Book Name:Ulama par aitraaz Mana hay

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

عُلَماء پر اعتراض منع ہے ([1])

دُرُود شریف کی فضیلت

دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 400صَفحات پر مشتمل کتاب ”پردے کے بارے میں سوال جواب“ صَفْحَہ 1 پر ہے : حضرتِ اُبَی بن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی کہ میں (سارے وِرد، وظیفے ، دُعائیں چھوڑ دوں گا اور) اپنا سارا وقت دُرُود خوانی میں صَرف کرونگا ۔ تو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : ”یہ تمہاری فِکروں کو دُور کرنے کے لئے کافی ہوگا اور تمہارے گُناہ مُعاف کردئیے جائیں گے ۔ “ ([2])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

عیسائیہ کا بیٹا

تَخْتِ قسطنطنیہ پر ایک عیسائیہ عورت حکمران تھی اور وہ ہر سال خِراج ([3]) ادا کرتی ۔ جب وہ مرگئی تو اس کا بیٹا تخت پر بیٹھا اور خِراج حاضر نہ کیا ۔ اُدھر سے خِراج کا مطالبہ ہوا تو اس نے حضرت ہارون رشید کی خدمت میں ایک ایلچی (قاصد ) کے ہاتھ اس مضمون کی تحریر بھیجی کہ ”وہ مر گئی جو خود پیادہ بنی تھی اور آپ کو رُخ بنایا تھا“(یعنی میری ماں جس نے آپ کی بالا دستی قبول کی تھی وہ مرچکی ہے ۔ اب میرے ساتھ آپ کا کوئی معاملہ نہیں ہے ) یہ تحریر لے کر ایلچی جب حاضرِ دربار ہوا، وزیر کو حکم ہوا : ”سناؤ!“ وزیر نے اسے دیکھ کر عرض کی : ”حضور ! مجھ میں تاب نہیں جو اسے سنا سکوں ۔ “ فرمایا : ”لا مجھے دے ۔ “اور اس تحریر کو پڑھا، بادشاہ کو دیکھتے ہی ایسا جلال آیا جسے دیکھ کر تمام دربار بھاگ گیا صرف وزیر اور وہ ایلچی رہ گئے ۔ وزیر کو حکم ہوا کہ جواب لکھ! اُس نے لکھنے کا ارادہ کیا مگر رعبِ شاہی اس قدر غالب تھا کہ ہاتھ تھرتھرانے لگا اور قلم نہ چلا ۔ پھر فرمایا : لامجھے دے ۔ اور یوں لکھا : ”یہ خط ہے خدا کے بندے اَمِیْرُ المؤمنین ہارون رشید کی طرف سے روم کے کُتّے فُلاں کو کہ او کافرہ کے جنے ! جواب وہ نہیں جو تو سُنے جواب وہ ہے جو تو دیکھے گا ۔ “یہ فرمان ایلچی کو دیا اور فوراً لشکر کو تیاری کا حکم دیا ۔ ایلچی کے ساتھ لشکر لے کر پہنچے اور جاتے ہی قسطنطنیہ کو فتح    کرکے اس عیسائی بادشاہ کو گرفتار کرلیا ۔ اس نے بہت گریہ و زاری کی ، ہاتھ پاؤں جوڑے ، خِراج دینے کا وعدہ کیا (تو آپ نے اسے ) چھوڑ دیااور تاج بخشی کرکے واپس آئے ۔ ابھی ایک منزل آئے تھے کہ خبر پائی ، اس نے پھر سرتابی کی ۔ فوراً واپس گئے اور پھر فتح   کیااور پھر اسے گرفتار کیا پھر اس نے ہاتھ جوڑے اور خوشامد کی پھر چھوڑ دیا ۔ ([4])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ حکایت سے اَمِیْرُ المؤمنین خلیفہ ہارون رشید کے رُعب و دبدبے کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ جب نَقْفُور نامی روم کے عیسائی تخت نشین نے ایک مکتوب (خط) کے ذریعے خِراج دینے سے انکار کیا تو ہارون رشید کس قدر آگ بگولا ہوا کہ نہ صرف انتہائی سخت الفاظ میں اسے خط کا جواب لکھا بلکہ اسے سبق سکھانے کے لئے ہاتھوں ہاتھ روم پر فوج کشی بھی کی، مگر یہی ہارون رشید عام لوگوں کے حق میں جس قدر سخت مزاج اور قہر و غضب والے تھے عُلمائے دینِ متین کے معاملے میں اُسی قدر نرم مزاج اور ان کا ادب بجالانے والے تھے ۔ آئیے ! عُلَما کی تعظیم اپنے دل میں پیدا کرنے کے لئے احترامِ عُلَما سے مُتَعَلّق  ہارون رشید کے کردار کے چند گوشوں کو ملاحظہ کیجئے ۔ چُنانچہ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت میں ہے :

خدا نے دو ہاتھ کس لئے دئیے ہیں!

