Book Name:Adakari Ka Shoq Kaisay Khatam Hoa?

میں اپنی شرکت کو لازمی بنانا ہوگا۔ میں زندگی میں اصلاح سے معمور ایسی باتیں پہلی بار سن رہی تھی،  ایک خیرخواہ کی باتوں کو ٹھکرادینا کسی صورت انصاف نہ تھا چنانچہ میں نے اپنی اس مُحسِنہ اسلامی بہن کی نیکی کی دعوت کو تہِہ دِل سے قبول کیا اور ان سے رہنمائی لیتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے اسلامی بہنوں کے اجتماعات میں جانا شروع کردیا۔ مدَنی ماحول میں سنّتوں پر عمل کرنے والی اور خوفِ خدا رکھنے والی اسلامی بہنوں کا ساتھ نصیب ہوا تو میرے زندگی کے معاملات خود بخود تبدیل ہوتے چلے گئے،   نمازیں پابندی سے پڑھنے لگی اور بحکمِ قرآنی پردہ بھی کرنے لگی،  بڑوں کا ادب کرنا میری عادت بن گیا اور چھوٹوں پر شفقت کا مجھے سلیقہ آگیا اور یوں میرے ظاہر و باطن میں مدَنی انقلاب برپا ہوگیا۔ جو لوگ میری سابقہ زندگی سے واقف تھے ان کے لیے میری یہ تبدیلی باعثِ حیرت بن گئی۔

          دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کی مجھے خوب برکتیں ملی خصوصاً میرے نیکی کی دعوت کے جذبے کو چارچاند لگ گئے۔ میرے اسی جذبے کے دیکھتے ہوئے مدَنی مرکز کی طرف سے مجھے حلقہ مشاورت میں مدنی انعامات کا ذمّہ دار مُقرر کردیا گیا اوریوں مجھے خدمتِ دین کے لئے چن لیا گیا۔ بلاشبہ یہ دعوتِ اسلامی کا ہی فیضان ہے کہ دیے سے دیا جلتا جارہا ہے اور عصیاں کے اندھیرے میں ڈوبے اس معاشرے میں اجالا ہوتا جارہا ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ تادمِ زیست امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی غلامی اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول پر استقامت عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!                                         صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 {7} گناہوں کے امراض کا علاج

        بہاولنگر  (صوبہ پنجاب)  کی میڈیکل کالونی میں رہنے والی ایک اسلامی بہن اپنی زندگی میں آنے والے نشیب و فراز کے احوال کچھ اس طرح لکھتی ہیں :  سنّتوں کی شاہراہ پر گامزن ہونے سے پہلے میں رب  عَزَّوَجَلَّ کی بندگی سے کوسوں دور تھی۔ گھر میں مَدَنی ماحول نہ ہونے کی وجہ سے میں بے راہ روی کاشکار تھی اور سنّتوں پر عمل کرنے سے یکسر غافل تھی۔ نماز جیسی عظیم عبادت میں کوتاہی برتنا،  فلمیں ڈرامے دیکھنے کے لئے ہروقت تیار ہنا اور گانے باجے سننے میں پیش پیش رہنا میری عادات میں شامل تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کسی کو ہدایت دینے کا ارادہ فرماتا ہے تو عموماً کسی نیک بندے کو ہدایت کا ذریعہ بنادیتا ہے،  یہی کچھ میرے ساتھ بھی ہوا جس کی روئیداد کچھ اس طرح ہے کہ ایک روز میری ملاقات ایک مُبلِّغہ اسلامی بہن سے ہوئی،  جن کا کردار اور طریقۂ گفتار بڑا شاندار تھا اور ان کی باتوں کے ہر لفظ سے خیرخواہی کے پاکیزہ جذبات کا اظہار ہورہا تھا،  تبلیغِ قراٰن وسنّت کے جذبے سے سرشار ان اسلامی بہن کی تمام باتیں نیکی کی دعوت پر مبنی تھیں جو اصلاح کے حوالے سے بہت مفید تھیں ۔ دورانِ گفتگو انہوں نے نیکیاں کمانے،  اپنی اصلاح کے ساتھ دوسروں کی اصلاح کرنے اور سنّتیں اپنانے کا ذہن دیااور اس مقصد کو پانے کے لئے دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کو بہت مفید قرار دیا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا کرم ہوگیا کہ ان کی بات میرے دِل میں اترگئی اور اس طرح میری سنّتوں بھرے اجتماع تک رسائی ہوگئی۔ وہاں ہونے والا سنّتوں بھرے بیان ایک الگ ہی نوعیت کا تھا جس کا ہر لفظ،  ہر جملہ گناہوں کے مریض کے لئے کسی کیمیا  (فائدہ مند دوا)  سے کم نہ تھا،  پھر اس بیان کے بعد ہونے والا حلقۂ ذکر بھی ایک منفرد خصوصیت کا حامل تھا۔ اختتام سے



Total Pages: 12

Go To