Book Name:Islam kay Bunyadi Aqeeday

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌۙ (۱۳) وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةًۙ (۱۴) فَیَوْمَىٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ (۱۵) وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَىٕذٍ وَّاهِیَةٌۙ (۱۶)   (پ۲۹،  الحاقۃ: ۱۳تا۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان:  پھر جب صور پھونک دیا جائے ایک دم اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر دفعۃً چورا کردیئے جائیں وہ دن ہے کہ ہو پڑے گی وہ ہونے والی اور آسمان پھٹ جائے گا تو اس دن اس کا پتلا حال ہوگا۔

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ (۸) فَذٰلِكَ یَوْمَىٕذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ (۹) عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ (۱۰)   (پ۲۹،  المُدَّثِّر:  ۸ تا۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان:  پھر جب صور پھونکا جائے گاتو وہ دن کرّا  (سخت) دن ہے کافروں پر آسان نہیں ۔

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ (۶۸)   (پ۲۴، الزُّمُر: ۶۸)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور صور پھونکا جائے گا تو بے ہوش ہوجائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں مگر جسے اللّٰہ چاہے  پھر وہ دوبارہ پھونکا جائے گا جبھی وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہوجائیں گے۔

اسلام کی بنیادیں

          پانچ اَرکانِ اسلام مسلمان کی زندگی کے تمام زاویوں کو مکمل کرتے ہیں ، پانچ ارکانِ اسلام مندرجہ ذیل ہیں :     

 {1} …اِیمان:

           مسلمان ہونے کیلئے یہ ضروری ہے کہ دل سے تصدیق کرنے کیساتھ ساتھ زبان سے بھی ان الفاظ کا اقرار کرے کہ:   ’’ اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور حضرت محمدصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللّٰہ کے رسول ہیں ۔ ‘‘   

          یہ تصدیق اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ موجود ہے اس کے جیسا کوئی نہیں ہے اور کوئی بھی اس کا ہمسر نہیں ،  وہ سب سے بڑاہے، سوائے اُس کے کوئی بھی عبادت کا حقدار نہیں ہے اور یہ اِس بات کی بھی گواہی ہے کہ سب موجود چیزوں کا خالق ومالک اللّٰہ تعالیٰ ہے،  اللّٰہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِؕ-وَ مَا یَتَّبِـعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَؕ-اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ (۶۶)   (پ۱۱،  یونس: ۶۶)

ترجمۂ کنزالایمان:  سن لو بیشک اللّٰہ ہی کی مِلک ہیں جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمینوں میں اور کاہے کے پیچھے جارہے ہیں وہ جو اللّٰہ کے سوا شریک پکار رہے ہیں وہ تو پیچھے نہیں جاتے مگر گمان کے اور وہ تو نہیں مگر اٹکلیں دوڑاتے۔

          اور حضرت محمدصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ انبیاء میں سے ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ کے سب سے آخری رسول ہیں ،  انہوں نے اللّٰہ عَزَّوَجَل کا پیغام انسانوں تک بڑے احسن انداز میں پہنچادیا ہے۔

          قرآنِ پاک نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے آخری نبی ہونے کی گواہی دیتا اور اعلان کرتا ہے:

 مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَط وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًاoع  (پ۲۲، الاحزاب: ۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان:  محمد  (صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) تمہارے مَردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللّٰہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے اور اللّٰہ سب کچھ جانتا ہے۔

          قرآنِ پاک اس بات کی بھی تصدیق کرتا ہے کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے الفاظ مبارک کوبھی عصمت حاصل ہے یعنی آپ کے الفاظ میں خطا کا امکان نہیں ہے جو الفاظ آپصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبولتے ہیں وہ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے



Total Pages: 55

Go To