Book Name:Adakari Ka Shoq Kaisay Khatam Hoa?

باب المدینہ  (کراچی)  کی ایک اسلامی بہن کچھ اس طرح تحریر کرتی ہیں کہ میری طبیعت ناساز رہتی تھی،  کافی علاج کروا چکی تھی مگر کوئی خاطرخواہ فائدہ نہ ہورہا تھا،  دن بدن صحبت کا خراب ہونا اور دوائیوں کا اثرنہ کرنا مزید گھر والوں کے لیے باعث ِتشویش تھا،  الغرض میرا مرض طول پکڑتا گیا اور بالآخر یہ پوشیدہ مرض کینسرکی صورت میں ظاہر ہوا،  ڈاکٹروں کے اس انکشاف پر میرا سارا چین رخصت ہوگیا،  دل ودماغ پر پریشانی غلبہ ہوگیا۔ میں اپنے مرض کے بارے میں سوچ کر گھلتی رہتی اور اس خطرناک بیماری کے ہولناک نتائج سے خوف زدہ رہتی۔ گھر والو اور اپنے بچوں کا خیال مجھے مزید افسردہ کردیتا۔ اس موذی مرض نے مجھے بالکل لاغر کردیا اور غصہ اور چڑچڑا پن میری فطرت میں شامل کردیا تھا۔ میرے بچوں کے ابو جو پہلے ہی مالی حالات کی کمزوری کی وجہ سے پریشان تھے،  میری بیماری کے سبب اب مزید پریشان رہنے لگے تھے،  جب امید کے سارے دروازے مجھ پر بند ہوگئے تو میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت پر بھروسہ کیا اور ایک روز ہمت کرکے دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں چلی گئی،  وہاں سنّتوں بھرا بیان سنا اور اختتامِ اجتماع میں ہونے والی دِل سوز دعا میں شریک ہوئی،  دورانِ دُعا میں نے خوب گڑ گڑا کر اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اپنے مرض سے شفایابی اور رزق میں برکت کی دعائیں مانگیں ۔ ہفتہ وار اجتماع میں مانگی گئیں ان دعاؤں کا اثر کچھ یوں ظاہر ہوا کہ جب میں نے دوبارہ چیک اپ کرایا تو ڈاکٹر نے بتایا کہ مجھے اب کینسر کا مرض نہیں ہے،  یہ فرحت بخش خبر سن کر ہماری خوشی کا ٹھکانہ رہا،  یوں میرے مرض کا مداوا ہوگیا،   اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہفتہ وار اجتماع کی برکت سے نہ صرف میرا یہ جان لیوا مرض کافور ہوگیا بلکہ میرے بچوں کے ابو کومناسب روزگار بھی مل گیا۔

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  جب بھی کوئی بیماری و پریشانی پیش آئے تو ہمیں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگا ہ میں دُعا کرنی چاہیے مگر اجتماعی دُعا کی اپنی برکتیں ہیں جیساکہ آپ نے مذکورہ مدنی بہار میں ملاحظہ فرمایا کہ دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع میں ہونے والی اجتماعی دُعا کی برکت سے مذکورہ اسلامی بہن کو کینسر کے خطرناک مرض سے شفامل گئی۔ اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اپنے والدِ محترم مولانا نقی علی خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کی کتاب ’’اَحْسَنُ الْوِعَاء لِاٰدَابِ الدُّعَاءِ‘‘ کی شرح ’’ذَیْلُ الْمُدَّعَاء لِاَحْسَنِ الْوِعَاءِ‘‘ میں ارشاد فرماتے ہیں :  علماء فرماتے ہیں :  جہاں چالیس مسلمان جمع ہوں ان میں ایک ولی اللہ  (اللہ کا ولی) ضرور ہوگا۔ (فضائلِ دعا،  ص123)  اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماعات میں سینکڑوں عاشقانِ رسول شریک ہوتے ہیں ،  نجانے ان میں کون اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ولی ہو اور اس کی اٰمین پر ہمارا بیڑا پار ہوجائے،  آپ بھی ہمت کیجئے اور اپنی بیماریوں اور پریشانیوں کے حل کے لئے دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت کرنے کی نیّت کرلیجیے۔

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 {4} اولاد کی نعمت مل گئی

باب المدینہ  (کراچی)  کے علاقے سولجر بازارکی مقیم ایک اسلامی بہن کا بیان الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ کچھ اس طرح ہے،  میری شادی کو تقریباً چار سال کا عرصہ بیت چکا تھا مگر میرا آنگن اولاد نہ ہونے کے باعث سونا سونا تھا،  حصولِ اولاد کے لیے متعدد علاج کروائے مگر کہیں سے کوئی امید دکھائی نہ دی۔ جب کبھی چھوٹے بچوں کو دیکھتی تو میرا دِل تڑپ اٹھتا اور میری حسرتوں میں اضافہ ہوجاتا۔ میرے شوہر مجھے حوصلہ دیتے اور میرا ذہن بناتے کہ اگر قسمت میں اولاد کی نعمت ہے تو ضرورملے گی،  پریشان ہونے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا،  ان باتوں سے مجھے ڈھارس ملتی مگر یہ



Total Pages: 12

Go To