Book Name:Yaqeen e Kamil ki Barkatain

عرض: ننگے سر بیتُ الخلا میں جانا کیسا ہے؟

ارشاد: ننگے سر بیتُ الخلاء میں جانا ممنوع ہے۔صدرُ الشَّریعہ،  بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ  اللہ الْقَوِی  فرماتے ہیں: ننگے سر پاخانہ ، پیشاب کو جانا یا اپنے ہمراہ ایسی چیز لے جانا جس پر کوئی دُعا یا اللہ و رسول یا کسی بزرگ کا نام لکھا ہو ممنوع ہے۔ یوہیں کلام کرنا مکروہ ہے۔ ([1]) لہٰذا بیت الخلا میں جاتے وقت سر کو کسی چیز سےڈھانپ لینا چاہیےکہ یہ سنّت ہے چنانچہ  مُفَسِّر شَہِیر،  حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: سر ڈھک کر پاخانے جانا سنّت ہے،  ننگے سر پاخانے جانے والااس سنّت میں عمل نہ کر سکا۔ ([2])

عورت کا اپنے شوہَر کو نام لے کرپُکارَنا کیسا؟

عرض: کیا عورت اپنے شوہر کا نام لے تو طلاق پڑجاتی ہے؟

ارشاد: عورت اپنے شوہر کا نام لے کر پُکارے تو اس سے طلاق نہیں پڑتی البتہ عورَت کا اپنے شوہر کو نام لے کر پکارنا مَکروہ ہے چنانچہ صَدْرُالشَّرِیْعَہ،  بَدْرُالطَّریْقَہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ  اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں: ’’عورت کو یہ مَکْرُوہ ہے کہ شوہَر کو نام لے کر پُکارے۔ بعض جاہِلوں میں یہ مشہور ہے کہ عورت اگر شوہر کا نام لے لے تو نِکاح ٹوٹ جاتا ہےیہ غَلَط ہے، شاید اسے اس لئے گھڑا ہو کہ اِس ڈر سے کہ طلاق ہوجائے گی،  شوہر کا نام نہ لے گی۔“  ([3])

پہلے کی خواتین اپنے شوہر کا نام لینے سے شرماتی تھیں لیکن آج کل اکثر عورَتیں ’’میرا شوہر،  میرا شوہر ‘‘  کہتے  تھکتی ہیں نہ لجاتی ہیں بلکہ شادی کے بعد بطورِ نسبت اپنے والِد کا نام لینا تو کُجا اپنا نام بھی بھُول جاتی ہیں اور لفظِ مِسِز یا بیگم کے ساتھ بِلا جھجک اپنے شوہر کا نام لیتی ہیں مثلاً مِسز جمیل یا بیگم خلیل۔ اپنے شوہَر کے نام کے ساتھ مشہور ہونے میں عقلاً بھی نقصان ہے کہ اگر خدانخواستہ شوہرِ نامدار نے طلاق دیدی یا شوہر پہلے فوت ہوگیاتو پھر؟ کیونکہ مرنے سے نِکاح ٹوٹ جاتا ہے لہٰذا عافیت اِسی میں ہے کہ عورت شادی کے بعد بھی پکارنے میں اپنے والدِگرامی کے ساتھ ہی نِسبت کا اِظہار کرے مثلاً ’’بنتِ قاسِم اور بنتِ ہاشِم ‘‘ وغیرہ۔ اسی طرح شوہر کو بھی چاہیے کہ بِلاضَرورت ’’میری بیوی (Wife)  ‘‘  کہنے کے بجائے حسبِ ضرورت ’’میرے گھر والے یا میرے بچوں کی امّی ‘‘  وغیرہ کلِمات کہے۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو اور اسلامی بہنو! اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں ایسی ہی پیاری سوچ دی جاتی ہے آپ بھی دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے ہردم وابستہ ہوجائیے، مدنی ماحول میں جہاں اسلامی بھائیوں کی اصلاح ہورہی ہے وہیں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اسلامی بہنوں کی بھی اصلاح ہو رہی ہے،  آپ کی ترغیب وتحریص کے لیے ایک مدنی بہار پیش کی جاتی ہے ملاحظہ فرمائیے : چنانچہ    بابُ المدینہ  (کراچی ) کی ایک اسلامی بہن کے بیان کا لبِّ لُباب ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی رنگ میں رنگنے سے پہلے بہت سی عورتوں کی طرح میں بھی بے پردگی، فیشن زدگی اور فحش کلامی جیسی برائیوں میں ملوث تھی ۔فلمیں ڈرامے دیکھنا میرا شوق اور گھروالوںسے لڑنا جھگڑنا میرا محبوب مشغلہ تھا ، اپنے بچوں کے ابو سے زبان دَرازی کرنے کو گویامیں اپنا حق سمجھتی تھی ۔علمِ دین سے کوسوں دُور اور فکرِ آخرت سے یکسر غافل تھی ۔ میرے سُدھرنے کی ترکیب یوں بنی کی ایک دن میں اپنی بہن کے ساتھ ان کی سہیلی کے گھر گئی ۔ان کی سہیلی جو ایک باحیااور پُر وقار شخصیت کی مالک تھیں ،  بڑی مِلَنْساری سے پیش آئیں۔

دورانِ گفتگو اِنکشاف ہوا کہ وہ دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہیں۔میں ان کی خوش اخلاقی اور عاجِزی و اِنکساری سے بڑی متأثر ہوئی۔انہوں نے بڑے دھیمے اور محبت بھرے لہجے میں ہمیں دعوتِ اسلامی کے اسلامی بہنوں کے ہفتہ وارسنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت دی ۔ان کی اس مختصر سی اِنفرادی کوشش کے نتیجے میں مجھے اتوار کے روز ہونے والے سنّتوں بھرے اجتماع میں حاضری کی سعادت نصیب ہوئی ۔وہاں پر میں نے تلاوتِ قرآن ، نعت شریف اور بیان سنا ، جب  ذِکْرُ اللہ کے بعد اجتماعی دعا میں کی جانے والی گریہ وزاری سنی تو میرے دل کی دنیا زیروزَبر ہوگئی ، مجھ پر عجیب رِقَّت طاری تھی ، پچھلی زندگی کے گناہ میری نگاہوں میں گھوم رہے تھے ، مارے شرم کے میں پانی پانی ہوگئی،  آنکھوں سے اشکِ ندامت بہہ نکلے ۔میں نے خُوب گڑاگڑا کر  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے اپنے تمام گناہوں کی معافی مانگی اور توبہ کر لی ۔اجتماع کے بعد میں نے ایک نئی زندگی کا آغاز کیا ، جس میں نمازوں کی پابندی تھی،  پردے کی عادت تھی، بڑوں کا ادب چھوٹوں پر شفقت تھی ،  گُفْتار میں نرمی تھی،  نگاہوں کی حفاظت تھی الغرض قدم قدم پر شریعت کی پاسداری کی کوشش تھی ۔دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول پرقربان ،  جس کی بدولت مجھے سدھرنے کا موقع ملا ۔

 



[1]     بہارِ شریعت ،ج۱،ص۴۰۹

[2]     مِرآۃُ المناجیح ،ج۱،ص ۱۷۸

[3]     بہارِشَریعت، ج۳،ص۶۵۷۔۶۵۸



Total Pages: 9

Go To