Book Name:Adakari Ka Shoq Kaisay Khatam Hoa?

قبل اجتماعی دُعا کرائی گئی جس میں تمام شرکائے اجتماع نے گڑ گڑا کر بارگاہِ الہٰی میں دعائیں مانگیں ،  دُعا کرانے والے کا انداز اور ان کے منہ سے ادا ہونے والے دعائیہ کلمات دِل پر چوٹ کررہے تھے اور ربِّ کائنات  عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عجز وانکساری کا سلیقہ سکھا رہے تھے،  اجتماع میں شریک اسلامی بہنوں کی آمین کے ساتھ ساتھ میں بھی ہر دُعا پر آمین کہتی چلی گئی اور یوں اپنے تمام گزشتہ گناہوں سے سچی توبہ کرکے اجتماع سے واپس لوٹی۔ بعد ازاں مدَنی ماحول سے وابستہ اسلامی بہنوں کی پاکیزہ صحبت کے سبب میرا کردار،  اخلاق اور زندگی گزارنے کا انداز اسلامی طریقۂ کار پر اُستوار ہوتا گیا۔ فرائض و سُنن اور نوافل کی پابندی مجھے نصیب ہوگئی،  شرعی پردہ کرنے کی عادت مجھ میں راسخ ہوگئی اور گناہوں بھری زندگی سے بھی مجھے نجات مل گئی۔

          تادمِ تحریر ڈویژن مشاورت کی ذمہ دارہ کی حیثیت سے دینِ اسلام کا مُقدّس کام سرانجام دینے کی سعی کر رہی ہوں ،  اللہ عَزَّوَجَلَّ اخلاص کی دولت عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

{8} ہدایت کا پودا

        تحصیل یزمان  (بہاولپور،  پنجاب ، پاکستان)  میں مقیم ایک اسلامی بہن کے تحریری مکتوب کا ماحاصل کچھ یوں ہے:  دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول جب تک ملا نہ تھا،  شیطان کی مکاریوں نے مجھے ہدایت سے بھٹکائے رکھا تھا اور دنیا کی فانی چیزوں کو میرے سامنے مُزین کردیا تھا۔ معاشرے کی عام لڑکیوں کی مثل میں بھی بے پردگی اور بے راہ رَوِی کا شکار تھی۔ حقیقی معنوں میں کیا اچھا اور کیا بُرا ہے،  قبر و آخرت کی بھلائی کن کاموں میں پوشیدہ ہے اس کا شعور مجھے ایک اسلامی بہن نے دلایا جو دعوتِ اسلامی کے مدَنی ماحول کی تربیت یافتہ تھیں ۔ اسلام کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ جو اپنے لئے پسند کیا جائے وہی دوسروں کے لئے بھی پسند کیا جائے،  لہٰذا اسلامی تعلیمات سے سرشار ان اسلامی بہن نے مجھے بھی مدَنی ماحول میں آنے اور اپنی زندگی کو قرآن و سنّت کی راہ پر چلانے کا مدَنی ذہن دیا اور اس کام کا آغاز کرنے کے لئے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کا مدَنی مشورہ دیا۔ ان کی اس نیکی کی دعوت پر میرا دِل نیکی کی جانب مائل ہوگیا،  میں نے ان کی اس رہنمائی کا خیر مَقْدم کیا اور اس طرح میری ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کا سامان ہوگیا۔ اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اجتماع میں شریک ہوئی اور وہاں ہونے والے بیان وذکر و دعا کی برکتوں سے خوب خوبمستفیض ہوئی۔ اس اجتماع کی برکت سے میرے دِل میں ہدایت کا پودا اُگ ہوگیا،  جو آہستہ آہستہ مدَنی ماحول کی پاکیزہ فضاؤں میں پروان چڑھتا گیا،  پھر ایک بار جب میں نے شیخِ طریقت امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا ہولناک بیان بنام’’ گانے باجوں کی ہولناکیاں ‘‘ سنا اور آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ناصِحانَہ الفاظ اور دِل بدلنے والے کلمات سننا مجھے نصیب ہوا تومیرا وہی درخت تن آور شجر بن گیا،  جس کے ثمرات کا اثر پھر کچھ یوں ظاہر ہوا کہ مجھے اپنے تمام گناہوں سے توبہ کی توفیق مل گئی،  باپردہ رہنے کی عادت مجھ میں راسخ ہوگئی اور سنّتِ رسول سے محبت میری نس نس میں بس گئی۔ پانچوں نمازیں پابندی سے پڑھنے لگی اور توشۂ آخرت جمع کرنے لگی، ’’ اَمْر بِالْمَعرُوف و نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر‘‘ کا ایسا جذبہ موجزن ہوا کہ تنظیمی ترکیب کے مطابق تحصیل مشاورت کی ذمّہ دارہ کے منصب پر جا پہنچی اور اسلاف کی سنّت پر عمل کرتے ہوئے خدمتِ دین کے لئے کوشاں ہوگئی۔

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!        صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 {9} فیضانِ بسم اللہ

 



Total Pages: 12

Go To