Book Name:Sarkar ka Andaz e Tableegh e Deen

ہے اور اگر دِینی رُجْحان کی بناء پر ہو تو بِلا شُبہ کفر ہے۔‘‘([1])

کُفّار سے دوستی کی ممانعت پر آیاتِ مبارکہ

عرض:کفّار سے دوستی کے بارے میں قرآنِ مجید ہماری کیا رہنمائی فرماتا ہے؟

ارشاد: قرآنِ مجیدمیں متعدد مقامات پر کفّار سے دوستی و مُوالات (یعنی باہمی اتّحاد) کی مُمانَعَت بیان فرمائی گئی ہے چُنانچہ پارہ3 سورۂ آلِ عمران کی آیت نمبر 28 میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتاہے:

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوۡنَ الْکٰفِرِیۡنَ اَوْلِیَآءَ مِنۡ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیۡنَ ۚ وَمَنۡ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَلَیۡسَ مِنَ اللہِ فِیۡ شَیۡءٍ اِلَّاۤ اَنۡ تَتَّقُوۡا مِنْہُمْ تُقٰىۃً ؕ

 

ترجَمۂ کنزالایمان: مسلمان کافروں کو اپنا دوست نہ بنالیں مسلمانوں کے سوا اور جو ایسا کرے گا اُسے اللہ سے کچھ علاقہ نہ رہا مگر یہ کہ تم ان سے کچھ ڈرو۔

اس آیتِ مبارکہ کے تحت صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی خزائن العرفان میں فرماتے ہیں: کُفّار سے دوستی ومَحبَّت ممنوع وحرام ہے،انہیں رازدار بنانا، ان سے

 



[1]…… فتا ویٰ رَضَوِیّہ،ج۲،ص۱۲۵



Total Pages: 32

Go To