Book Name:Sharabion ka Anjam

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

   دُرُودِ پاک کی فضیلت

       شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے ضیائے دُرُودوسلام کے صفحہ 6 پرمُسْنَدْ اَبِی یَعْلٰی کے حوالے سے ذکرفرماتے ہیں ، نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ مُشکبار نقل فرماتے ہیں :  ’’مجھ پر دُرُودپاک کی کثرت کرو بیشک یہ تمہارے لیے طہارت ہے ۔‘‘(مسند ابی یعلی، ۵/ ۴۵۸، حدیث :  ۶۳۸۳)

صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللّٰہ تعالٰی علٰی محمَّد

(1)شرابیوں کا انجام

       تحصیل جتوئی (ضلع مظفرگڑھ، پنجاب) کے علاقے روہیلا ں والی کے مقیم اسلامی بھائی کی روئیدادکا خلاصہ ہے۔ دعوتِ اسلامی کے مدَنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل میں معاشرے کانہایت بگڑا ہوا اورنماز وں سے غافل نوجوان تھا۔ میری غفلت کا یہ عالم تھا کہ قبروحشر کی بہتری کے لیے نیکیاں جمع کرنے کے بجائے گناہوں سے اپنے نامہ اعمال کو خوب آلودہ کرتا۔ فلم بینی کرتے 

 ہوئے خوب آنکھوں کو بے ہودہ مناظر سے پرکرتا، ستم بالائے ستم یہ کہ صحبت بد کا شکار تھا جسکی وجہ سے اخلاق بھی بے حد خراب تھے ، ہرایک سے لڑتا جھگڑتا، الغرض بڑوں کا ادب تھا نہ ہی چھوٹوں پر شَفْقت بس ہرایک سے زبان درازی کرنا میرامعمول تھا، اسی بری سنگت نے مجھے شراب کی لت میں مبتلا کردیا، میں علاقے میں شرابی کے نام سے پکاراجانے لگا، شراب کی عادت نے مجھے لوگوں کی نظروں سے مزید گرادیا، میں اپنی خرافات میں اس قدر راسخ ہوچکا تھا کہ نہ مجھے اپنی عزت کا خیال تھا نہ ہی خاندان کی شرافت کا پاس تھا بس موج مستیوں میں گم رہنا میراکام تھا، جب تک کسی کی دل آزاری نہ کرلیتا مجھے چین نہ آتا روزانہ کسی نہ کسی کو اپنی شرانگیزیوں کا نشانہ ضرور بناتا۔ جب لوگ شکایت لے کر گھر پہنچتے تو گھروالوں کو ندامت وشرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا۔ اپنی بے ہودگیوں سے فارغ ہوکر جب میں گھرلوٹتاتو والد صاحب مجھے پیارسے سمجھاتے اور عادات بد چھوڑ کر اچھا انسان بننے کا فرماتے مگر والد صاحب کی نصیحت پر عمل کرکے دارین کی سعادتیں پانے کے بجائے میرے کا نوں پر جوں تک نہ رینگتی، آخر کار جب میری شرانگیزیوں میں کمی نہ آئی اور اہل علاقے کی شکایتیں بڑھنے لگیں تو والد صاحب کے صبرکا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ ایک دن مجھ سے فرمانے لگے : جب تم سدھرنہیں سکتے تو اس گھرمیں رہنے کا تمہیں کوئی حق نہیں ، سن لو! آج کے بعد تم سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ، شرابیوں کی دوستی میں اس قدر اندھا ہوچکا تھا کہ میں نے ان کی خاطر اپنا گھر چھوڑدیااور دبئی جاکر مال کمانے کا ارادہ کرلیا جیسے تیسے کرکے رقم جمع کی اور دبئی پہنچ گیا، یہاں آکر مال کمانا شروع کیا تو میری موج مستیاں بڑھ گئیں ، میں نفس وشیطان کے ہاتھوں کھلونا بن کر رہ گیا، آئے دن نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے شراب خانہ پہنچ جاتا، شراب کے جام بھر بھر کر پیتا، اسی طرح میری زندگی کے ایام بسر ہونے لگے۔

        ایک دن میں حسب عادت اپنے نشے کی آگ بجھانے شراب خانے پہنچا اورخوب شراب پی حتی کہ میں نشے میں دھت ہوگیا اسی مدہوشی کے عالم میں چند افراد سے مڈبھیڑ ہوگئی، بات بڑھی توپولیس آگئی اور مجھے جیل کی آہنی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیاگیا، پردیس میں آ ہنی سلاخوں کی تکلیف ناقابل برداشت تھی ، قانونی کاروائی پوری کرنے کے بعد بڑی مشکل سے مجھے رہائی ملی ، اس واقعہ سے عبرت حاصل کرنے کے بجائے میں اپنے افعال بد میں مشغول رہا، شراب نوشی اور لڑائی جھگڑے کاسلسلہ ختم نہ ہوا حتی کہ مجھے اپنے کرتوتوں کے سبب دبئی میں تین مرتبہ جیل کی صعوبتوں سے دوچار ہونا پڑا ۔

