Book Name:Shohar ko Kaisa Hona Chahiye?

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنط

اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ط بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمط

شوہر کو کیسا ہونا چاہئے ؟ [1]

دُرود شریف کی فضیلت

رحمتِ عالم، نورِ مجسم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْـہِ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ معظم ہے : تم اپنی مجلسوں کو مجھ پر درودِ پاک پڑھ کر آراستہ کرو، تمہارا درود پڑھنا قیامت کے روز تمہارے لئے نور ہوگا ۔ ([2])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                      صلّی اللّٰہ تعالٰی علٰی محمَّد

شوہر پر بیوی کے احسانات

ایک شخص امیرُ المؤمنین حضرت سَیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں اپنی بیوی کی شکایت لے کر حاضرہوا ۔ جب دروازے پر پہنچا تو ان کی زوجہ حضرت اُمِّ کلثوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی(غصے کی حالت میں)بلند آواز سے گفتگو کرنے کی آواز سنائی دی ۔ جب اس شخص نے یہ ماجرا دیکھا  تویہ کہتے ہوئے واپس لوٹ گیا کہ میں اپنی بیوی کی شکایت کرنے آیا تھا لیکن یہاں تو خود امیرُالمؤمنین بھی اسی مسئلے سے دوچار ہیں ۔ بعد میں حضرت سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس شخص کو بُلواکر آنے کی وجہ پوچھی ۔ اس نے عرض کی : حضور!میں تو آپ کی بارگاہ میں اپنی بیوی کی شکایت لے کر آیا تھا مگر جب دروازے پر آپ کی زوجہ محترمہ کی گفتگو سنی تو میں واپس لوٹ گیا ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا کہ میری بیوی کے  مجھ پر چند حقوق ہیں جن کی بناء پر میں اس سے درگزر کرتا ہوں ۔

٭ وہ  مجھے جہنم کی آگ سے بچانے کا ذریعہ ہے ، اس کی وجہ سے  میرا دل حرام کی خواہش سے بچا رہتا ہے ۔ ٭ جب میں گھر سے باہر ہوتا ہوں تو وہ میرے مال کی حفاظت کرتی ہے ۔ ٭ میرے کپڑے دھوتی ہے ۔ ٭ میرے بچے کی پرورش کرتی ہے ۔ ٭ میرے لئے کھانا پکاتی ہے ۔

یہ سُن کر وہ شخص بے ساختہ بول اُٹھا کہ یہ تمام فوائد تو  مجھے بھی اپنی بیوی سے حاصل ہوتے ہیں، مگر افسوس! میں نے اُس کی اِن خدمات اور احسانات کو مدِّنظر رکھتے ہوئے کبھی اُس کی کوتاہیوں سے درگزر نہیں کیا، آج  کے بعد میں بھی درگزر سے کام لوں گا ۔ ([3])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  نے مَردوں اور عورتوں کو جنسی بے راہ روی اور وسوسۂ شیطانی سے بچانے نیز نَسْلِ انسانی کی بقا و بڑھوتری اور قلبی سکون  کی فراہمی کے لئے اُنہیں جس خوبصورت رشتے کی لڑی میں پرویا ہے وہ رشتۂ اِزْدِواج کہلاتا ہے ۔ یہ رِشتہ جتنا اہم ہے اُتنا ہی نازک بھی ہے کیونکہ ایک دوسرے کی خلافِ مِزاج باتیں برداشت نہ  کرنے ، درگزر سے کام نہ لینے اور ایک دوسرے کی اچھائیوں کو نظر انداز کرکے صرف کمزوریوں پر نظر رکھنے کی عادت زندگی میں زہر گھول دیتی ہے جس کے نتیجے میں گھرجنگ کامیدان بن جاتا ہے جبکہ باہمی تعاوُن، خُلوص، چاہت، درگُزر  اور تحمل مِزاجی زندگی میں خُوشیوں کے رنگ بکھیر دیتے  ہیں ۔ بیان کردہ واقعہ میں حضرت سَیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی گُفتار اور اپنے عملی کردار کے ذریعے بیوی کی شکایت لے کر آنے والے شخص پر یہ بات واضح کردی کہ ایک شوہر کو کیسا ہونا چاہئے ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُس شخص کو جو مدنی پھول عطا فرمائے ان سے یہی درس ملتا ہے کہ شوہر کو عفو و درگزر، بُرد باری ، تحمل مزاجی اور وسیع ظرفی جیسی خوبیوں کا پیکر ہونا چاہئے ۔ واقعی اگر شوہر اپنی  بیوی  کی اچھائیوں اور اس کے احسانات پر نظر رکھے اور معمولی غلطیوں پر اس سے درگزر کرے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس کا گھرخوشیوں کا گہوراہ نہ بن سکے ۔ مگر افسوس !آج کل میاں بیوی کے درمیان ناچاقیوں اور لڑائی جھگڑوں کا مرض تقریباً ہر گھر میں سرایت کرچکا ہے جس کے سبب گھرگھر میدانِ جنگ بن چکاہے ۔ دراصل ہم میں سے ہرایک یہ چاہتاہے کہ  میرے حُقُوق پورے کئے جائیں  اور یہ بھول جاتا ہے  کہ دوسروں کے بھی کچھ حُقُوق ہیں جنہیں ادا کرنا مجھ پر لازم ہے ۔ بس یہیں سے نا اِتّفاقی  کی آگ شُعلہ زَن ہوتی ہے جو بڑھتے بڑھتے لڑائی جھگڑے کا روپ دھار کر قلبی چین وسکون کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے ۔ اگر میاں بیوی میں سے ہر ایک دوسرے کے حُقُوق ادا کرے اور اپنے حُقُوق کے معاملے میں نرمی سے کام لے تو گھر امن و سکون کا گہوارہ بن جائے ۔

