کرتے ہیں کیونکہ ان کی زبان میں خدا تعالیٰ کے لیے ’’  ‘‘ Diosکا لفظ استعمال ہوتا ہے اور عبرانی والے مختلف خدا کی عبادت کرتے ہیں کیونکہ ان کی زبان میں خدا کے لیے  ’’  ‘‘ Yahwehکا لفظ استعمال ہوتا ہے۔

          بہرحال خدا تعالیٰ کے لیے لفظ  ’’ اللّٰہ ‘‘  ہی سب سے مناسب لفظ ہے کیونکہ لفظ  ’’ اللّٰہ ‘‘  کی نہ تو جمع ہے اور نہ ہی اس کی کوئی جنس (مذکر و مؤنث کے حوالے سے)  جبکہ لفظ Godکی جمع بھی ہے اور جنس بھی مثلاًGodsاور Goddess (مؤنث خدا) ۔ 

          قرآنِ مقدس جو کہ مسلمانوں کے لیے اللّٰہ تعالیٰ کا کلام ہے عربی زبان میں نازل ہوا،  اس لیے مسلمان  Godکے لیے لفظ ’’ اللّٰہ  ‘‘ کا استعمال کرتے ہیں اگرچہ وہ بات کسی اور زبان میں ہی کیوں نہ کررہے ہوں مگر خدا تعالیٰ کے لیے عربی کا لفظ ہی زیادہ تر استعمال کرتے ہیں جو کہ ’’ اللّٰہ ‘‘  ہے اور لفظ اللّٰہ کا ترجمہ انگلش زبان میں صرف God کی بجائے یوں کیا جائے:  

 ’’   The One and only Godیا The One true God    ‘‘  

سوال:  قرآن کئی جگہوں پر ا   للّٰہ تعالیٰ کے لیے لفظ  ’’ ہم ‘‘  کا استعمال کرتا ہے،  اس کا مطلب یہ ہوا کہ مسلمان ایک سے زیادہ خداؤں کو مانتے ہیں ؟

جواب: اسلام میں خالص توحید کا ماننا لازم ہے،  اسلام اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ اللّٰہ صرف ایک ہے اور اس کی تقسیم ممکن نہیں ہے،  قرآنِ مقدس میں اللّٰہ تعالیٰ نے کئی جگہوں پر اپنی ذات کے لیے  ’’ ہم ‘‘  کا لفظ استعمال کیا لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ اسلام میں ایک سے زیادہ خداؤں کا عقیدہ پایا جاتا ہے،  اللّٰہ تعالیٰ کا اپنے آپ کو قرآنِ پاک میں  ’’ ہم ‘‘ سے تعبیر فرمانا  ’’ طاقت ‘‘  اور  ’’ بادشاہت ‘‘  پر دلالت کرتا ہے۔

          کچھ زبانوں میں دو طرح کی جمع ہوتی ہے،  ایک کا تعلق دو یا دو سے زیادہ اشخاص،  چیزوں یا جگہوں کیساتھ ہوتاہے اور دوسری جمع وہ ہوتی ہے جو کہ عظیم رتبے،  طاقت اور انفرادیت پر دلالت کرتی ہے مثلاً خالص انگریزی زبان میں Englandکی ملکہ جب تقریر کرتی ہے تو اپنے لیے We یعنی  ’’ ہم ‘‘  کا لفظ استعمال کرتی ہے۔  (اس کو Majestic یا  پھر     Plural Royal Pluralیعنی شان و شوکت یا



Total Pages: 55

Go To