ہارون رشید جیسے جبّار بادشاہ نے (اپنے بیٹے ) مامون رشید کی تعلیم کے لئے حضرتِ امام کسائی (رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ) ([5]) سے عرض کیا تو آپ نے فرمایا : ”میں یہاں پڑھانے

 نہ آؤں گا ، شہزادہ میرے ہی مکان پر آجایا کرے ۔ “ہارون رشید نے عرض کی : ”وہ وہیں حاضر ہوجایا کرے گا مگر اس کا سبق پہلے ہو ۔ “فرمایا : ”یہ بھی نہ ہوگا بلکہ جو پہلے آئے گا اس کا سبق پہلے ہوگا ۔ “غرض مامون رشید نے پڑھنا شروع کیا، اتفاقاً ایک روز ہارون رشید کا گزر ہوا، دیکھا کہ امام کسائی (رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ ) اپنے پاؤں دھو رہے ہیں اور مامون رشید پانی ڈالتا ہے ۔ بادشاہ غضب ناک ہوکر اترا اور مامون رشید کے کوڑا مارااور کہا : ”او بے ادب! خدا نے دو ہاتھ کس لئے دئیے ہیں، ایک ہاتھ سے پانی ڈال اور دوسرے ہاتھ سے اِن کا پاؤں دھو ۔ “([6])

سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  ! دیکھا آپ نے کہ انتہائی شان و شوکت اور رُعْب و دَبْدَبَہ رکھنے والے خلافتِ عباسیہ کے پانچویں خلیفہ ہارون رشید نے جب اپنے بیٹے کو دیکھا کہ استاد صاحب کے پاؤں دُھلوانے کے لئے پانی ڈال رہا ہے تو اس بات پر غصہ نہیں آیا کہ ”وقت کے بادشاہ کا بیٹا کسی کے پاؤں دُھلوا رہا ہے !“بلکہ غصہ آیا بھی تو اس بات پر کہ میرا بیٹا عالمِ دین کو پاؤں دھونے کی زحمت کیوں دے رہا ہے خود اپنے ہاتھ سے ان کے پاؤں دھونے کی سعادت کیوں حاصل نہیں کررہا ۔

علم کی عزت

ایک مرتبہ ہارون رشید نے ابو معاویہ عزیز (عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْعَزِ  یْز ) کی دعوت کی ، وہ آنکھوں سے معذور تھے ، جب آفتابہ (یعنی ڈھکنے دار، ستہ لگا ہوا لوٹا) اور چلمچی (یعنی ہاتھ منہ دھونے کا برتن



[1]    مبلغ دعوتِ اسلامی و نگرانِ مرکزی مجلسِ شوری حضرت مولانا حاجی ابو حامد محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی نے یہ بیان ۲۶ربیع الاول ۱۴۳۱ ؁ھ بمطابق 2مارچ 2011؁ ء بروزبدھ  عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی میں فرمایا ۔ ضروری ترمیم و اضافے کے بعد۲۵ذوالقعدة الحرام۱۴۳۴؁ھ بمطابق 2 اکتوبر 2013؁ء کو تحریری صورت میں پیش کیا جارہا ہے ۔ (شعبہ رسائلِ دعوتِ اسلامی مجلس المدینۃ العلمیۃ)

[2]    ترمذی، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع، ۲۳-باب ، ۴ / ۲۰۷، حدیث : ۲۴۶۵

[3]   زمین کا ٹیکس جو ذمیوں سے لیا جاتا تھا ۔ (الموسوعة الفقھیة، ۱۹ / ۵۲)

[4]   ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص۱۴۵

[5]   یہ امام محمد عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالصَّمَد کے خالہ زاد بھائی اور اَجِلّہ عُلَمائے قُرّائے سبعہ میں سے ہیں ۔

[6]   ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص ۱۴۴



Total Pages: 9

Go To