Book Name:Adakari Ka Shoq Kaisay Khatam Hoa?

{11} گِلٹیاں کہاں گئیں

باب الاسلام  (سندھ)  کے شہر حیدر آباد کے اسلامی بھائی کا تحریری بیان ہے کہ میری والدہ محترمہ کے دونوں پاؤوں کے تلوؤوں میں گِلٹیاں نکل آئی تھیں ،  جس میں شدید تکلیف رہنے لگی تھی،  ڈاکٹر کے مشورے پر ایک بار آپریشن بھی کرواچکی تھیں مگر وہ گلٹیاں بڑھتی ہی چلی جارہی تھیں ،  دوائیں بھی بے اثر ہورہی تھیں اور امی جان کا چلنا پھرنا بھی دشوار ہوچکا تھا۔ بالآخر میں نے والدہ کی خدمت میں عرض کی کہ امی جان آپ شیخِ طریقت،  امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا کردہ تعویذاتِ عطاریہ استعمال کریں ۔ ممکن ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا کرم ہوجائے اور آپ کی یہ تکلیف دور ہوجائے،  یہ سن کر امی جان نے میرے اس مدَنی مشورے کو قبول فرمایا اور مجھے ہی تعویذاتِ عطاریہ لانے کا کہا۔ چونکہ میں درسِ نظامی  (عالم کورس)  کرنے کے لیے مدینۃُ المرشد باب المدینہ  (کراچی)

جانے اور جامعۃُ المدینہ میں داخلہ لینے کی مکمل تیاری کرچکا تھا لہٰذا میں نے بڑے بھائی سے تعویذاتِ عطاریہ لانے کا کہا اور میں حصولِ علم دین کے لیے گھر سے روانہ ہوگیا۔ بھائی جان لطیف آباد میں قائم فیضانِ سنت مسجد میں لگنے والے مجلس مکتوبات و تعویذات عطاریہ کے بستے پر جا پہنچے اور وہاں سے امی جان کے لئے تعویذاتِ عطاریہ حاصل کئے،  ساتھ ہی بستہ ذمہ دار نے کاٹ کا پانی بھی دیا۔ والدہ صاحبہ نے تعویزات اور کاٹ کے پانی کو ان کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق استعمال کیا،  اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ چند ہی دنوں میں امی جان کے پاؤں کی گلٹیاں ختم ہوگئیں اور نہ صرف ختم ہوئیں بلکہ ان کے نشانات بھی غائب ہوگئے۔ پھر جب میں جامعۃُ المدینہ سے چھٹیوں پر گھر آیا تویہ دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی کہ امی جان کے پاؤں بالکل ٹھیک ہوچکے ہیں اور وہ آرام سے چل رہی ہیں ۔ اس کے بعد امی جان عزیزوں اور رشتہ داروں پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے انہیں بھی تعویذاتِ عطاریہ کے استعمال کا مشورہ دینے لگیں ۔

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!                                         صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مجلسِ اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہ  {دعوتِ اسلامی} شعبہ امیرِاہلسنّت

۲۲محرم الحرام ۱۴۳۵ ھ  بمطابق 16نومبر 2014 ء

آپ بھی مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے

        یہ حقیقت ہے کہ صحبت اثر رکھتی ہے،  انسان اپنے دوست کی عادات و اخلاق اور عقائد سے ضرور متأثر ہوتا ہے۔ حدیثِ پاک میں نیک آدمی کی مثال مشک والے کی طرح بیان کی گئی ہے کہ اگر اس سے کچھ نہ بھی ملے تو اس کی ہم نشینی خوشبو میں مہکنے کا سبب بنتی ہے جبکہ بُرا آدمی بھٹی والے کی طرح ہے کہ اگر بھٹی کی سیاہی نہ بھی پہنچے پھر بھی اس کا دھواں تو پہنچتا ہی ہے۔ گناہوں کی آگ میں جلتے،  گمراہیت کے بادلوں میں گھرے اس معاشرے میں سنّتوں کی خوشبوئیں پھیلاتا دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول کسی نعمت سے کم نہیں ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مدنی ماحول میں تربیت پاکر سنتیں اپنانے والا اس طرح زندگی بسر کرنے لگتا ہے کہ نہ صرف ہر آنکھ کا تارا بن جاتا ہے بلکہ اپنے سنتوں بھرے کردار سے کئی لوگوں کی اصلاح کا سبب بھی بن جاتا ہے۔ پھر زندگی کی معیاد پا کر اس شان و شوکت سے دارِ آخرت روانہ ہوتا ہے کہ دیکھنے سننے والے رشک کرنے اور ایسی ہی موت کی آرزو کرنے لگتے ہیں ۔ آپ بھی تبلیغ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت ِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے۔ دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت ،  راہِ خدا کے مَدَنی قافلوں میں سفر اور شیخِ طریقت امیر اہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا کردہ مَدَنی انعامات پر عمل کو اپنا معمول بنالیجئے، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّدونوں جہاں کی سعادتیں نصیب ہوں گی۔


 



Total Pages: 12

Go To