Book Name:Sarkar ka Andaz e Tableegh e Deen

ایک یہودی عالم تھے۔ انہوں نے سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ ، باعثِ نُزولِ سکینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کھجوروں کا سودا کیا ، مُعاہَدے کے مطابِق کھجوریں دینے کی مُدّت میں ابھی دو تین دن باقی تھے کہ انہوں نے بھرے مجمع میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا دامنِ اقدس پکڑ کر اِنتہائی تَلْخ و تُرش لہجے میں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کَھجوروں کا مطالبہ کیا اور چِلّا چِلّا کر کہا : اے محمد! (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) تم سب عبدُ المُطَّلِب کی اولاد کا یہی طریقہ ہے کہ تم لوگ لوگوں کے حُقُوق ادا کرنے میں دیر لگاتے ہو۔

یہ منظر دیکھ کر حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو جلال آگیا اور نہایت ہی غضبناک نظروں سے گُھور کر دیکھا اور کہا : اے خدا عَزَّ وَجَلَّ کے دشمن ! تُو خدا کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ایسی گستاخی کر رہا ہے ، خدا عَزَّ وَجَلَّ  کی قسم! اگر شَہَنْشاہِ مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا اَدب مانِع نہ ہوتا تومیں ابھی تلوار سے تیری گردن اُڑا دیتا۔ یہ سن کر تاجدارِ مدینہ ، سرورِ وقلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے( کمالِ انکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ) ارشادفرمایا : ’’اے عمر! (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) تم یہ کیا کہہ رہے ہو؟  تمہیں تو چاہیے تھا کہ مجھے ادائے حق کی ترغیب اور اس کو نرمی کے ساتھ تقاضا کرنے کی ہدایت کر کے ہم دونوں کی مدد کرتے ۔ ‘‘ پھر سلطانِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حکم دیا : اے عمر!(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) اس کو اس کے حق کے برابرکَھجوریں دے دو اور کچھ زیادہ بھی دے دو۔  حضرتِ سیِّدُنا فاروق ِاعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے جب اس کو حق سے زیادہ کھجوریں دیں تو حضرتِ سیِّدُنا زید بن سَعْنَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا : اے عمر (رضی  اللہ تعالٰی عنہ ) میرے حق سے زیادہ کیوں دے رہے ہو ؟ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : ’’چُونکہ میں نے ٹیڑھی ترچھی(یعنی غضبناک )نظروں سے دیکھ کر تجھے خوفزدہ کر دیا تھا ، اس لیے تاجدارِ مدینہ ، سُرورِ قلب سینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تمہاری دلجوئی کے لیے تمہارے حق سے زیادہ کھجوریں دینے کا مجھے حکم دیا ہے۔ ‘‘ یہ سن کر حضرتِ سیِّدُنا زید بن سَعْنَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا : ’’اے عمر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )کیا تم مجھے پہچانتے ہو کہ میں زَید بن سَعْنَہ ہوں ۔ ‘‘ حضرتِ سیِّدُناعمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : وُہی زید بن سَعْنَہ جو یہودیوں کا بڑا عالم ہے ؟انہوں نے کہا : ’’جی ہاں‘‘یہ سن کر حضرتِ سیِّدُناعمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا پھر تم نے شَہَنْشاہِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ایسی گفتگو کیوں کی ؟ حضرتِ سیِّدُنازید بن  سَعْنَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے جواب دیا کہ اے عمر! (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) دراصل بات یہ ہے کہ میں نے تَورات شریف میں جتنی نشانیاں نبیٔ آخِرُ الزّماں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پڑھی تھیں اُن سب کو میں نے تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں موجود پایا مگر دو اور نشانیوں کے بارے میں مجھے اِمتحان کرنا باقی تھا : ایک یہ کہ نبیِّ آخِرُ الزّماںصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا حِلْم(یعنی نرمی) جَہْل (یعنی جَہا لت)  پر غالِب رہے گا اور دوسرا یہ کہ ان کے ساتھ جس قَدَر زیادہ جہل کا برتاؤ کیا جائے گا اُسی قدر ان کا حِلْم  بڑھتا ہی چلا جائے گا لہٰذا اِس ترکیب سے میں نے ان دونوں نشانیوں کو بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں دیکھ لیا اور میں شہادت دیتا ہو ں کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نبیٔ بَرْحق ہیں اور اے عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ میں بَہُت مالدار آدمی ہوں اور میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ ’’میں نے اپنا آدھا مال حبیبِ پرورد گار ، سرکارِ ابد قرار ، احمدِ مختار ، دو جہاں کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اُمَّت پر صَدَقہ کیا۔ ‘‘پھر آپ بارگاہِ رسالتِ مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں حاضِر ہوئے اور کلمہ پڑھ کر دامنِ مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں آگئے ۔ ([1])

