Book Name:Maal e Virasat main Khiyanat na Kijiay

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

دُرُود شریف کی فضیلت

                                                رحمت ِعالَم، رسولِ محتشم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ رحمت نشان ہے: قیامت کے روز اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عرش کے سوا کوئی سایہ نہیں  ہوگا، تین شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عرش کے سائے میں  ہوں  گے۔ عرض کی گئی: یا رسولَ اللہ!  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، وہ کون لوگ ہوں  گے؟ ارشاد فرمایا:  (1) وہ شخص جو میرے اُمتی کی پریشانی دُور کرے  (2) میری سنّت کو زندہ کرنے والا  (3) مجھ پر کثرت سے دُرود شریف پڑھنے والا۔ ([1])

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!               صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مالِ وِراثت میں  خیانت نہ کیجئے

                                                 کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کا چھوڑا ہوا مال ’’  میراث ‘‘  کہلاتا ہے اور اسے منتخب اصول و قوانین کے مطابق میت کے رشتہ داروں  میں  تقسیم کیا جاتا ہے۔ میراث کی تقسیم میں  دنیا کی مختلف قوموں  میں  مختلف طریقے رائج رہے ہیں ، جیسے جاہلیت ِعرب کے لوگ عورتوں  اور بچوں  کو میراث کے مال سے محروم رکھتے تھے، ان میں  جو زیادہ طاقت ور اور بااثر ہوتا، وہ کسی تامل کے بغیرساری میراث سمیٹ لیتا اورکمزوروں  کا حصہ چھین لیتا جبکہ برصغیر کی قومیں  اور دیگر علاقوں  کے لوگ عورتوں  کو حصہ بالکل نہ دیتے تھے۔ یہ سب طریقے اعتدال سے دور اور عدل و انصاف کے تقاضوں  کے خلاف تھے۔

تقسیمِ میراث اور دین ِاسلام کا اعزاز

                                                دین ِاسلام کا یہ اعزازہے کہ اس نے جہاں  دیگر معاملات میں  افراط و تفریط کو ختم کیا وہیں   ’’ تقسیمِ میراث ‘‘  کے معاملے میں  بہترین طریقہ عطا فرمایا، محروموں  کو حق دیا اور جابروں  کو ان کی حدود میں  رکھا اور ہر ایک کو اس کے مناسب حصہ عطا فرمادیا جیسے بطورِ خاص عورتوں  اور یتیم بچوں  کے حوالے سے خصوصی احکامات دئیے، عورتوں  اور بچوں  کو وراثت سے حصہ نہ دینے کی رسم کو باطل کرتے ہوئے قرآنِ مجید نے مرد وعورت میں  سے ہر ایک کو اسکے والدین اور دیگر رشتہ داروں  کے مالِ وراثت میں  حصہ دار قرار دیا ہے اور خاص طور پر یتیم بچوں  کے مال کی حفاظت کرنے، بوقت ِ ضرورت انہیں  ان کا مال دیدینے اور ان کے مال میں  ہرقسم کی خیانت سے بچنے کا نہایت تاکیدی حکم دیا، اور انکا مال کھانے کو اپنے پیٹ میں  آگ بھرنا قرار دیتے ہوئے جہنم میں  جانے کا سبب قرار دیا ہے جبکہ یتیم کے سرپرستوں  کو تنبیہ و نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ایسے لوگوں  کو یہ سوچنا چاہئے کہ اگر یہ انتقال کرجاتے اور اپنے پیچھے کمزور اولاد چھوڑجاتے تو انکا کیا ہوتا تو جس طرح اپنی اولاد کے بارے میں  فکر مند ہوتے اسی طرح دوسروں  کی یتیم اولاد کے بارے میں  فکر مند ہوں  اور ان کے مال کے بارے میں  اللہ عَزَّوَجَلَّ سے خوف کرتے ہوئے احکامِ دین پر عمل کریں



[1]    البدور السافرۃ للسیوطی،ص۱۳۱،الحدیث: ۳۶۶۔



Total Pages: 20

Go To