Book Name:Khoni Ki Toba

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط                                                                                                                              

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط                                                                                                             

دُرُوْدِپاک کی فضیلت

            شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مناجاتوں ، نعتوں  اور منقبتوں  کے مُعطَّرو مُعَنْبر مدنی گلدستے ’’وسائلِ بخشش‘‘ میں  دُرودِ پاک کی فضیلت نقل فرماتے ہیں  کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عن العُیُوبصَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عظمت نشان ہے :  جس نے دن اوررات میں  میری طرف شوق ومحبت کی وجہ سے تین تین مرتبہ ُدرودِپاک پڑھا اللہ عَزَّوَجَلَّ پر حق ہے کہ وہ اُس کے اُس دن اور رات کے گناہ بخش دے۔ (الترغیب والترھیب،  ۲/ ۳۲۸، حدیث :  ۲۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب !        صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(1)خونی کی توبہ

            کوٹ مٹھن (ضلع راجن پور، پنجاب)کے محلہ عزیز بھٹی کے مقیم اسلامی بھائی کی گناہوں  بھری زندگی کے احوال نوک پلک سَنوارنے کے بعد کچھ اس طرح ہیں :  میں ایک عصیاں  شعار نوجوان تھا، گناہوں  کے جنگل میں بھٹکتا پھر رہا  تھا۔ دل گناہوں  کی کثرت کے سبب اس قدر سختی کا شکارتھا کہ میں  اپنی قبر وآخرت سے یکسر غافل ہوچکاتھا، میری غفلت کا اندازہ اس سے باخوبی لگایاجاسکتا ہے کہ میں  نماز جیسی اہم عبادت کی ادائیگی سے دور اور دنیا کی محبت میں  مخمور تھا، بس دنیا کی راحتیں  حاصل کرنے کی دُھن سر پر سوار رہتی، بُرے دوستوں  کی صحبت کے سبب بداخلاق اور نہایت غصیلا تھا۔ معمولی باتوں  پر لڑائی جھگڑے مول لینا، ہر ایک کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آنا، خلافِ مزاج بات پر بہن بھائیوں  کو مارنا پیٹنا میری عادتِ بد میں  شامل تھا، چھوٹے بہن بھائیوں کو اس قدر مارتاتھا کہ ان کے جسم زخمی ہوجاتے ، خون بہتا، شدت تکلیف سے چیختے چلاتے ، روتے فریاد کرتے مگر میرے دل کی سختی کا یہ عالم تھا کہ ان کا بہتا لہو اور بہتے آنسو دیکھ کر بھی مجھے رحم نہ آتا اور میں  اپنی روش پر قائم رہتا جب کبھی موقع ملتا انہیں  مار پیٹ کر ہی دم لیتا ۔ میرا یہ خون خرابہ صرف گھر کی حد تک محدود نہ تھا بلکہ باہر بھی اگر کوئی میرے خلاف بات کرتا تو اس پر بھی تشددکرتا اوربارہا مخالف پر ایسا حملہ کرتا کہ اس کا جسم زخموں  سے گھائل اور خون سے آلودہ ہوجاتالوگ بڑی مشکل سے مجھ پر قابو پاتے، کئی لوگوں  کا سر پھاڑ چکا تھا ، میری اسی خون ریزی کی عادت سے اہل علاقہ خوف زدہ رہتے، مجھ سے اپنا دامن بچاتے یہاں  تک کہ میں  علاقے میں  خونی کے نام سے مشہور ہوگیا، میرے بارے میں لوگ ایک دوسرے سے کہتے بھائی اس سے بچنا  یہ تو بڑاہی خطرناک ہے، خون خرابہ کرنا تو اس کا معمول ہے، الغرض میں  علاقے میں  نفرت بھری نظروں  سے دیکھا جانے لگا، کوئی میرے پاس نہ آتا، مجھے دور سے دیکھ کرلوگ کہتے وہ دیکھو خونی آرہاہے، یوں  میں  خونی کے نام سے مشہور ہوگیا ۔ افسوس میں  اپنی عادات بد میں  اس قدر راسخ ہوچکاتھا کہ نہ مجھے اپنی عزت کا خیال تھا نہ ہی خاندان کی شرافت کا کچھ پاس، بس جوانی کے نشے میں  مست رہنا اور لوگوں  پر ظلم وستم کرنا اور سمجھانے والوں  کو خاطر میں  نہ لانا میرا کام تھا۔میری ان کارستانیوں  کی وجہ سے گھر والے بھی پریشان تھے مجھے اکثرسمجھاتے، غصے نہ کرنے کا ذہن بناتے اور لوگوں  سے اچھا برتاؤ کرنے، بہن بھائیوں  کے ساتھ پیار محبت سے پیش آنے، لڑائی جھگڑوں  سے دور رہنے اور خلاف ِمزاج بات پر خون خرابہ کرنے کے بجائے صبر کرنے کا درس دیتے مگر میں  ان کی ایک نہ سنتا۔  