Book Name:Yaqeen e Kamil ki Barkatain

ارشاد: بَسَنْت میلا یہ ایک گستاخِ رسول کی یادگار ہے اسے جاری کرنے والے  مرکھپ کر اپنے کیفرِ کردار کو پہنچ  گئے مگر افسوس ! صد کروڑ افسوس ! اپنی یقینی اور اٹل موت سے غافل مسلمانوں نے اسے جاری رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا اور کررہے ہیں جس کی وجہ سے اب بھی یہ گناہوں بھرا سلسلہ تمام تر ہلاکت خیزیوں کے ساتھ اپنی نحوستیں لُٹا رہا ہے۔آج مسلمان  کہلانے والے’’بَسَنْت ‘‘  کے نام سے غیر مسلموں کے اس تہوارکوفخریہ طورپر بڑی دھوم دھام سے مناتے ہیں جس میں پتنگ بازی کے خوب خوب مقابلے ہوتے ہیں، ایک دوسرے کی ڈَوریں کاٹی اورلوٹی جاتی ہیں،  مکانوں کی چھتوں پر ڈیک لگا کرفُحش گانے چلائے جاتے ہیں۔ پتنگ کٹ جانے پر اتنی خوشی منائی جاتی ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے مل کررَقْص کرتے ہیں، مرد تو مرد خواتین بھی اس کارِگناہ میں مردوں سے پیچھے رہ جانے کو گویاخلافِ شان خیال کرتی ہیں،  بڑے بڑے شہروں میں پہلے ہی سے ہوٹل اوراونچی اونچی عمارتوں کی چھتیں بک ہوجاتی ہیں،  جس میں ملک کے طول وعرض سے بے شمار لوگ شریکِ مَعاصی  (گناہ)  ہوتے ہیں،  الغرض بے حیائی و فحاشی اور دیگر گناہوں کا بازار خوب گرم ہوتا ہے کہ اَلْاَمَان وَالْحَفِیْظ ۔

ہرسال اس منحوس تہوار کے باعث بے شمار افراد چھتوں سے گرکر،  پتنگ کی ڈورپھنسنے ،  بجلی کی تاروں کے گِرنے یا مقابلہ بازی کے دوران آپس میں لڑجھگڑکر موت کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں،  نہ جانے کتنے ہی بچّوں کی شہ رَگیں تیز ڈور سے کٹ جاتی ہیں،  بیسیوں افراد ٹانگیں یابازو تُڑواکر عمربھر کے لئے اَپاہج اور والدَین اور دیگر اہلِ خانہ کیلئے وبالِ جان بن جاتے ہیں اورکئی ماں باپ اپنے بچّے کو اس منحوس تہوارکی نَذرکر کے پوری زندگی کے لیے دل پراولادکی جُدائی کاداغ لیے پھرتے ہیں۔ اہم شخصیتوں کے علاوہ غیرملکی سفیروں کوبھی مدعُو کر کے پتنگ بازی کے نظارے کی زحمت دی جاتی ہے اوروہ لوگ اس قوم کی ان کارستانیوں کو دیکھ کر مسکراتے ہیں کہ اس قوم کابچّہ بچّہ ہزاروں کا مقروض ہے لیکن یہ قوم اپنے ملک کوبچانے کے بجائے کروڑوں روپے پتنگ بازی کی نذر کر رہی ہے۔ الغرض نفس وشیطان کی چال میں آکر بے شمار مسلمان اپنا وقت اور پیسہ ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ بسااوقات اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ سبھی مسلمانوں کو عقلِ سلیم عطافرمائے اور ان فضول و بیہودہ کاموںسےخود بھی  بچنے اور دوسروں کو بچانے کی توفیق عطافرمائے ۔  ([1])

دل کے پھپھولے جل اُٹھے سینے کے داغ سے

اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

ایمان کی حفاظت کا وظیفہ

عرض: ایمان پر خاتمہ کے لیے کوئی وظیفہ ارشاد فرما دیجیے۔

ارشاد: دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ  561 صَفحات پر مشتمل کتاب”ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت“ (مکمل)  صَفْحَہ 311پر شہزادۂ اعلیٰ حضرت،  تاجدارِ اہلسنّت، حُضُور مفتیٔ اعظم ہند مولانا مصطَفٰے رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: ایک روز بعد فراغ نماز عشاء لوگ دست بوس ہو رہے تھے اِس مجمع میں سے ایک صاحِب نے (حُضُور اعلیٰ حضرت کی) خدمت با بَرکت میں عرض کی: حُضُور! میں”ضِلع ہوشنگ آباد“ کا رہنے والا ہوں،  مجھے حُضُور کی”جبل پور“تشریف آوَری کی رَیل  (ٹرین)  میں خبر ملی لہٰذا ڈاک سے صِرف دُعا کے واسِطے حاضِر ہوا ہوں کہ خُداوندِ کریم (عَزَّ  وَجَلَّ) ایمان کے ساتھ خاتِمہ بِالخیر کرے۔

 حُضُور نے دُعا دی اور ارشاد فرمایا: اکتالیس بار صبح ([2])  کو” یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ “اوَّل و آخِر دُرُود شریف،  نیز سوتے وَقت اپنے سب اَوراد کے بعد سورۂ کافرون روزانہ پڑھ لیا کیجیے اس کے بعد کلام  (گفتگو)  وغیرہ نہ کیجئے ہاں اگر ضَرورت ہو تو کلام (بات)  کرنے کے بعد پھر سورۂ کافرون تلاوت کر لیں کہ خاتِمہ (اختِتام ) اسی پر ہو،  اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّ خاتِمہ ایمان پر ہو گا اور تین بار صبح اور تین بار شام اس دُعا کا وِرد رکھیں: اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنْ اَنْ نُّشْرِکَ بِکَ شَیْأً نَّعْلَمُہُ وَنَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَا نَعْلَمُ۔“ ([3])

آپ بھی اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کے ارشاد فرمودہ وظائف بیان کردہ طریقے کے مطابق پابندی کے ساتھ  کیجیے اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّ خاتمہ بالخیر نصیب ہوگا۔اس کے علاوہ حضرتِ سیِّدُنا خِضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام مع کُنْیَت و وَلدِیَّت ولقب یاد کرلیجیے کہ تفسیرِ صاوی میں ہے: جو کوئی حضرتِ  سیِّدُنا خِضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام مع کُنْیَت ووَلدِیَّت ولقب یاد رکھے گا اُس  کا خاتِمہ ایمان پر  ہو گا۔ آپ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام مع کُنْیَت و وَلدِیّت و لقب یہ ہے:

 



[1]     مزید تفصیلات جاننے کے لیے شیخِ طریقت، امِیرِ اہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا رسالہ ”بَسَنْت میلا“ کا مطالعہ کیجیے ۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ )

[2]     آدھی رات ڈھلے سے سورج کی پہلی کرن چمکنے تک صُبح کہلاتی ہے اور دوپہر ڈھلنے سے غروبِ آفتاب تک شام کہلاتی ہے۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ )

[3]     مسندِ  احمد ، ج۷،ص۱۴۶،حدیث۱۹۶۲۵



Total Pages: 9

Go To