Book Name:Sarkar ka Andaz e Tableegh e Deen

٭        علمِ دین : اِسلام کے بارے میں  اِس قَدَر علم رکھتاہوکہ دوسروں کو اس کی ترغیب دِلا سکے ، اسلام لانے کے فوائد اور اس پر ملنے والی بشارات سے آگاہ کر سکے اور اسلام نہ لانے کے نقصانات اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے قہرو غضب و عذاب سے ڈرا سکے نیز لوگوں  کی طرف سے وارِد غیرمتوقَّع سُوالات سے پریشان یا کسی وَسوسے کا شکار نہ ہو ۔

٭        عملِ صالِح : ارکانِ اسلام کا پابند اورسُنَّتِ رسُول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا آئینہ دارہو یعنی باعمل ہوکہ  زیورِعلم کے ساتھ عمل کی قوت  بھی ہوتو دعوت  زیادہ مُؤثِّر و کارآمد ہوتی ہے۔

٭        اخلاص و رِضائے الٰہی : اسلام کی دعوت دیتے وقت خالص  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کی رِضا کی نیت ملحوظِ خاطر(پر دِلی توجہ)رہے ، نیکی کی دعوت کے صلے (بدلے) میں کسی دُنیوی مال و جاہ یا نمودونمائش کا طالب نہ ہوبلکہ محض بارگاہ خداوندی سے اَجرو ثواب کا اُمّیدوار ہو اور’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کرنی ہے‘‘کے عالمگیر مَدَنی مقصد کی بجا آوری  کے لیے حقیقی جذبے سے سرشار ہو۔

٭      اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   پر توکل : اپنے کثیرعلم ، زورِ بیان اور صلاحیت و قابلیت پرنہیں بلکہ  اللہ عَزَّ وَجَلَّ  پر توکُّل کرنے والا ہوکہ وُہی ہدایت دینے والاہے ۔

٭        اَخلاق وکِردار : حُسنِ اخلاق کاپیکرہو اورنرمی کا خوگر ہو۔ قرآنِ مجید میں ہے :

(اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ) ([1])

ترجَمۂ کنزالایمان : اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اوران سے اس طریقہ پربحث کروجو سب سے بہترہو۔

٭        صَبْرو تَحَمُّل ، عَفْوْ ودَرگُزر : راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ  میں کوئی مشکل درپیش ہو جائے ،  کسی تلخ  کلام سے واسِطہ پڑجائے تو صبر کرنے والا ہو بلکہ کوئی پتَّھر بھی مار دے تو آقائے مظلوم ، سرورِ معصوم ، حُسنِ اَخلاق کے پیکر ، نبیوں کے تاجور ، مَحبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سُنَّت کی نیَّت کرتے  ہوئے اسے مُعاف کرنے کا جذبہ رکھتاہونہ کہ  انتقامی جذبات سے مغلوب ہو کر طیش میں آجائے کہ

ہے فلاح و کامرانی نرمی و آسانی میں

ہر بنا کام بگڑ جاتا ہے نادانی میں

مبلِّغ جب کسی کو نیکی کی دعوت دے تو نہایت خوش اَخلاقی اور خندہ پیشانی سے پیش آئے۔ حجۃ الاسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ  اللہ  الوَالِی ’’ کیمیائے سعادت‘‘ میں نَقْل کرتے ہیں : کسی نے مامونُ الرشید کوکسی غَلَطی پر سختی سے ٹوکا ، اس پر اُس نے کہا ، بزرگوار! اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ سے بہتر یعنی حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیم ُاللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  اور حضرت سیّدُناہارونعَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کومجھ سے بدتر یعنی فرعون کے پاس جانے کا جب حکم فرمایا تو ارشاد ہوا :

(فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا) ([2])

ترجمۂ کنزالایمان : تو اس سے نرم بات کہنا۔ ([3])

 صبر و تحمل اور عفو و درگزر کے حوالے سے سفرِطائف اور فتحِ مکّہ کے بے مثال واقِعات ہماری رہنمائی کے لیے کافی ہیں۔

٭        حِکمت وحُسنِ تدبیر : حالات بھانپ کر اورموقع محل دیکھ کراس کے مطابق گفتگوکرنے والاہوکہ اگر مُعامَلہ دشوار ہوجائے تو حکمتِ عملی سے اس کو ٹال سکے ، خود کسی بحث وتکرار میں نہ اُلجھے بلکہ اس کے لیے کسی عالِم صاحِب کے پاس جانے کامشورہ دے۔

٭        اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف وَنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر : جہاں بھی کوئی برائی دیکھے حسبِ اِستِطاعت(اپنی بِساط اور حیثیّت کے مطابق)امربالمعروف و نہی عن المنکر (یعنی نیکی کی دعوت دینے  اوربرائی سے منع)کرنے والا ہو۔ اس میں ٹالم ٹول سے کام لے  نہ کسی ملامت کرنے والے کی پروا کرے۔

٭        رحمتِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ سے پُراُمید : ہمیشہاللہ عَزَّ وَجَلَّ    کی رحمت پر نظر رکھنے والا ہواور مایوسی کو قریب بھی نہ پھٹکنے دے۔

کافر سے دوستی کرنا کیسا ہے؟

عرض : کافِرسے دوستی کرنا کیساہے؟

ارشاد : صحبت کا بڑا اثر ہوتا ہے ، اچھے دوست کی  صحبت اچھا اور بُرے دوست کی  صحبت برا رنگ لاتی ہے لہٰذا اچھے دوست کا انتخاب کرتے ہوئے  بُرے دوست سے دور بھاگنا چاہیے کہ اس کی صحبت دین و ایمان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے  اس لیے حدیثِ پاک میں  دوستی  کرنے سے پہلے جانچ پڑتال کرنے کا حکم ارشاد فرمایا گیاہے چنانچہ خلق



[1]    پ۱۴ ، اَلنَّحْل : ۱۲۵

[2]    پ ۱۶ ، طٰہٰ : ۴۴

[3]    اِحْیاءُ الْعُلُوم  ، ج۲،ص۴۱۱



Total Pages: 10

Go To