اسی دوران اللہ عَزَّوَجَلَّ کا مجھ پر کرم ہوگیا اور مجھے اس وحشیانہ زندگی سے نجات مل گئی، سبب کچھ یوں  بنا کہ میرے بڑے بھائی کو دعوت اسلامی کا مشکبار مدنی ماحول میسر تھا، وہ بھی میری ان نازیبا حرکتوں  سے بہت تنگ تھے، بارہا مجھے سمجھا بھی چکے تھے، ایک دن والدہ نے مجھ سے فرمایا کہ بیٹا اپنے بڑے بھائی کو بلاکر لاؤ۔ میں  انہیں  تلاش کرتا ہوا ایک مسجد میں  داخل ہوگیا، وہاں  میں  نے دیکھا کہ عاشقانِ رسول کا مدنی قافلہ موجود ہے اور علمِ دین کا حلقہ لگا ہوا ہے، ایک اسلامی بھائی  بڑے پیارے انداز میں  درس دے رہے ہیں  اور دیگر عاشقانِ رسول بڑی توجہ کے ساتھ سن رہے ہیں۔ انہی اسلامی بھائیوں  میں  بڑے بھائی جان بھی درس سننے میں  محو تھے، یہ دیکھ کر میں  گھر لوٹ آیا اور والدہ سے عرض کی کہ بھائی جان مسجد میں  موجود ہیں۔ اتفاق سے اگلے دن پھر والدہ نے حکم دیا کہ بڑے بھائی کوبلاکر لاؤ چنانچہ میں  انہیں  تلاش کرتا ہوا ایک بار پھر مسجد کے دروازے پر پہنچ گیا اس بار بھائی جان نے مجھے دیکھ لیا۔ موقع غنیمت جانتے ہوئے انہوں  نے مدنی قافلے کے شرکاء اسلامی بھائیوں کو میرے بارے میں  بتایا کہ یہ میرے چھوٹے بھائی ہیں جو بہت غصیلے اور جھگڑالو طبیعت کے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ آئے دن کسی نہ کسی کی شامت ضرور آتی ہے، میں  نے اور گھر والوں  نے اسے بارہا سمجھایا ہے مگر یہ ہماری ایک نہیں  سنتا، آپ انہیں  نیکی کی دعوت پیش کیجیے، کیا بعید آپ کا سمجھانا کار گر ثابت ہو اور یہ سدھر جائیں اور دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوکر اچھے اخلاق سے مالامال ہوجائیں۔ چند اسلامی بھائی نیکی کی دعوت دینے کی غرض سے میرے قریب تشریف لائے، انہوں  نے پاس آتے ہی بڑے ہی میٹھے لہجے میں  مجھے سلام کیا اور انفرادی کوشش کرتے ہوئے احسن انداز میں  مجھے نرم رویہ اپنانے کا ذہن دیا مزید ایذائے مسلم کے سبب قبر و آخرت میں  ملنے والے عذابات سے بھی آگاہ کیا۔ جسے سن کر میں  بے حد متأثرہوا اور سوچنے لگا یہ بھی تو  میری طرح انسان ہیں  مگر ان کااندازِ گفتگو کتنا میٹھا اور شاندار ہے اور ایک میں  ہوں  کہ بداخلاقی کی نحوست میں  گرفتار ہوں۔ پھر میں  کچھ دیر ان کے قرب کی برکتیں  پاتارہا، جب جانے کی اجازت طلب کی تو انہوں  نے مجھے ایک کیسٹ بیان بنام ’’بے پردگی کی تباہ کاریاں ‘‘ تحفۃً دیا اور اسے سننے کی ترغیب دلائی۔ میں  یہ کیسٹ بیان گھر لے آیا۔ جب سنا تو میری زندگی میں  مدنی انقلاب برپا ہوگیا ، دل میں  گناہوں  سے نفرت محسوس کرنے لگا مزید مجھ پر مدنی قافلے والوں  کی پیار بھری باتوں  کا ایسا اثر ہوا کہ اگلے روز خود ہی ان سے ملنے مسجد پہنچ گیا اور شرکائے مدَنی قافلہ کی صحبت کی برکتیں  سمیٹنے میں  مشغول ہوگیا اس بار بھی عاشقانِ رسول کی طرف سے ملنے والی خصوصی شفقتوں  نے میرا دِل باغ باغ کردیا۔ شرکائے مدنی نے ایک رسالہ  ’’کربلا کا خونی منظر ‘‘مجھے تحفے میں  پیش کیا جسے میں  گھر لے آیا۔چنانچہ جب پڑھنا شروع کیا تو اس میں  خاندانِ رسول کی کی عظیم قربانیوں  اور یزیدوں  کی جفاکاریوں  کے بارے میں پڑھ کر میرا سخت دِل نرم پڑگیا، مجھے معلوم ہوگیا کہ ظلم و ستم کرنا اور خون کی ندیاں  بہانا دشمنانِ اسلام کا وتیرہ ہے جبکہ مصیبتوں  اور پریشانیوں  میں  بھی صبر کرنا سچے مسلمانوں  کا طریقہ ہے، کربلا کے ہوش رُبا منظر نے میرے غفلت کے پردے چاک کردیے اور مجھے اپنی بے باکیوں  اور ظلم و زیادتیوں  کا احساس ہونے لگا چنانچہ میں  نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ  میں  سچی توبہ کی اور اپنے کردار کوسَنوارنے، بداخلاقی سے نجات پانے اور علمِ دین سے روشن و منور ہونے کے لیے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے کا ارادہ کرلیا، عاشقانِ رسول کی صحبت میں  بیٹھنے لگا اور سنّتوں  بھرے اجتماعات میں  جانے لگا۔ دعوت اسلامی کا سنّتوں  بھرا مدنی ماحول کیا مُیَسَّر آیا میری ظلمتِ عصیاں  میں  ڈوبی زندگی میں  نیکیوں  کا اجالا ہونے لگا، عاداتِ بد کافور ہونے لگیں  اور بد مزاجی کا تعفن دور ہونے لگا۔ خوش قسمتی سے اسی دوران دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے بین الاقوامی سنّتوں  بھرے اجتماع کی دعوت کا



Total Pages: 7

Go To