Book Name:Adakari Ka Shoq Kaisay Khatam Hoa?

اسلامی بہنیں بڑے انہماک کے ساتھ اُسے سن رہی تھیں ،  میں بھی ایک مناسب جگہ پر بیٹھ گئی اور اصلاح کے مدَنی پھول چننے میں مشغول ہوگئی۔ بیان میں نیک اعمال کی قدر و منزلت،  فکرِ آخرت کی اہمیت اور رِضائے اِلٰہی والے کاموں کی افادیت کو واضح کیا گیا جسے سُن کر میرا دِل سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ افسوس میں نے اب تک اپنی زندگی کی قیمتی سانسیں گناہوں کی نذرکی ہیں ،  میری عمر کا ایک حصہ گزرچکا ہے اور اب نجانے کتنا عرصۂ حیات باقی ہے ،  ہرآنے والا دن مجھے اندھیری قبر کے خوفناک گڑھے کی طر ف دھکیل رہاہے،  اگر میں فلمیں ڈرامے دیکھنے ، گانے باجے سننے،  نامحرموں سے بے تکلف ہونے اور فلمی اداکاراؤں کی بے ہودہ نقل وحرکت اتارنے کے گناہوں کے انبار کے ساتھ تنگ وتاریک قبر میں اتاردی گئی تو میرا کیا بنے گا؟ اگرنمازیں قضا کرنے کے سبب میری قبر میں آگ بھڑک اٹھی تو میں کس سے فریادی ہوں گی؟ کس طرف راہِ فرار اختیار کروں گی؟،  ان خیالات کے آتے ہی بے ساختہ میری آنکھیں اشکبار ہوگئیں ۔ پھر جب اختتامی دُعا شروع ہوئی تو اسلامی بہنوں کی گریہ وزاری و اشک باری نے مجھ پر بھی اثرکیا،  دورانِ دُعا میں نے اپنی بداعمالیوں سے توبہ کی اور نیکیوں بھری زندگی گزارنے کی نیت کی۔ دُعا کے بعد دُرُودُ و سلام پڑھا گیا جس سے میرے دِل کو مزید سکون ملا۔ آخر میں تمام اسلامی بہنیں آپس میں ملاقات کرنے لگیں ،  یہ منظر دیکھ کر بہت اچھا لگا،  میں نے چاہا کہ میں بھی آگے بڑھ کر کسی اسلامی بہن سے ملاقات کروں مگر اس خیال نے میرے قدم روک دیے کہ کہاں میں گنہگار،  فیشن پرستی کی شکار اور کہاں یہ سنّتوں کی آئینہ دار،  میں کیسے ان سے سلام کروں ،  ابھی میں انہی خیالوں میں گم تھی کہ اسی دوران وہ خیرخواہ اسلامی بہن جن کی دعوت پر مجھے اجتماع میں آنے کی سعادت ملی تھی،  میرے قریب آئیں ،  انہوں نے مجھ سے ملاقات کی اور پابندی سے اجتماع میں شرکت کرتے رہنے کی ترغیب دلائی۔ میں نے ان کی اس نیکی کی دعوت کا خیر مقدم کیا اور یوں اجتماع کی شرکت کو اپنا معمول بنا لیا۔

          دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول میں گزارے ہوئے چندلمحات میری زندگی کا حاصل ثابت ہوئے۔ جس وقت اجتماع میں گئی تھی کسی قسم کے پردے کا اہتمام نہ تھا،  آدھے بازو والی قمیص پہنے ہوئی تھی مگر جب واپس آئی تو میں نے اپنے بازووں کو اپنے دوپٹے میں چھپالیا تاکہ کسی نامحرم کی ان پر نظر نہ پڑے،  نظریں جھکائے گھرپہنچی اور پھر نمازوں کی پابندی شروع کردی،  رات کی خاموشی میں اُٹھ کر میں نے روروکر اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور یہ پختہ ارادہ کرلیا کہ اب گانے باجے نہیں سنوں گی،  فلمیں ڈرامیں نہیں دیکھوں گی اور کوئی ایسا کام نہیں کرونگی جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کا سبب بنے چنانچہ اپنے عزم پر استقامت پانے کے لیے میں مدَنی ماحول سے وابستہ ہوگئی ،  اسلامی بہنوں کے سنّتوں بھرے اجتماعات میں پابندی سے جانے لگی،  مدنی برقعہ پہننے لگی اور باپردہ رہنے لگی۔ میری زندگی میں آنے والی یہ مدَنی بہار سب ہی کے لیے حیرانگی کا باعث بن گئی،  جن کا خیال تھا کہ یہ مدنی برقع نہیں پہن سکتی جب انہوں نے اپنی آنکھوں سے مجھے باپردہ دیکھا تو وہ بھی حیران رہ گئے۔ مدَنی ماحول نے مجھے یادِ مدینہ میں تڑپنے والا دِل عطا کردیا،  پہلے ہر وقت گانے سننے اور گنگنانے کی دھن سوار رہتی تھی مگر اب گانوں باجوں سے ایسی نفرت ہوگئی ہے کہ راہ چلتے ہوئے کسی سمت سے گانوں کی آواز آتی ہے تومیں کانوں میں انگلیاں ڈال لیتی ہوں تاکہ یہ منحوس آواز مجھے سنائی نہ دے۔ پھر جوں جوں وقت گزرتا گیا مجھ پر مدَنی رنگ چڑھتا گیا اور دِل نیکی کی دعوت کے جذبے سے سرشار ہوتا گیا۔ اسی مقدّس جذبے کے تحت میں علاقے میں نیکی کی دعوت عام کرنے میں مشغول ہوگئی،  میری مدَنی کاموں میں دلچسپی دیکھتے ہوئے ذمہ دار اسلامی بہنوں نے مجھے بھی تنظیمی ذمہ داربنادیا،  اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تادم ِتحریر میں ڈویژن سطح کی ذمہ دار کی حیثیت سے نیکی کی دعوت عام کرنے میں مشغول ہوں ،  اللہ عَزَّوَجَلَّ مدَنی ماحول میں اِستقامت عطا فرمائے اور اسی پر مرنا نصیب فرمائے۔اٰمین

 



Total Pages: 12

Go To