Book Name:Islam kay Bunyadi Aqeeday

کردے گا۔  ([1])

سورج مغرب سے طلوع ہوگا:  

          ایک وقت ایسا آئے گا جب کہ سورج مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع ہوگا،  یہ اس بات کی نشانی ہوگی کہ توبہ کا دروازہ بند ہوچکاہے،  اب اللّٰہ تعالیٰ کسی کی توبہ قبول نہیں فرمائے گا،  اب کسی کا اسلام قبول کرنا بھی قبول نہیں ہوگا۔  ([2])

خوشبودار اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کا چلنا :

          حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی وفات کے چالیس سال کے بعد قیامت قائم ہوگی اور اُن آخری ایام میں اس دنیا کے اندر ٹھنڈی اور خوشبودار ہوا چلے گی اور اس ہوا کے ذریعے سے سارے ایمان والوں کی رُوحیں اُن کے جسموں سے نکل جائیں گی۔  ([3])  اُن چالیس سالوں میں کوئی عورت بچہ پیدا نہیں کرسکے گی۔  ([4])  اس سے معلوم ہوا کہ چالیس سال سے کم عمر والے پر قیامت قائم نہ ہوگی اور یہ مکمل طور پر کفر کا زمانہ ہوگا،  ہر طرف کفار ہی کفار ہونگے اور کوئی اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا نہیں بچے گا۔ 

صور کا پھونکا جانا :

          حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی وفات کے چالیس سال بعد جب قیامت آئے گی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام کو حکم دے گا کہ وہ صور پھونکیں ،  یہ قیامت کے دن کی ابتدا ہوگی۔

           پہلے صور کی آواز ہلکی ہوگی،  آہستہ آہستہ بڑھتی جائے گی اور بہت اونچی ہوجائے گی،  لوگ اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف ہوں گے،  زور دار صور کی آواز سن کر سب کے سب بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے اور مرجائیں گے ، یہ بہرہ کردینے والی زور دار آواز سارے جہان کو تباہ و برباد کردے گی۔

          ہر موجود چیز مثلاً زمین،  آسمان،  سورج،  چاند،  ستارے،  پہاڑ،  انسان ، فرشتے بلکہ خود اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام اور ان کا صور سب فنا ہوجائیں گے،  اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کوئی موجود نہ ہوگا،  اُس دن اللّٰہ تعالیٰ فرمائے گا:   ’’ آج کے دن بادشاہت کس کی ہے؟ ‘‘  کوئی جواب دینے والا نہیں ہوگا پھر اللّٰہ تعالیٰ خود یہ ارشاد فرمائے گا: ’’  صرف اللّٰہ تعالیٰ کے لیے جوواحد ہے اور قہار ہے۔ ‘‘  ([5])

          صور کے پہلی مرتبہ پھونکے جانے اور دوسری مرتبہ پھونکے جانے کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا،  پہلی بار جب صور پھونکا جائے گا تو ہر چیز تباہ و برباد ہوجائے گی،  اللّٰہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کچھ نہیں بچے گا،  صور کے پھونکے جانے کا تذکرہ اللّٰہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتاہے:

فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْۙ (۸) وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْۙ (۹) وَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْۙ (۱۰)   (پ۲۹،  المُرسَلٰت: ۸ تا۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان:  پھر جب تارے محو کر دیئے جائیں اور جب آسمان میں رَخنے پڑیں اور جب پہاڑ غبار کرکے اُڑا دیئے جائیں ۔

 



[1]    ابن ماجہ، ابواب الفتن،باب    دابۃ الارض،۴ / ۳۹۳،حدیث: ۴۰۶۶وبہار شریعت،۱ / ۱۲۶

[2]    ابن ماجہ، ابواب الفتن، باب طلوع الشمس من مغربھا، ۴ / ۳۹۶، حدیث: ۴۰۷۰  و بہار شریعت، حصہ۱ ، ۱ / ۱۲۶

[3]    مسلم ،کتاب الفتن، باب ذکر الدجال۔۔۔الخ، ص۱۵۷۰، حدیث: ۷۳۷۳

[4]    بہار شریعت، حصہ۱،۱ / ۱۲۷

[5]    بخاری،کتاب الرقاق،۴ / ۲۴۹، حدیث: ۶۵۰۶ و شعب الایمان، باب فی حشر الناس۔۔۔الخ ، فصل فی صفۃ یوم القیامۃ ، ۱ / ۳۱۲ ، حدیث: ۳۵۳ و  بہار شریعت، حصہ۱،  ۱ / ۱۲۸



Total Pages: 55

Go To