Book Name:Yaqeen e Kamil ki Barkatain

میرے آقائے نعمت، اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰنفتاویٰ رضویہ جلد 22 صفحہ 270پرارشاد فرماتے ہیں: ’’احادیثِ صَحِیْحَہ سے ثابِت حُضُور ِ اَقدس صَلَّی  اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اِسے  (یعنی خواب کو )  اَمْرِ عظیم جانتے اور اس کے سُننے،  پوچھنے،  بتانے ،  بیان فرمانے میں نہایت دَرْجے کااِہْتِمام فرماتے۔ صحیح بُخاری وغیرہ میں حضرتِ سیِّدُنا سَمُرہ بن جُنْدَب رضی  اللہ تعالٰی عنہ  سے رِوایت ہے ، حُضُور صَلَّی  اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نمازِ صُبْح پڑھ کر حاضِرین سے دریافت فرماتے: ’’آج کی شَب کسی نے کوئی خواب دیکھا ؟ ‘‘ جس کسی نے دیکھاہوتا عرض کردیتا ،  حُضور صَلَّی  اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمتعبیربیان فرماتے۔ ([1])

حضرتِ سیِّدُناابو سعید خُدری رضی  اللہ تعالٰی عنہ  سے روایت ہے کہ حُضُورِ اکرم ، نورِ مجسم صَلَّی  اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ معظم ہے : ’’اچھا خواب نُبُوَّت کا 70 واں ٹکڑاہے ۔جو کوئی اچھا خواب دیکھے اُسے چا ہیے کہ اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی حمد بجا لائے اور لو گوں کے سا منے بیان کرے اور جو اِس کے علاوہ دیکھے تو اپنے خواب سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی پناہ ما نگے اور کسی کے سامنے بیان نہ کرے تا کہ وہ اُسے نقصان نہ دے ۔ ‘‘   ([2])

قرآنِ کریم،  احادیثِ مبارَکہ اور بُزرگانِ دینرَحِمَہُمُ  اللہ الْمُبِین کی کتابوں میں خوابوں کا بکثرت تذکِرہ ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا امام ابو القاسِم قُشَیری عَلَیْہِ رَحمَۃُ  اللہ الْقَوِی نے ’’رِسالۂ قُشَیْرِیَّہ  ‘‘ میں ایک باب بنام ”رُؤْیَا الْقَوم“قائم کیا ہے جس میں66اَولیائے کرام کے خواب نَقْل فرمائے ہیں۔حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ  اللہ الوَالِی نے احیاء العلوم کی جلد4  صَفْحَہ 540تا 543 پرایک باب بنام ’’مَنَامَاتُ المَشائِخ  ‘‘  قائم کیا ہے جس میں انہوں نے 49 خواب نَقْل کئے ہیں۔ اسی طرح ’’حَیاتِ اعلیٰ حضرت  ‘‘   (مطبوعہ مکتبۂ نَبَویّہ گنج بخش روڈ مرکز الاولیاء لاہور )  کے صَفْحَہ نمبر 424تا 432 پرمیر ے آقا اعلیٰ حضرت،  اِمامِ اَہلسنّت، مُجَدِّدِ دین ومِلّت، مولانا شاہ  امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کے 14خواب خود آپ ہی کی زَبانی مَروی ہیں۔  

