Book Name:Islam kay Bunyadi Aqeeday

آپصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر نازل ہوتے ہیں ،  اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:  

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ (۳) اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ (۴)   (پ۲۷، النجم: ۳تا۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے۔

          لہٰذا قرآنِ مقدس اور حضرت محمدصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنّت دین اسلام کی بنیاد ہے ،  ان میں زندگی کے ہر پہلو کی وضاحت اور رہنمائی موجود ہے۔

{2} …نماز:   

          نماز اہل ایمان میں ہمیشہ رہی ہے،  مختلف انبیاء نے مختلف نمازیں پڑھی ہیں ،  نماز دین کا اہم ستون ہے،  اسلام اللّٰہ تعالیٰ کا انسانیت کی طرف آخری پیغام ہے اس میں نما ز کو بہت اہمیت دی گئی ہے،  مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ہر دن میں پانچ نمازیں اپنے مقرر اوقات میں پڑھے اورنمازوں کو ایسے انداز اور ترتیب سے پڑ ھے جیسے اللّٰہ   عَزَّوَجَل کے محبوب حضرت محمدصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نماز پڑھی اور ہمیں سکھائی ۔

          پانچ نمازیں فرض ہیں اور یہ بندے کا رب تعالیٰ سے ایسا تعلق اور رشتہ ہے جس میں وہ اپنے رب کے ساتھ سرگوشی کرتا ہے،  اسلام صرف اس بات کی دعوت نہیں دیتا کہ مسلمان صرف یہ عمل کرلیں بلکہ اسلام یہ چاہتا ہے کہ مسلمان نماز کے ذریعے سے اپنی روحوں کو پاک کریں ،  اللّٰہ تعالیٰ قرآن کریم میں نماز کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:

اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَؕ-اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِؕ-وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ(۴۵) ۲۱،  العنکبوت: ۴۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اے محبوب پڑھو جو کتاب تمہاری طرف وحی کی گئی اور نماز قائم فرماؤ بے شک نماز منع کرتی ہے بے حیائی اور بُری بات سے اور بے شک ا  للّٰہ کا ذکر سب سے بڑا اور اللّٰہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔

{3} …زکوٰۃ:

          زکوٰۃ کا معنی ہے پاک کرنا یا زیادتی،  چونکہ زکوٰۃ دینے سے مال پاک بھی ہوتا ہے اور بڑھتا بھی ہے اس لیے اس کو زکوٰۃکہتے ہیں ،  یہ اسلام کا بڑا اہم فلسفہ ہے کہ ساری چیزیں اللّٰہ تعالیٰ کی ملکیت میں ہیں ،  اللّٰہ تعالیٰ ہی ہر شے کا مالک ہے اور مسلمانوں پر یہ لازم کیا گیا ہے کہ وہ رزقِ حلال کمائیں اور اِس کمائے ہوئے رزقِ حلال سے اللّٰہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کریں اور ایسے خرچ کریں جیسے اللّٰہ اور اس کے حبیبصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خرچ کرنے کی تعلیم دی ہے۔

          زکوٰۃ اللّٰہ تعالیٰ کا دیا ہوا ایک بہترین نظام ہے،  یہ خیرات بھی نہیں ہے اور یہ ٹیکس بھی نہیں ہے مگر ہر اُس مسلمان کیلئے شرعی فرض ہے جس کو اللّٰہ تعالیٰ نے اتنی دولت دی ہے جو اس کی ضرورتوں سے زیادہ ہو اور نصاب کو پہنچتی ہو لہٰذا ٹیکس اور زکوۃ میں یہ بڑا واضح فرق ہے کہ مسلمان اپنی خواہش سے اور اپنی مرضی سے زکوٰۃاداکرتا ہے اور اس کا حساب لگاتا ہے،  اپنی مرضی سے حصول ثواب کیلئے خود مسلمان ہی زکوۃ کے معاملہ کو دیکھتے ہیں ،  اُن پرکوئی زبردستی نہیں کی جاتی جبکہ ٹیکس کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ 

          زکوٰۃ مسلمان پر صرف اُسی وقت فرض ہوتی ہے جب وہ صاحب نصاب بنتا ہے اور اُس نصاب پر سال گزر جاتا ہے،  زکوٰۃ کی تفصیلی معلومات ( مثلاًحساب لگاناوغیرہ )  دارالافتاء سے معلوم کی جائیں ،  دارالافتاء اہلسنّت کے ایڈریس،  ای میل اورفون نمبرزیہ ہیں ۔

 



Total Pages: 55

Go To