Book Name:Valentine Day Quran O Hadees ki Roshni main

لعنت ہے اور دونوں ہی رحمت ِالٰہی سے دُور ہیں  پھر زنا صرف شرمگاہ کا نہیں  بلکہ ہاتھ کا زنا حرام کو پکڑنا، آنکھ کا زنا حرام کو دیکھنا، پاؤں کا زنا حرام کی طرف چلنا، منہ کا زنا حرام بوسہ دینا اور ویلنٹائن ڈے میں عموماً یہ سارے حرام کام اور زنا کی یہ تمام اقسام پائی جاتی ہیں ، حدیث ِمبارَک میں  غیر عورت کے ساتھ تنہا خلوت اختیار کرنے کی کس قدر سختی سے ممانعت کی گئی اور مثال سے اس کی برائی بیان فرمائی کہ بدبودار کیچڑ سے لتھڑا ہوا خنزیر کسی شخص سے ٹکرائے یہ غیر عورت سے کندھا ملانے سے بہتر ہے جبکہ اس دن کو منانے والے ان اُمور کا ارتکاب بڑی بے باکی کے ساتھ کرتے ہیں  آپس میں  ہاتھ میں  ہاتھ ڈالے بے حیائی وفحاشی کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں  اس ویلنٹائن ڈے میں  ناجائز خوشی کے ذرائع اپنا کر رنگ رلیاں منانے والوں کے لئے اساف و نائلہ کے عذاب میں بڑی عبرت کا سامان ہے کہیں  ایسا نہ ہو کہ اس دن بے حیائی وفحاشی کا مظاہرہ کرنے کی وجہ سے کسی عذاب کا شکار ہوجائیں  انھیں  ڈرنا چاہئے اور اگر دنیا میں  عذاب نازل نہ بھی ہوتب بھی اس گناہِ عظیم کی آخرت میں  جو سزا ہوگی اس سے تو ہر مسلمان کو ڈرنا ہی چاہئے اور دنیا میں  پکڑ و گرفت نہ ہونے کی وجہ سے ہرگزبے خوف نہیں  ہونا چاہئے۔

          مسلمان کی تو قرآنِ کریم میں  یہ شان بیان ہوئی ہے کہ وہ رحمن عَزَّوَجَلَّ سے بن دیکھے ڈرتے ہیں  لہٰذا خدا کے خوف سے لرز کر اس کی رحمت کے دامن سے لپٹ کر سچی توبہ کرلیجئے وہ غفور ہے رحیم ہے توبہ کرنے والوں کی نہ صرف توبہ قبول فرماتا ہے بلکہ انہیں  اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔ اس دن فلمیں  ڈرامے، گانے باجے اور مختلف بے حیائی سے لبریز شو دیکھنے والے بھی توبہ کرلیں  کہ یہ سب سخت ناجائز و حرام افعال ہیں ۔

ناجائز محبت میں  دئیے جانے والے تحائف کا حکم

            ویلنٹائن والے دن اجنبی مرد و عورت کے مابین جو ناجائز محبت کا تعلق قائم ہوتا ہے اور آپس میں  جو تحائف کا تبادلہ ہوتا ہے فقہاءِکرام فرماتے ہیں کہ یہ رشوت کے حکم میں  داخل ہے اس لئے ناجائز وحرام ہے ایسے گفٹ لینا اور دینا دونوں ہی ناجائز وحرام ہیں  اگر کسی نے یہ تحائف لئے ہیں  تو اس پر توبہ کے ساتھ ساتھ یہ تحائف واپس کرنا بھی لازم ہے۔

            چنانچہ بحر الرائق میں  ہے:   ’’ ما یدفعہ المتعاشقان رشوۃ یجب ردّھا ولا تملک۔ ‘‘  عاشق ومعشوق  (ناجائز محبت میں  گرفتار)  آپس میں  ایک دوسرے کو جو  (تحائف)  دیتے ہیں  وہ رشوت ہے ان کا واپس کرنا واجب ہے اور وہ ملکیت میں  داخل نہیں  ہوتے۔ ([1])

شراب نوشی کی مذمت سے متعلق آیاتِ قرآنیہ واَحادیث ِمبارَکہ

            قرآنِ پاک میں  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتاہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (۹۰)رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (۹۰)   ([2])

ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں  شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔

اَحادیث ِمبارکہ میں  بھی شراب پینے پر متعدد عذابوں کی وعیدیں  وارِد ہوئیں  ہیں  چند کا ترجمہ ملاحظہ ہو :

حدیث نمبر۱:  صحیح مسلم میں  جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی کہ حضور صَلَّیاللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  ہر نشہ والی چیز حرام ہے بیشک اللّٰہ تعالٰی نے عہد کیا ہے کہ جو شخص نشہ پئے گا اُسے  ’’ طِیْنَۃُ الْخَبَال ‘‘  سے پلائے گا لوگوں نے عرض کی  ’’ طِیْنَۃُ الْخَبَال ‘‘  کیا چیز ہے فرمایا کہ جہنمیوں کا پسینہ یا اُن کا عصارہ  (نچوڑ)۔([3])

حدیث نمبر۲:  ترمذی نے عبداللّٰہ بن عمر اور نسائی و ابن ماجہ و دارمی نے عبداللّٰہ بن عمرو رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰیعَنْہُمْ سے روایت کی کہ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:  جو شخص شراب پئے گا اُس کی چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی پھر اگر توبہ کرے تو اللّٰہ  (عَزَّوَجَلَّ)  اُ س کی توبہ قبول فرمائے گا پھر اگر پئے تو چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی اس کے بعد توبہ کرے تو قبول ہے پھر اگر پئے تو چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی اس کے بعد توبہ کرے تو اللّٰہ  (عَزَّوَجَلَّ)  قبول فرمائے گا پھر اگر چوتھی



[1]     بحر الرائق،  کتاب القضاء،  ۶ / ۴۴۱۔

[2]     پ۷، المائدۃ:۹۰۔

[3]     مسلم ،  کتاب الاشربۃ ،  باب بیان انّ کلّ مسکر خمراً ۔۔۔ الخ ،  ص ۱۱۰۹ ،  الحدیث:۷۲(۲۰۰۲)۔



Total Pages: 12

Go To