Book Name:Islam kay Bunyadi Aqeeday

          چھوٹی عمر ہی سے آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فکر کرنے والے انسان کی حیثیت سے دیکھا گیا،  عرب کے لوگوں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو   ’’  اَلصَّادِق  ‘‘  اور  ’’  اَ لْاَمِیْن ‘‘  کا خطاب دیا جس کا معنی   ’’  سچا   ‘‘  اور  ’’  امانت دار  ‘‘  ہے،  ہر وہ کام جو آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کیا،  ہر وہ لفظ جو آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے منہ سے نکلا،  ہر وہ فکر جوآپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ذہن میں آئی،  آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان سب میں ہمیشہ سچے تھے،  اہل عرب نے دیکھا کہ ان کا ہر عمل بامقصد ہوتا ہے،  جب کچھ کہنے کا موقع نہ ہو تا تو آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخاموش رہتے لیکن جب بولتے تومخلصانہ،  حکمت بھری اور دلائل و براہین سے پُر گفتگو فرماتے،  ہمیشہ کسی مسئلے پر روشنی ڈالتے اور یہی وہ بولنا ہے جس بولنے کی اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک قدر ہے،  لوگوں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بڑا مضبوط ،  بھائی چارگی سے بھرپور اور مخلص انسان پایا،  آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسنجیدہ اور مخلص کردار والے ہونے کے ساتھ ساتھ ایسا مزاج رکھتے تھے کہ دوسرے لوگ آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صحبت میں امن،  حفاظت،   آرام،  خوشی اور سُکھ محسوس کرتے،  آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے چہرئہ مبارکہ پر ہمیشہ روشنی بکھیرتی ہوئی خوبصورت ترین مسکراہٹ ہوتی۔

          حضرت محمدصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہت خوبصورت انسان تھے جیسا کہ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حسن کو یوں بیان کیا:  آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا قد مبارک عمومی قد سے تھوڑا زیادہ تھا،  تعجب کی بات یہ ہے کہ مجمع میں آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان سے بھی دراز قد نظر آتے جو درحقیقت آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے لمبا قد رکھتے تھے،  آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جلد مبارک کا رنگ گورا اور سُرخی مائل تھالیکن بہت زیادہ سفید بھی نہیں تھا،  آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بال مبارک سیاہ اورخمیدہ تھے (اتنے گھنگریالے نہ تھے جس سے دائرہ کی صورت بنتی نظر آتی ہو) ،  کان کی لو اور کندھوں کے درمیان بال مبارک رہتے،  آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سر کے بیچ سے مانگ نکالتے،  آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ظاہری جسم مبارک ایک طاقتور مضبوط مرد کی طرح نظر آتا تھا،  آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کندھے مبارک چوڑے تھے اور ان کے درمیان پیٹھ کی طرف مہر نبوت تھی،  آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا پیٹ مبارک آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سینے سے کبھی آگے نہیں آیا،  آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا چہرۂ مبارکہ ایسے روشن رہتا گویا کہ سورج آپ کے چہرے سے چمکتے ہوئے گزررہا ہے،  جب لوگ آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوتے تو آپصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حسن وجمال کا ان پر رُعب پڑ جاتا،  جب پہلی بار دیکھتے تویہ کہنے پر مجبور ہوجاتے کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے کا نہیں ہے۔

دین اِسلام کے بارے میں 27 سوال جواب

سوال:  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کون ہے؟ کیا مسلمان مختلف خدا  (God)  کی عبادت کرتے ہیں ؟

جواب:  کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان ایک ایسے خدا کی عبادت کرتے ہیں جو کہ اُس خدا سے مختلف ہے جس کی عبادت عیسائیت یا یہودیت میں کی جاتی ہے،  یہ غلط فہمی شاید اس وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ مسلمان خدا کو اللّٰہ کہتے ہیں اور اللّٰہ عربی زبان میں اس ذات کا نام ہے جس کے پاس سب طاقتیں ہیں ،  صرف وہی عبادت کا مستحق ہے،  اُسی نے سارے جہانوں کو اور انسانوں کو پیدا کیا۔

           اِس بات میں کوئی شک نہ رہے کہ مسلمان اُسی خدا کی عبادت کرتے ہیں جس کی عبادت نوح عَلَیْہِ السَّلَام ،  ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام ،  موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام ،  داؤد عَلَیْہِ السَّلَام اور عیسی عَلَیْہِ السَّلَام نے کی،  بہرحال اس میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں کہ یہودیوں ،  عیسائیوں اور مسلمانوں کا خدا کے بارے میں مختلف نظریہ ہے،  مثلاً مسلمان ،  عیسائیوں کے عقیدئہ تثلیث اور خدا کا انسانی صورت میں آنا،  اِس کی



Total Pages: 55

Go To