Book Name:Sarkar ka Andaz e Tableegh e Deen

غَلَطی پر سختی سے ٹوکا، اس پر اُس نے کہا، بزرگوار! اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ سے بہتر یعنی حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیم ُاللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت سیّدُناہارونعَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کومجھ سے بدتر یعنی فرعون کے پاس جانے کا جب حکم فرمایا تو ارشاد ہوا: ]فَقُولَا لَہٗ قَوْلًا لَیِّنًا[ ([1]) ترجمۂ کنزالایمان: تو اس سے نرم بات کہنا۔ ([2]) صبر و تحمل اور عفو و درگزر کے حوالے سے سفرِطائف اور فتحِ مکّہ کے بے مثال واقِعات ہماری رہنمائی کے لیے کافی ہیں۔

! حِکمت وحُسنِ تدبیر:حالات بھانپ کر اورموقع محل دیکھ کراس کے مطابق گفتگوکرنے والاہوکہ اگر مُعامَلہ دشوار ہوجائے تو حکمتِ عملی سے اس کو ٹال سکے،خود کسی بحث وتکرار میں نہ اُلجھے بلکہ اس کے لیے کسی عالِم صاحِب کے پاس جانے کامشورہ دے۔

! اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف وَنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر: جہاں بھی کوئی برائی دیکھے حسبِ اِستِطاعت(اپنی بِساط اور حیثیّت کے مطابق)امربالمعروف و نہی عن المنکر (یعنی نیکی کی دعوت دینے اوربرائی سے منع)کرنے والا ہو۔ اس میں ٹالم ٹول

 



[1]…… پ ۱۶،طٰہٰ: ۴۴

[2]…… اِحْیاءُ الْعُلُوم ،ج۲،ص۴۱۱



Total Pages: 32

Go To