Book Name:Valentine Day Quran O Hadees ki Roshni main

رہتی ہے جیسا کہ انگلینڈ میں  اس کی مخالفت میں  احتجاج کیا گیا اور احتجاج کی بنیا دی وجہ یہ بتائی گئی کہ اس دن کی بدولت انگلینڈ کے ایک پرائمری اسکول میں  10 سال کی 39 بچیاں حاملہ ہوئیں ۔ غور کیجئے یہ تو پرائمری اسکول کی دس سالہ بچیوں کے ساتھ سفاکیت کی خبر ہے وہاں کے نوجوانوں لڑکے لڑکیوں کے ناجائز تعلقات اور اس کے نتیجے میں  حمل ٹھہرنے اور اسقاطِ حمل کے واقعات کی تعداد پھر کتنی ہوگی اس کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

          انتہائی دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس دن کو کافروں کی طرح بے حیائی کے ساتھ منانے والے بہت سے مسلمان بھی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے عطا کئے ہوئے پاکیزہ احکامات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے کھلم کھلا گناہوں کا ارتکاب کرکے نہ صرف یہ کہ اپنے نامۂ اعمال کی سیاہی میں  اضافہ کرتے ہیں  بلکہ مسلم معاشرے کی پاکیزگی کو بھی ان بے ہودگیوں سے ناپاک  وآلودہ کرتے ہیں ۔

        بد نگاہی، بے پردگی، فحاشی عریانی، اجنبی لڑکے لڑکیوں کا میل ملاپ، ہنسی مذاق، اس ناجائز تعلق کو مضبوط رکھنے کے لئے تحائف کا تبادلہ اور آگے زنا اور دواعی ٔزنا تک کی نوبتیں  یہ سب وہ باتیں  ہیں  جو اس روز ِعصیاں زور و شور سے جاری رہتی ہیں  اور ان سب شیطانی کاموں کے ناجائز و حرام ہونے میں  کسی مسلمان کو ذرہ بھر بھی شبہ نہیں  ہوسکتا قرآن کریم کی آیاتِ بَیِّنات اور نبی ِکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے واضح ارشادات سے ان اُمور کی حرمت و مذمت ثابت ہے۔

        مگر چونکہ اس قسم کے سوال سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو دینی نقطۂ نظر سے سمجھایا جائے اور اس دن کی خرافات کے ساتھ اس کومنانے کی شَناعَت و برائی سے انہیں  آگاہ کرکے ان کے دلوں میں  خوفِ خدا اور شرمِ مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پیدا کی جائے تاکہ وہ ان ناپاکیوں سے تائب ہو کر اپنے افکار و کردار کی اصلاح میں  مشغول ہو کر بروزِ قیامت سرخرو ہوں، لہٰذا ترغیب و ترہیب کے لئے چند باتیں  دین سے محبت کرنے والے اپنے اسلامی بھائیوں کی خدمت میں  عرض کرتا ہوں، خود بھی پڑھیں  اور اس اہم فتوے کو جو مضمون کی شکل میں  ہے عام کریں  تاکہ عَامَّۃُ الْمُسلِمِین کے دین و دنیا کا بھلا ہو۔

          اب ذرا اپنی پاکیزہ شریعت کے احکامات ملاحظہ کیجئے کس طرح بد نگاہی بے حیائی، بے پردگی، اور ہر قسم کی فحاشی وعریانی کی مذمت قرآنِ کریم کی آیات اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    کے ارشادات میں  بیان ہوئی ہے توجہ کے ساتھ پڑھنا سننا اور سمجھنا چونکہ مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے اس لئے اتنی ہمت ضرور کیجئے اور آیات و اَحادیث کو اپنے دل میں  داخل ہونے کا موقع دیجئے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے چاہا تو توبہ کی توفیق کے ساتھ ساتھ پرہیز گاری کی دولت اور اتباعِ سنت کی توفیق بھی مل جائے گی۔

شرم و حیاکا درس اور بے حیائی کی مذمت آیاتِ قرآنیہ سے

 (۱) …اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے:

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ (۳۰) وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ ۔۔۔الایۃ ([1])

ترجمۂکنزالایمان:  مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں  کچھ نیچی رکھیں  اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں  یہ ان کے لیے بہت ستھرا ہے بے شک اللّٰہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں  کچھ نیچیرکھیں  اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں ۔

            سورۂ نور کی اسی اکتیسویں  آیت میں  یہ بھی ارشاد ہواکہ

وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّؕ-  ([2])

ترجمۂکنزالایمان: اورزمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں  کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگار۔

  (۲) … سورۃ الاحزاب میں ارشاد ہوا:

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ (۳۲)  وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا



[1]     پ۱۸، النور:۳۰، ۳۱۔

[2]     پ۱۸، النور:۳۱۔

 



Total Pages: 12

Go To