دامنِ مصطفیٰ سے جو لپٹا یگانہ ہو گیا

جس کے حُضُور  ہو گئے اس کا  زمانہ ہو  گیا

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اَخلاقِ کریمہ اور تَحَمُّل و بُرد باری کا ہی نتیجہ ہے کہ یہودیوں کے بَہُت بڑے عالَم حضرتِ سیِّدُنازید بن سَعْنَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قدموں سے لپٹ گئے اور ہمیشہ کے لیے غلامی کا پٹّا گلے میں ڈال لیا ، دولتِ اِیمان سے دامَن بھر لیا اوراِس خوشی میں اپنا آدھا مال بھی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے غلاموں پر نچھاور کر دیا۔

بزرگانِ دین کا صبروتحمل اورحسنِ اخلاق

عرض : اسلام  کی اشاعت میں بزرگانِ دین  کی مساعی ٔ جمیلہ اورحسنِ اَخلاق وتَحَمُّل و بُرد باری کے کچھ واقعات بیان فرما دیجیے ۔   

ارشاد : ہمارے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ  اللہ الْمُبِین علم وعمل کے پیکر ہوتے تھے۔ ہر ایک کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آتے یہاں تک کہ غیر مسلم ان کے حسنِ اخلاق اور اعلیٰ کردار سے متاثر ہوکر دامنِ اسلام میں آجاتے چنانچہ تذکرۃ الاولیا میں ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا  بایزید بسطامیقُدِّسَ  سِرُّہُ السّامی کا ایک یہودی پڑوسی تھا وہ کہیں سفر میں چلا گیا اور اِفلاس کی وجہ سے اس کی بیوی چَراغ تک روشن نہیں کرسکتی تھی اور تاریکی کی وجہ سے اس کا بچّہ تمام رات روتا رہتا۔ آپ رَحْمَۃُ  اللہ تعالٰی علیہ ہر رات اس کے یہاں چَراغ رکھ آتے اور جس وقت وہ یہودی سفر سے واپَس آیا تو اس کی بیوی نے تمام واقعہ سنایا جس کو سن کر اس نے کہا کہ یہ بات کس قدر افسوس ناک ہے کہ اِتنا عظیم بُزرگ ہمارا پڑوسی ہو اور ہم گمراہی میں زندگی گزاریں۔ چُنانچہ میاں بیوی آپ کے ہاتھ پر مُشَرَّف بہ اسلام ہو گئے۔ ([2]) اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی ان پر رحمت  ہواوران کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔

اسی طرح ہمارے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ  اللہ الْمُبِینحسنِ اخلاق کا پیکر ہونے کے ساتھ ساتھ صبر وتحمل کا بھی خوب  مظاہرہ فرماتے ، کوئی کتنی ہی  تکلیف  دے انتقام لینے کے بجائے



[1]    دَلائِلُ النُّبوَّة ، ص۹۲ ، ملخصاً

[2]    تَذکِرةُ الاولِیا ، ص۱۴۲



Total Pages: 10

Go To