Book Name:Sarkar ka Andaz e Tableegh e Deen

کریں گے ، زنا  نہ کریں گے ، بہتان نہ لگائیں گے ، کسی امرِ معروف (نیکی کے کام) میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی نافرمانی نہ کریں گے چُونکہ عورتوں سے ان ہی باتوں پر بیعت ہوئی تھی اس لیے بیعتِ مذکورہ کو عورتوں کی سی بیعت کہا گیا۔ نُبُوَّت کے تیرھویں سال ایّامِ حج میں انصار کے ساتھ ان کی قوم کے بہت سے مُشرِک بھی بغرضِ حج مکۂ پاک زَادَہَا  اللہ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً میں آئے ، جب حج سے فارِغ ہوئے تو ان میں سے73 مرد اور2 عورَتیں اپنی قوم سے چُھپ کر ایّامِ تشریق میں رات کے وقت عقبہ مِنیٰ میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ ([1])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمارے پیارے آقا ، مکی مدنی مصطفی ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کےبے مثال حُسنِ اَخلاق ، بےانتہا صبروتحمل ، حد درجہ عَفْو و درگزر  اورجہدِمسلسل وسعیِ پیہم کا ہی یہ  اثر تھاکہ آخرکار عَرَب قبائل گُروہ درگُروہ حلقۂ اسلام میں داخِل ہونے لگے  اور نہایت مختصر سے عرصے  میں جزیرۃُ الْعرب اسلام کے نُور سے جگمگا اٹھا۔ ہمارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مُبارَک زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے جس طرح آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے محنت ومشقت کے ساتھ نیکی کی دعوت کو عام کیا   اسی طرح ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے پیارے  آقا و مولا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنتوں کی بجا آوری  اوراس راہ میں آنے والی ہر مصیبت کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے نیکی کی دعوت عام کرنے کے لیے کوشاں ہوجائیں۔

ظُلم ، کُفّار کے ہنس کے سَہتے رہے

پھر بھی ہر آن حق بات کہتے رہے

کتنی محنت سے کی تم نے تبلیغِ دیں

                    تم پہ ہر دم کروڑوں دُرُود و سلام                                (وسائلِ بخشش)

اَخلاقِ کریمہ کی ایک جھلک

عرض : سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اَخلاقِ کریمہ کاکوئی واقعہ بیان فرمادیجیے۔

ارشاد : سرکارِ عالی وقار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اَخلاقِ کریمہ کے کیا کہنے کہ خودخالق ومالک عَزَّ  وَجَلَّ  اپنے پیارے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اخلاقِ کریمہ کےبارے میں پارہ 29 سُورۂ قلم کی آیت نمبر4 میں ارشاد فرماتا ہے :

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴)

ترجمۂ کنز الایمان  : اور بے شک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے۔

حضرتِ سیِّدناسعدبن ہشّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ میں اُمُّ الْمؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدّیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

کے پاس آیا اور عرض کی : اے اُمُّ الْمؤمنین(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا)! مجھے رسولِ خداصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اَخلاق کے بارے میں بتائیے؟ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے ارشاد فرمایا : کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآن یعنی آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا خُلق قرآن تھا ، کیا تُو نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کا یہ فرمان نہیں پڑھا :

) وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴) (

(ترجمۂ کنز الایمان : اور بے شک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے۔ ) ([2])

اعلیٰ حضرت ، امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن اپنے مشہورِ زمانہ نعتیہ دیوان  حدائق بخشش میں فرماتے ہیں :  

ترے خُلْق کو حق نے عظیم کہا ، تری خِلْق کوحق نے جمیل کیا

کوئی تجھ ساہواہے نہ ہوگاشہا ، ترے خالقِ حسن واداکی قسم!

اللہ عَزَّ وَجَلَّ  نے دنیا کے مال ومتاع کے لیے ارشاد فرمایا : )  قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌۚ ( ([3]) ترجمۂ کنزالایمان : “ تم فرماد و کہ دنیا کا برتنا تھوڑا ہے۔ “ دنیا کے قلیل ہونے کے باوجود ہم دنیوی نعمتیں  نہیں گن  سکتے تو جن  کے اخلاق کے  بارے میں ارشاد فرمایا : (وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴)) ([4])ترجمۂ کنز الایمان :   “ اور بے شک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے۔ “ ان کے اخلاقِ کریمانہ کو کماحقہٗ کیسے بیان کر سکتے ہیں۔ بہرحال  حصولِ برکت کے لیے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حسنِ اخلاق اور صبروتحمل کا ایک واقعہ پیشِ خدمت ہے چنانچہ حضرت سَیِّدُناامام حافظ ابونُعَیم احمد بن عبدُاللہ اصفہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنازَید بن سَعْنَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جو قبولِ اسلام سے پہلے



[1]    سِیْرتِ رسولِ عَرَبی ، ص۹۷۔۹۹ ، ملخّصاً

[2]    مُسندِ  احمد ، ج۹، ص۳۸۰ ، حدیث ۲۴۶۵۵

[3]    پ۵ ، النسآء  : ۷۷

[4]    پ۲۹ ، القلم  : ۴



Total Pages: 10

Go To