Book Name:Yaqeen e Kamil ki Barkatain

یکایک (یعنی اچانک)  جانا ہو گیا ،  اپنا پہلے سے کوئی اِرادہ نہ تھا۔ پہلی بار کی حاضری حضرات والدین ماجِدَیْن رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما کے ہمراہ رِکاب  (یعنی ہمراہی میں)  تھی۔ اُس وقت مجھے تئیسواں سال تھا۔ واپسی میں تین دن طوفان شدید رہا تھا،  اِس کی تفصیل میں بہت طُول ہے ۔ لوگوں نے کَفَن پہن لئے تھے۔ حضرت والدہ ماجدہ کا اِضْطِراب (یعنی پریشانی)  دیکھ کر اُن کی تسکین  (یعنی تسلی) کیلئے بے ساختہ میری زبان سے نکلا کہ آپ اِطْمِینان رکھیں،  خدا کی قَسم! یہ جہاز نہ ڈوبے گا ۔ یہ قَسَم میں نے حدیث ہی کے اِطْمِینان پر کھائی تھی جس میں کشتی پر سوار ہوتے وقت غرق (یعنی ڈوبنے)  سے حِفاظت کی دُعا ([1])  اِرشاد ہوئی ہے۔ میں نے وہ دُعا پڑھ لی تھی لہٰذا حدیث کے وعدۂ صادِقہ (یعنی سچے وعدے)   پر مطمئن تھا ۔ پھر بھی قَسَم کے نکل جانے سے خود مجھے اندیشہ ہوا اور معاًحدیث یاد آئی : مَنْ یَّتأَلَّ عَلَی اللہِ یُکْذِبُہ  (یعنی)  جو اللہ تعالیٰ پر قسم کھائے ،  اللہ اُس کی قسم کو رد فرما دیتا ہے۔ ([2]) حضرت عزّت  (یعنی اللہ تعالیٰ)  کی طرف رُجوع کی اور سر کارِ رِسالت (صَلَّی  اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)  سے مدد مانگی اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  (عَزَّ  وَجَلَّ) کہ وہ مخالف ہَوا کہ تین دن سے بَشِدَّت چل رہی تھی دو گھڑی میں بالکل مَوقُوف ہوگئی (یعنی رُک گئی) اور جہاز نے نَجات پائی ۔ ([3])

اَلْبَحْرُ عَلَا وَالْمَوْجُ طَغٰی،  مَن بے کس وطوفاں ہوشربا

             مَنجْدَھار میں ہوں بگڑی ہے ہوا ،  موری نَیَّا پار لگاجانا               (حَدائِقِ بَخْشش)

 (یعنی سمندر چڑھاہواہے اورموجیں طغیانی پرہیں۔مَیں بے کس ہوں اور طوفان ہوش اُڑانے والاہے۔ میں بھنور میں پھنس گیا ہوں اورہوا بھی مخالف سمت چل رہی ہے۔ یارسولَ اللہ صَلَّی  اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم!  ایسی حالت میں آپ میری کشتی کو کنارے لگا دیجیے۔)

شَیْخَیْن، طَرَفَیْن، صَاحِبَیْن اور صَحِیْحَیْن سے مُراد

عرض: شَیْخَـیْن، طَرَفَین، صاحِبَیْن، صَحِیْحَیْناورصِحاح    سِتَّہ سے کیامُراد ہے؟

ارشاد: خلفاءِ راشدِین میں سے امیرالْمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق اور امیرالْمؤمنین حضرتِ سیِّدُنافاروقِ اعظم رضی  اللہ تعالٰی عنہما کو ، مُحَدِّثِیْن میں سے اِمام محمد بن اِسمٰعیل بُخاری اور اِمام مسلم بن حَجَّاج قُشَیریرَحِمَہُمَا اللہ تعالٰی کواور اَئمہ میں سے امامِ اعظم نعمان بن ثابِت و امام ابویوسفرَحِمَہُمَا اللہ تعالٰی کو شَیْخَـیْن کہا جاتا ہے ۔

حضرتِسیِّدُناامامِ اعظم ابوحنیفہ و حضرتِ سیِّدُنا اِمام محمدبن حسن شیبانی رَحِمَہُمَا اللہ تعالٰی کو طَرَفَین اورحضرتِ سَیِّدُنا اِمام ابویوسف اور امام محمد بن حسن شیبا نیرَحِمَہُمَا اللہ تعالٰی کو صَاحِبَیْن کہتے ہیں۔

احادیثِ مبارکہ کی دو مشہورکتابوں صحیح بُخاری اور صحیح مُسلِم کو ’’صَحِیْحَیْن ‘‘  کہا جاتا ہے اور اگر ان کے ساتھ سُنَنِ اَرْبَعہ (سنن ابو داؤد،  سنن ترمذی ، سنن اِبنِ ماجہ اورسنن نَسائی) بھی شامل ہوں تو اِن چھ کُتُبِ احادیث کو ’’صِحاح سِتَّہ ‘‘  کہا جاتا ہے۔

قُرآنِ پاک کو چُومَنا کیسا؟

عرض: قرآنِ پاک کو چُومنااور چہرے پر مَس کرناکیساہے؟

ارشاد: قرآنِ پاک کو چُومنااور چہرے پر مَس کرناصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے فعل سے ثابت ہے چنانچہ فقۂ حنفی کی مشہور ومعروف کتاب دُرِّمُختار میں ہے : امیرُالْمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اعظمرضی  اللہ تعالٰی عنہ روزانہ صبح کو مُصْحَف  (یعنی قرآنِ مجید) کو بوسہ دیتے تھے اور کہتے یہ میرے رب کا عہد اور اس کی کتاب ہے۔اَمیرُالْمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عثمان غنیرضی  اللہ تعالٰی عنہ بھی مُصْحَف کو بوسہ دیتے اور چہرے سے مس کرتے تھے ۔ ([4])

اعلیٰ حضرت،  امامِ اہلِسنّت ،  مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن  فرماتے ہیں: ’’ مُصْحَف ( یعنی قرآن )  شریف کو تَعْظِیماً سر اور آنکھوں اور سینے سے لگانااور بو سہ دینا جائزومُستحَب ہے کہ وہ اَعظم شعائِر سے ہے اور تعظیمِ شعائر  تَقْوَی الْقُلُوْب  (دلوں کی پرہیز گاری) سے۔ ‘‘  ([5])

 



[1]     کشتی میں سوار ہوتے وقت کی دُعا: بِسْمِ اللہِ الْمَلِکِ الرَّحْمٰنِ مَجْرٖھَا وَمُرْسَاھَا اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ترجمہ: اللہ مالک ومہربان کے نام پر اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا بیشک میرا رب ضرور بخشنے والا مہربان ہے۔ (کنزالعمّال،ج۶،ص۳۰۳،حدیث۱۷۵۳۴)

[2]     کنز العمّال،ج۱۵،ص۳۸۸ ،حدیث۴۳۵۸۰(یعنی خواہ مخواہ حکمِ قطعی کرے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ضرور ایسا کرے گا جیسے کوئیاللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی قسم کھاکر کہے کہ فلاں شخص جنت میں جائے گا ، فلاں دوزخ میں ۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)  

[3]     ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت،ص ۱۸۱۔۱۸۲

[4]     دُرِّمختار ،ج۹،ص۶۳۴

[5]     فتاویٰ رَضَوِیّہ، ج۲۲،ص۵۶۳



Total Pages: 9

Go To