        آخرکار پاکستان واپسی کی سبیل بن گئی، جب میں پاکستان پہنچا، شرابی دوست میری آمد کے منتظر تھے، میں ایک بار پھران کی منڈلیوں کا شکار ہوگیا، دبئی جانے سے کچھ عرصہ تولوگ میری شر انگیزیوں سے محفوظ رہے لیکن واپس آنے کے بعد دوبارہ لڑائی جھگڑوں کا بازار گرم ہوگیا، متعدد بار پولیس نے گرفتار کیا مگر میں گناہوں کا راستہ چھوڑنے کوتیار نہیں تھا۔ میرے سدھرنے کا سبب کچھ یوں بنا ایک دن ہمارے علاقے میں ذمہ دار اسلامی بھائی بڑے بھائی جان کے پاس تشریف لائے، انہیں تبلیغ وقراٰن وسنّت کی عالمگیرغیرسیاسی تحریک دعوت اسلامی کے مدنی ماحول کی برکتوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے چھوٹے بھائی کو 63روزہ تربیتی کورس کے لیے آمادہ کرلیجئے۔ اس کورس کی بے شمار برکتیں ہیں آج اسی کے فیضان سے نجانے معاشرے کے کتنے بگڑے ہوئے نوجوان راہ راست پر آکر سنّتوں بھری زندگی بسرکررہے ہیں ۔ امید ہے کہ ان پر بھی کرم ہوگا اور عاشقان رسول کی صحبت کی برکت سے جہاں یہ خوف خدا اور عشق رسول سے سرشار ہونگے وہیں شراب نوشی کی آفت سے بھی بیزار ہوں گے اور اچھے ماحول کی برکت سے امید ہے کہ ان کی ہمیشہ کے لیے اس ناپاک شے سے جان چھوٹ جائے گی۔ بھائی جان تو پہلے ہی میری اصلاح کی فکر سے دوچار تھے۔ جب انہوں نے مدنی ماحول کے فیضان کے متعلق سنا تو فوراً 63روزہ تربیتی کورس کے لیے مجھے آمادہ کرنے کی نیّت کرلی۔ ایک دن بھائی جان میرے پاس آئے اورشفقت فرماتے ہوئے تربیتی کورس کرنے کا کہا جب ان کا اصرار بڑھا تو ناچاہتے ہوئے مجھے اقرار کرنا پڑا اوریوں میں جلد ہی اپنا زادِ راہ لے کر تربیتی کورس کے لیے مقررہ جگہ پہنچ گیا۔ واقعی اچھی صحبت انسان کو اچھا اور بری صحبت انسان کو برا بنادیتی ہے۔ سنّتوں کے عامل اچھے اخلاق والے اسلامی بھائیوں کی رفاقت کیا ملی برے دوستوں کی محبت دل سے کافور ہونے لگی۔ یہاں آکردل پر چھائے غفلت کے پردے چاک ہوگئے، فکر آخرت اجاگر کرنے والے پرسوز بیان اور معلم اسلامی بھائیوں کی تربیت نے میری زندگی میں مدنی انقلاب برپا کردیا۔ میں دل جمعی سے علمی حلقوں میں وضو، طہارت، نماز کے مسائل، سنّتیں اور دعائیں سیکھنے میں مشغول ہوگیا، دورانِ تربیتی کورس ایک دن گھر سے والد صاحب کا فون آیا، میری خیرت معلوم کرتے ہوئے کہنے لگے ، بیٹا تم بہت خوش نصیب ہو جو تربیتی کورس میں شریک ہوگئے ورنہ شاید آج تمہارے ساتھ بھی وہی ہوتا جو تمہارے شرابی دوستوں کے ساتھ ہوا۔ میں نے حیرانگی سے پوچھا اباجان! میرے دوستوں کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیاہے ؟ فرمانے لگے :  تمہارے دوست زہریلی شراب پینے کے باعث ہلاک ہوگئے ہیں ، یہ سن کر میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی، میرے ذہن میں یہ خیال گردش کرنے لگا کہ آج اگر میں یہاں نہ ہوتا تو شاید زہریلی



Total Pages: 7

Go To