Book Name:Islam kay Bunyadi Aqeeday

بہت زیادہ مشہور ہیں :

 {1} تورات : حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر اتاری گئی۔

 {2} زَبور : حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلَام پر ا تاری گئی۔

 {3} اِنجیل : حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر اتاری گئی۔

 {4} قرآنِ مجید : خاتم الانبیاء والرُسل حضرت محمدصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر اتارا گیا۔

          اللّٰہ تعالیٰ کے کلام ہونے کی حیثیت سے ان کتابوں میں مرتبے کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ،  کلام الٰہی ہونے کے حوالے سے سب کتابیں برابر ہیں البتہ قرآنِ مقدس حصولِ ثواب کے حوالے سے سب کتابوں میں عظیم ہے۔ ([1])

موت اور قَبْر

          جب روح جسم سے نکل جاتی ہے تو اس حالت کوموت کہتے ہیں ،  ہر ایک نے مرنا ہے،  موت سے کسی کو کوئی چیز نہیں بچا سکتی،  ہر ایک کے لیے موت کا وقت متعین ہے،  کوئی بھی چیز اس کو مؤخر نہیں کرسکتی،  جب کسی کی زندگی ختم ہورہی ہوتی ہے تو عزرائیل عَلَیْہِ السَّلَام آکر اس کی روح نکال لیتے ہیں ،  جب مرنے والا شخص اپنے دائیں بائیں دیکھتا ہے تو اسے ہر طرف فرشتے نظر آتے ہیں ،  رحمت کے فرشتے مسلمان کے پاس آتے ہیں اور عذاب کے فرشتے کافر کے پاس آتے ہیں ،  مسلمان کی روح کو رحمت کے فرشتے آسانی اور عزت کے ساتھ نکالتے ہیں اور کافر کی رُوح بڑے دَرد اور بے حرمتی کے ساتھ نکالی جاتی ہے۔ ([2])

          جب کوئی قبروں کی زیارت کے لیے جاتا ہے،  رُوحیں اس شخص کو دیکھتی پہچانتی ہیں اور جو وہ کہتا ہے اس کو سنتی بھی ہیں بلکہ روحیں تو زائرین کے قدموں کی آہٹ بھی سنتی ہیں ۔ ([3])

 تدفین کے بعد کیا ہوتا ہے؟

          جب انسان کو دفن کردیا جاتا ہے تو قبر تنگ ہو کر میت کو دباتی ہے،  مسلمان کو ایسے دباتی ہے جیسے ماں اپنے بچے کو گلے سے لگا کر زور سے دباتی ہے۔  ([4])  اور کافر کو اس طرح دباتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہوجاتی ہیں۔   ([5])

          جب لوگ دفنا کرواپس جانے لگتے ہیں تو میت ان کے قدموں کی آہٹ سنتی ہے۔  ([6]) اس وقت دوفرشتے جن کے نام منکر اور نکیر ہیں اپنے لمبے دانتوں سے زمین کو چیرتے پھاڑتے ہوئے قبر میں آتے ہیں ،  اُن کی شکلیں بہت ڈراؤنی اور خوفناک ہوتی ہیں ،  ان کے جسموں کے رنگ کالے اور ان کی آنکھیں نیلی اور بہت بڑی بڑی ہوتیں ہیں گویا کہ ان کی پیشانیوں سے باہر نکلتی ہوئی معلوم ہوں گی،  اُن سے آگ کے شعلے نکلتے ہوں گے،  ان کے بال بہت خوفناک اور سر سے پاؤں تک لمبے ہوں گے،  اُن کے دانت بھی بہت لمبے ہوں گے جس سے وہ زمین پھاڑ دیں گے،  وہ مُردے کو سختی سے ہلا کر اٹھائیں گے اور بڑے مضبوط اور سخت لہجہ میں یہ تین سوال پوچھیں گے:  

 



[1]    بہار شریعت، حصہ ۱ ،۱ / ۲۹ماخوذًا

[2]    کنزالعمال،کتاب الموت، فصل تلقین المحتضر،الجزء ۱۵،۸ / ۲۳۸،حدیث: ۴۲۱۶۲ ماخوذًا

[3]    کنزالعمال،کتاب الموت،فصل فی زیارۃ القبور،الجزء ۱۵،۸ / ۲۷۲،حدیث:  ۴۲۵۴۹ ماخوذًا  وص۲۵۴، حدیث: ۴۲۳۷۲

[4]    شرح الصدور، ذکر تخفیف ضمۃ القبر علی المؤمن،ص۳۴۵

[5]    مسند امام احمد، مسند انس بن مالک بن النضر،۴ / ۲۵۳،حدیث: ۱۲۲۷۳ و مصنف عبد الرزاق،کتاب الجنائز، باب الصبر والبکاء  والنیاحۃ،۳ / ۳۷۶،حدیث: ۶۷۳۱

[6]    مسلم،کتاب الجنۃ ۔۔۔الخ،باب عرض مقعد۔۔۔الخ،ص۱۵۳۵،حدیث: ۲۸۷۰



Total Pages: 55

Go To