گھر کی خوشحالی میں شوہر کا کردار

گھر کو امن اور خُوشیوں کا گہوارہ بنانے میں شوہر کاکردار بہت ہی اہم ہے ۔ اگر وہ اپنی ذمّہ داریاں اچھے طریقے سے نہیں نبھائے گا اور بیوی کے حُقُوق پورے نہیں کرے گا تو اُس کے گھر میں خُوشیوں کے پھول کیسے کھلیں گے ؟ اللہ رَبُّ العالمین جَـلَّ جَــلَالُهُ نے بیویوں کے حُقُوق سے مُتَعَلِّق قرآنِ مجید فُرقانِ حمید میں ارشاد فرمایا :

وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ۪- (پ۲، البقرة : ۲۲۸)

ترجَمۂ کنز الایمان : اور عورتوں کا بھی حق ایسا ہی ہے جیسا ان پر ہے شرع کے مُوافق  ۔

یعنی جس طرح عورتوں پر شوہروں کے حُقُوق کی ادا واجب ہے اسی طرح شوہروں پر عورتوں کے حُقُوق کی رعایت لازم ہے ۔ ([4]) امام ابو عبدُاللہ محمد بن احمد بن ابوبکر قُرْطُبِیْ عَلَیْہِ رَحمَۃُ



[1]   مبلغِ دعوتِ اسلامی و نگرانِ مرکزی مجلسِ شورٰی حضرت مولانا حاجی ابو حامد محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی نے یہ بیان ۲۱ربیع الثانی ۱۴۳۲ ہجری بمطابق 26 مارچ2011 عیسوی بروز ہفتہ عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی میں فرمایا ۔ یکم ربیع الثانی ۱۴۲۸ہجری بمطابق 19اپریل 2007 عیسوی کو فیضانِ مدینہ میں کیا گیا ایک اور بیان ”گھر کا افسر“اسی میں ضمّ   کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد۳ صفرالمظفر۱۴۳۵ ہجری بمطابق26 نومبر2014 عیسوی کو تحریری صورت میں پیش کیا جارہا ہے ۔ (شعبہ رسائلِ دعوتِ اسلامی مجلس المدینۃ العلمیۃ)

[2]    مسند الفردوس، ۳ / ۴۱۷ ، حدیث : ۳۱۴۸

[3]    تنبیه الغافلین، باب حق المراة علی الزوج، ص۲۸۰ملخـصاً  

[4]    خزائن العرفان ، پ۲، البقرة، تحت الآیۃ : ۲۲۸



Total Pages: 11

Go To