Book Name:Yaqeen e Kamil ki Barkatain

  سلسلۂ عالیہ چِشتیہ کے عظیم پیشوا، خواجہ خواجگان،  سلطانُ الہند حضرت سیِّدُنا خواجہ غریب نواز حسن سَنْجَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ  اللہ الْقَوِی  کافرمان ہے: جو شخص قرآنِ شریف کو دیکھتا ہے اللہتعالیٰ کے فَضْل و کرم سے اس کی بِینا ئی زیادہ ہو جاتی ہے اور اس کی آنکھ کبھی نہیں دُکھتی اور نہ خشک ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ ایک بُزرگ سجادے پر بیٹھے ہو ئے تھے اور سامنے قرآن شریف رکھا تھا۔ ایک نابینا نے آکر اِلتماس کی کہ میں نے بہت علاج کئے مگر آرام نہیں ہوا اب آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ میری آنکھیں ٹھیک ہو جا ئیں۔ مَیں آپ سے فاتحہ کے لیے ملتجی (درخواست گزار) ہوں۔اس بُزرگ نے قِبلہ رُخ ہو کر فاتِحہ پڑھی اور قرآن شریف اُٹھا کر اس کی آنکھوں پر مَلاجس سے اس کی دونوں آنکھیں رو شن ہو گئیں۔ ([1])

قُرآنِ پاک والے صندوق پر سامان رکھناکیسا؟

عرض: قُرآنِ پاک جس صندوق یا اَلْماری میں ہو اُس کے اُوپر سامان کا تھیلا  (Bag) وغیرہ رکھ سکتے ہیں یا نہیں؟

ارشاد: قُرآنِ پاک جس صندوق یا اَلْماری میں ہو اُس کے اُوپر سامان کا تَھیلا  (Bag) وغیرہ رکھنا تو دور کی بات   فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ  اللہ السَّلَام  فرماتے ہیں اُس پر کپڑا بھی نہ رکھا جائے چنانچہ صَدْرُالشَّریعہ،  بَدْرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ  اللہ الْقَوِی  فرماتے ہیں: قرآنِ مجید جس صندوق میں ہو اُس پر کپڑاوغیرہ نہ رکھا جائے۔ ([2])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  اپنے دلوں میں قرآن ِ مجید کی عظمت پیدا کیجیے اور خوب خوب اس کا ادب واحترام بجالائیے،   ہو سکتا ہے کہ یہی عمل اللہ عَزَّوَجَلَّ   کی بارگاہ میں قبول ہوجائے اور ہماری مغفرت کاسبب بن جائے۔ دلیلُ العارفین میں ہے کہ  پہلے زمانے میں ایک فاسِق نوجوان تھا جس کی بدکاری سے مسلمانوں کو نفرت آتی تھی۔ اسے بَہُت منع کرتے لیکن وہ ایک نہ سُنتا۔اَلْغرض جب اس کا اِنتقال ہو گیا تو کسی نے اِسے خواب میں دیکھا کہ سر پر تا ج رکھے فِرِشتوں کے ہَمراہ جنّت میں جا رہا ہے ، اِس سے پوچھا  کہ تُو تو بد کار تھا، یہ دولت کہاں سے نصیب ہو ئی ؟ جواب دیا : دنیا میں مجھ سے ایک نیکی ہو ئی وہ یہ کہ جہاں کہیں قرآن شریف پرمیری نگاہ پڑتی ،  کھڑے ہو کر تعظیم کی نظرسے اسے دیکھتا۔ اللہتعالیٰ نے مجھے اس کی بدولت بخش دیا اور یہ دَرَجہ عِنایت فرمایا ۔  ([3])

قُرآنِ پاک پردِینی کُتُب رکھناکیسا؟

عرض: کیا قرآنِ پاک پرکوئی دینی  کتاب بھی نہیں رکھ سکتے ؟

ارشاد: قرآنِ پاک پرکوئی دینی  کتاب بلکہ ترجمہ و تفسیر بھی نہیں رکھ سکتے۔ سب سے اُوپر قرآن ِ پاک ہونا چاہیے اس کے نیچے  درجہ بدرجہ دیگر کتابیں رکھی جائیں ۔کتابوں کے ایک دوسرے پر رکھنے کی ترتیب بیان کرتے ہوئے صدرُ الشَّریعہ،  بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ  اللہ الْقَوِی  فرماتے ہیں : لغت و نحو و صرف کاایک مرتبہ ہے،  ان میں ہر ایک کی کتاب کو دوسرے کی کتاب پر رکھ سکتے ہیں اور ان سے اوپر علمِ کلام کی کتابیں رکھی جائیں،  ان کے اوپر فقہ اور احادیث و مَواعظ و دعواتِ ماثورہ فقہ سے اوپراور تفسیر کو ان کے اوپر اور قرآنِ مجید کو سب کے اوپر رکھیں۔قرآنِ مجید جس صندوق میں ہو اس پر کپڑاوغیرہ نہ رکھا جائے۔ ([4])

قُرآنِ پاک ہاتھوں سے چھوٹنے کاکفّارہ

عرض: قرآنِ پاک ہاتھوں سے چھوٹ جائے تو اس کا کیا  کَفّارہ ہے؟

ارشاد: قرآنِ پاک ہاتھوں سے چھوٹ جائے تو شرعاًاِس کاکوئی کفّارہ نہیں البتہ  کچھ نہ کچھ صدقہ کر دینا بہترہے تاکہ اس معاملے  میں جو غفلت یا کوتاہی ہوئی وہ  مُعاف ہو جائے۔ بعض علاقوں میں قرآنِ مجیدہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر تشریف لے آئے تو گندم یاآٹا قرآنِ مجید کے برابر تول کر صَدَقہ کر دیتے ہیں۔  گندم یا آٹا صدقہ کرنا اچّھاعمل ہے مگر قرآنِ مجید کے برابر تول کر خیرات کرنا ضروری نہیں بلکہ کمی بیشی  کے ساتھ بھی صدقہ و خیرات کر سکتے ہیں ۔

نَنگے سربیتُ الخلا میں جانا کیسا؟

 



[1]     دَلیْلُ الْعارِفِیْن اَزْ ہَشت بَہِشْت، ص۸۰

[2]     بہارِشریعت، ج۳،ص۴۹۵

[3]     دَلیْلُ الْعارِفِیْن اَزْ ہَشت بَہِشْت، ص۸۰  

[4]     بہارِشریعت، ج۳،ص۴۹۵



Total Pages: 9

Go To