پتنگ اُڑانااوراس کی ڈور لوٹنا کیسا ؟

عرض: پتنگ اُڑانا اوراس کی ڈور لوٹنا کیسا ہے؟

ارشاد: پتنگ اُڑانالَہوولعِب ہے جو کہ ناجائزہے اور اس کی ڈور لُوٹنا حرام ہے۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت،  امامِ اہلِسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن سے کَنْ کَیَّا (کَنْ۔کَیْ۔یَا)  یعنی پتنگ اُڑانے اوراس کی ڈور لوٹنے کے بارے میں سُوال ہواتو ارشاد فرمایا: ’’کَنْ کَیَّا اُڑانالَہْو و لَعِب اور’’لہو ‘‘  ناجائز ہے۔حدیث میں ہے:  ’’ کُلُّ لَھْوِ الْمُسْلِمِ حَرَامٌ اِلَّا ثَلَاثَۃٌ مسلمان کے لئے کھیل کی چیزیں سوائے تین چیزوں کے سب حرام ہیں۔“   ([3]) ڈور لوٹنانہبٰی (لوٹ مار)  اورنہبیٰ حرام ہے کہ حُضورِ پُرنور ،  شافِعِ یومُ النُّشُورصَلَّی  اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے لوٹ مار سے منع فرمایا۔ ([4])   (اس صورت میں)  لوٹی ہوئی ڈَور کامالک اگر معلوم ہو تو فرض ہے کہ اسے دے دی جائے اور اگر نہ دی اور بغیر اس کی اجازت کے اس سے کپڑا سیاتو اس کپڑے کا پہننا حرام ہے،  اسے پہن کر نماز مکروہِ تحریمی ہے جس کا پھیرناواجب ہے ا س وجہ سے کہ اس میں حرام شامل ہوگیاہے جیسے کسی کی غَصَب شُدہ زمین پرنَماز پڑھنا اور اگر مالک نہ ہوتو وہ لُقْطہ ہے یعنی پڑی پائی چیز ، واجب ہے کہ اسے مشہور کیا جائے یہاں تک کہ مالک کے ملنے کی اُمّید قَطْع (ختم)  ہو۔ اس وقت وہ شخص غنی ہے تو فقیرکودیدے اور اگر فقیرہے تو اپنے صَرف  (استعمال)  میں لا سکتا ہے پھر جب مالک ظاہرہواور فقیرکے صرف میں آنے پرراضی نہ ہوتو اپنے پاس سے اس کا تاوان (یعنی اِسی طرح کی اتنی ہی ڈور یا اس کی رقم)  دینا ہوگا۔ ([5])

ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: ’’کَنْ کَیَّا ( پتنگ ) اُڑانا منع اور لڑانا گناہ اوراس کالوٹنا حرام ہے۔ خود آکر گر جائے تو اسے پھاڑ ڈالے اور اگر معلوم نہ ہو کہ کس کی ہے تو ڈور کسی مسکین کو دے دے کہ وہ کسی جائز کام میں صرف کر لے اور خود مسکین ہو تو اپنے صرف میں لائے پھر جب معلوم ہو کہ فُلاں مسلم کی ہے اور وہ اس تصدُّق  (صدقہ کرنے) یا اس مسکین کے اپنے صَرف میں لانے پر راضی نہ ہو تو دیناہوگی اور کَنْ کَیَّا ( پتنگ ) کا مُعاوَضہ بَہَرحال کچھ نہیں۔ ‘‘   ([6])

بسنت میلے اورپتنگ بازی کی آفات

عرض: بَسَنْت منانے اور اس میں پتنگ با زی کرنے کے با رے میں کچھ ارشاد فرما دیجیے۔ 

 



[1]     بخاری ،ج۱،ص۴۶۷،حدیث۱۳۸۶

[2]     مُسْندِ احمد، ج۲،ص۵۰۲، حدیث۶۲۲۳

[3]     سوائے تین کھیلوں کے دنیا کا ہر کھیل باطل ہے (۱) اپنی کمان سے تیر اندازی کرنا(۲) اپنے گھوڑے کو شائستگی سکھانا(۳)اپنی گھر والی یعنی اہلیہ کے ساتھ کھیلنا، یہ تینوں جائز ہیں۔ (مستدرکِ حاکم، ج۲، ص۴۱۹،حدیث۲۵۱۳)

[4]     بخاری،ج۲،ص۱۳۷، حدیث۲۴۷۴

[5]     اَحْکامِ شَرِیْعَت، حصّہ اوّل ،ص۳۷

[6]     فتاویٰ رضویہ،ج۲۴،ص۶۶۰،ملخصاً



Total Pages: 9

Go To