Book Name:Adakari Ka Shoq Kaisay Khatam Hoa?

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 {2} عبادت کا ذوق مل گیا

          باب المدینہ  (کراچی ) کے علاقہ کورنگی میں مقیم ایک اسلامی بہن کے بیان کا خلاصہ ہے۔ بدقسمتی سے نمازوں میں سستی کا شکارتھی اور اچھے ماحول سے محرومی کے سبب بد اخلاقی کی آفت میں بھی گرفتار تھی۔ میری نیکیوں سے خالی اور  سنّتوں سے عاری زندگی میں مدَنی بہار کچھ یوں آئی کہ ہمارے علاقے میں دعوتِ اسلامی سے وابستہ اسلامی بہنیں رہتی تھیں ،  جو علاقے کی خواتین پر انفرادی کوشش کرتیں تھیں اور انہیں مدنی ماحول سے وابستہ ہوکر قبروآخرت سنوارنے کا مدنی ذہن دیتی تھیں ۔ ایک روز وہ میرے پاس تشریف لائیں اور مجھے نیکی کی دعوت دینے لگیں اور انفرادی کوشش کے ذریعے آخرت کی تیاری کا ذہن بنانے لگیں ۔ ان کی تمام باتیں ہدایت پر مبنی تھیں جو ایک مسلمان کی نجات کے لئے  بے حد ضروری ہیں چنانچہ میں نے ان کی اس دعوتِ فکر پر لبیک کہا اور ان کے ساتھ دعوتِ اسلامی کے مدَنی کارواں میں شامل ہونے کا فیصلہ کرلیا،  یوں علم و عمل سے مزّین مدنی ماحول سے وابستہ ہونا مجھے نصیب ہوگیا۔

          مدَنی ماحول سے وابستہ باحیا اسلامی بہنوں کی رفاقت کیا ملی میرے کردار و گفتار میں مثبت تبدیلیاں آنے لگیں ،  دل میں عمل کا جذبہ موجزن ہوگیا،  مزید علمِ دین کے فضائل سنے تو درسِ نظامی  (عالم کورس)  کرنے کا ذہن بن گیا،  چنانچہ میں نے والدین سے اجازت لی اور بہارِ بغدار میں قائم دعوتِ اسلامی کے تحت چلنے والے جامعۃُ المدینہ للبنات میں داخلہ لے لیا اور محنت ولگن سے علمِ دین حاصل کرنا شروع کردیا۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا میری عملی حالت بہتر سے بہتر ہوتی گئی،  مدَنی ماحول میں آنے سے قبل بداخلاقی کرنا میرا شیوہ تھا مگر  اب ہرایک کے ساتھ اخلاق سے پیش آتی ہوں اور نمازیں بھی پابندی کے ساتھ ادا کرتی ہوں ۔ اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کی برکت سے سجدوں کی حلاوت پانے لگی،  نمازیں خشوع وخضوع کے ساتھ پڑھنے کی توفیق ملی ،   فرض نمازوں کی پابندی کے ساتھ ساتھ نوافل پڑھنابھی میرامعمول بن گیا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ مدَنی ماحول میں استقامت اور نیک اعمال پر مداومت نصیب فرمائے۔

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو:  دیکھا آپ نے کہ مذکورہ اسلامی بہن کو مدنی ماحول کی کیسی برکتیں ملیں ،  نہ صرف پنج وقتہ نمازوں کی پابندی کی انہیں توفیق ملی بلکہ خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھنا بھی اُن کے مُقَدّر کا حصہ بنی۔ حقیقی معنوں میں وہی نماز مومن کی معراج ہے جو خشوع وخضوع کے ساتھ ادا کی جائے،  نماز کے تمام ظاہری و باطنی احکامات کو ملحوظِ خاطر رکھ کر پڑھی جائے اور جس طرح نماز پڑھنے کا حکم ہے اس طرح اس کو بجالانے کی کوشش کی جائے،  اس سلسلے میں درج ذیل باتیں بہت ہی کار آمد ہیں ۔ نماز پڑھنے والے کوچاہئے کہ عاجزی وانکساری اور خشوع وخضوع کی کیفیت پیدا کرے اور حضورِقلبی کے ساتھ نماز پڑھے،  وسوسوں سے بچنے کی کوشش کرے،  ظاہری وباطنی طور پر توجہ سے نماز پڑھے،  اعضاء پُر سکون رکھے، ،  تلاوت میں غورو فکر کرے،  ڈرتے ہوئے اور خوف زدہ ہو کر تکبیر کہے،  خشوع وخضوع کے ساتھ رکوع و سجود کرے،  تعظیم و توقیر کے ساتھ تسبیح پڑھے ۔ رحمتِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ کی اُمید رکھتے ہوئے سلام پھیرے اور رِضائے الٰہی طلب کرنے کی کوشش کرے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اپنی پسند کی نماز پڑھنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔  (آمین)

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!                         صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 {3} ہفتہ وار اجتماع کی برکت

 



Total Pages: 12

Go To