Book Name:Sarkar ka Andaz e Tableegh e Deen

کے رہبر  ، شافعِ محشرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ بختور ہے : آدمی اپنے  دوست کے دین پر ہوتا ہے تو تم ميں سے ہر ايک ديکھے کہ وہ کس کو دوست بنا رہا ہے ۔  ([1])

کا فر سے دوستی کرنا سخت حرام اور گناہ ہے چنانچہ میرے آقا اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنّت ، مجدِّدِ دین وملّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن  فرماتے ہیں : ’’ ہر کا فر سے دوستی اور ملاپ سخت منع ، حرام اور بَہُت بڑا گناہ ہے اور اگر دِینی رُجْحان کی بناء پر ہو تو بِلا شُبہ کفر ہے۔ ‘‘ ([2])

کُفّار سے دوستی کی ممانعت پر آیاتِ مبارکہ

عرض : کفّار سے دوستی کے بارے میں قرآنِ مجید ہماری کیا رہنمائی فرماتا ہے؟

ارشاد : قرآنِ مجیدمیں متعدد مقامات پر کفّار سے دوستی و مُوالات (یعنی باہمی اتّحاد) کی مُمانَعَت بیان فرمائی گئی ہے چُنانچہ پارہ3 سورۂ  آلِ عمران کی آیت نمبر 28 میںاللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشادفرماتاہے :

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةًؕ-

ترجَمۂ کنزالایمان :  مسلمان کافروں کو اپنا دوست نہ بنالیں مسلمانوں کے سوا اور جو ایسا کرے گا اُسے اللہ  سے کچھ علاقہ نہ رہا مگر یہ کہ تم ان سے کچھ ڈرو۔

اس آیتِ مبارکہ کے تحت صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ  اللہ الْہَادِی خزائن العرفان میں فرماتے ہیں : کُفّار سے دوستی ومَحبَّت ممنوع وحرام ہے ، انہیں رازدار بنانا ، ان سے مُوالات(یعنی باہمی اتحاد) کرنا ناجائز ہے۔ اگر جان یامال کاخوف ہو تو ایسے وقت صِرْف ظاہِری برتاؤجائز ہے۔

پارہ 7 سورۃُ الْانعام  کی آیت نمبر  68 میں ارشادِ ربُّ العباد ہے :

وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۶۸)

ترجَمۂ کنزالایمان : اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں  کے  پاس نہ بیٹھ ۔

اس آیتِ مبارکہ کے تحت مُفَسِّرِشَہِیْر حکیمُ الْاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّانتفسیر نورالعرفان میں فرماتے ہیں : اِس سے معلوم ہوا کہ بُری صحبت سے بچنا نہایت ضَروری ہے۔ بُرا یار بُرے سانپ سے بد تر ہے کہ بُرا سانپ جان لیتا ہے اور بُرا یار ایمان برباد کر تا ہے۔

اسی طرح  پارہ28 سورۃ المجادلہ  کی آیت نمبر 22 میں ارشاد ہوتا ہے :

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْؕ-

 ترجَمۂ کنزالایمان : تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی  اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کُنبے والے ہوں۔

اس آیتِ مبارکہ کے تحت تفسیر نور العرفان میں ہے : “ یعنی مومنِ کامل کی علامت یہ ہے کہ اس کا دِل کُفّار کی طرف نہیں جُھکتا اور اِن سے مُطلقاً اُلفت نہیں ہوتی ، اس کے ماں باپ بھائی بہن کافِر ہوں تو اس کے دل میں ان سے اُلفت نہیں ہوتی ، محبتِ الٰہیہ دل میں دُشمنانِ دین کی محبَّت نہیں آنے دیتی ۔ اللہ تعالیٰ ایسا کامِل اِیمان نصیب کرے۔ اس آیت سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ ہر مؤمِن وکافر کو اپنا بھائی سمجھو۔ ‘‘

پارہ12سورۂ   ہود کی  آیت نمبر 113 میں ارشاد ہوتاہے :

وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ-

ترجَمۂ کنزالایمان : اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آ گ چھوئے گی ۔

اس آیتِ مبارکہ کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے : اس سے معلوم ہوا کہ خدا کے نافرمانوں کے ساتھ یعنی کافِروں اور بے دِینوں اورگمراہوں کے ساتھ مَیل جُول ، رسم وراہ ، مَوَدَّت ومَحَبَّت ، ہاں میں ہاں ملانا ، ان کی خوشامدمیں رہناممنوع ہے ۔

پارہ 6سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 51 میں اِرشاد  ہوتاہے :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ ﳕ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍؕ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ(۵۱)

ترجَمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو! یہود و نصارٰی کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں  اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے  بے شک اللہ بے انصافوں کو راہ نہیں دیتا ۔

 



[1]    اَبُو داوٗد  ، ج۴،ص۳۴۱ ،حدیث۴۸۳۳

[2]    فتا ویٰ  رَضَوِیّہ ، ج۲ ، ص۱۲۵



Total Pages: 10

Go To