Book Name:Islam kay Bunyadi Aqeeday

{1} مَن رَّبُّکَ؟  ( تیرا رب کون ہے ؟)

 {2} مَا دِیْنُکَ؟  ( تیرا دین کیا ہے ؟)

 {3} مَا کُنْتَ تَقُوْلُ فِیْ حَقِّ ھٰذَا الرَّجُل؟  ( تم اِس شخص کے بارے میں کیا کہا کرتے تھے؟)   اگر میت مسلمان ہے تو اس کے مندرجہ ذیل جوابات ہوں گے:

 {1} رَبِّیَ اللّٰہ  ( میرا رب اللّٰہ ہے)

 {2} دِیْنِیَ الإِسْلَام   ( میرا دین اسلام ہے)

 {3} ھُوَ رَسُوْلُ اللّٰہ   (وہ اللّٰہ کے رسول ہیں )

          اب آسمانوں سے ایک آواز سنائی دے گی کہ میرے بندے نے سچ کہا ہے اس کے لیے جنت کا دستر خوان بچھادو،  اُسے جنتی کپڑے پہننے کے لیے دے دو اور جنت کے دروازے اس کے لیے کھول دو۔ ٹھنڈی ہوااورجنت کی خوشبو فضاء کو بھردے گی،  قبر کو وسیع کردیا جائے گا۔ ([1])

          فرشتے کہیں گے:  دلہن کی طرح سوجا جیسے وہ شب عروس سوتی ہے۔ ([2])

          یہ سب نیک مسلمانوں کے لیے ہوگا۔گنہگار مسلمان اپنے گناہوں کے حساب سے عذاب دیئے جائیں گے،  یہ عذاب ایک وقت تک کے لیے جاری رہے گا،  جب کوئی میت کے لیے دعا کرے تو اُس دعا کے سبب میت سے عذاب دور ہوسکتا ہے یا پھر اللّٰہ تعالیٰ محض اپنی رحمت سے میت کو بخش دے۔

          اگر میت منافق  ( کافر)  ہے تو وہ ان سوالوں کا جواب نہ دے سکے گا اور کہے گا:  ہَاہ! ہَاہ! لَاأَدْرِی یعنی افسوس میں کچھ نہیں جانتا،  ایک بلانے والا گرجدار آواز میں کہے گا:  یہ جھوٹا ہے،  جہنم کا دستر خوان اس کے لیے بچھادو،  اِسے جہنم کے آگ والے کپڑے پہننے کے لیے دو اور اس کے لیے جہنم کے دروازے کھول دو،  دو فرشتے اُسے آگ کے بڑے بڑے ہتھوڑوں سے مار مار کر عذاب دیں گے،  بہت سارے سانپ اور بچھو بھی اُسے ڈستے رہیں گے،  مختلف عذابوں میں وہ مبتلا کیا جاتا رہے گا یہاں تک کہ قیامت کا دن آجائے گا۔ ([3])

قِیامَت

          مسلمان کیلئے اِس حقیقت پر ایمان رکھنا ضروری ہے کہ ہر ایک کی موت کا دن اور وقت متعین ہوچکا ہے،  دنیا کی ہر شے ایک دن فنا ہونے والی ہے،  اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے ایک دن یہ جہان ختم ہوجائے گا،  وہی آخری دن کہلاتا ہے،  اُسی کو قیامت کہتے ہیں ۔

          روایت میں ہے کہ حضرت اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام عرش کے نیچے گھٹنوں کے بل جھکے ہوئے صور کو اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے اس بات کا انتظار کررہے ہیں کہ کب اللّٰہ تعالیٰ کا حکم آئے اور وہ صور پھونکیں ،  پہلی بار صور پھونکنے سے پوری کائنات تباہ و برباد ہوجائے گی،  زمین ،  آسمان،  فرشتے،  انسان اُس دن تباہ ہوجائیں گے صرف اللّٰہ تعالیٰ ہی ہمیشہ رہے گا۔ ([4]) لیکن قیامت کے آنے سے پہلے بہت سارے



[1]    الروض الفائق، فصل فی عذاب القبر للکفار، ص۳۵۰

[2]    ترمذی، کتاب الجنائز، باب عذاب القبر، ۲ / ۳۳۸،حدیث:  ۱۰۷۳

[3]    مسند امام احمد،مسند الکوفیین،۶ / ۴۱۴، حدیث: ۱۸۵۵۹ ماخوذًا

[4]    درمنثور، پ۷، الانعام، تحت الایۃ : ۷۳، ۳ / ۲۹۷و پ۲۴، الزمر،تحت الایۃ: ۶۸، ۷ / ۲۵۶ ماخوذًا



Total Pages: 55

Go To