Book Name:Valentine Day Quran O Hadees ki Roshni main

فرماتے ہیں :

          مسلمانوں کی جو ابتر حالت ہے اس کا کہا ںتک رونا رویا جائے یہ حالت نہ ہوتی تو یہ دن کیوں دیکھنے پڑتے اور جب ان کی قوتِ مُنْفَعِلَہ  (اثر قبول کرنے کی قوت)  اتنی قوی ہے اور قوتِ فاعِلَہ  (دوسروں پر اثر انداز ہونے کی قوت)  زائل ہو چکی تو اب کیا امید ہو سکتی ہے کہ یہ مسلمان کبھی ترقی کا زینہ طے کرینگے غلام بن کر اب بھی ہیں  اور جب بھی رہیں  گے۔وَالْعِیَاذُ بِاللّٰہِ تَعَالٰی ([1])

          چند ضروری باتیں  تمہیداً بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ ویلنٹائن ڈے جیسا بے ہودہ گناہوں بھرا دن، مادر پدر آزادی کے ساتھ رنگ رلیوں کے ساتھ منانا، جو نوجوان لڑکے لڑکیوں میں  مقبول ہوتا جارہا ہے اس کے پس ِپردہ بھی اسی قسم کے اسباب موجود ہیں  جو اوپرذکر کئے گئے یعنی فطری کمزوریاں، جدت پسندی، جلد بازی، نفسانی و شیطانی لذات کی اسیری، دین سے دُوری، نہ خود پابند رہنا نہ اپنی اولاد کی تربیت کرکے اسلامی اخلاق و آداب کا انہیں  پابند بنانا، نہ ملی قومی سطح پر مسلمانوں کے حکمرانوں کا معاشرے میں  خلافِ اسلام رسم و رواج و تہواروں کے خلاف سخت اقدامات اُٹھانا یہ وہ اسباب ہیں  جن کی وجہ سے مسلمانوں میں  اس بے ہودہ دن کا منانے کا آغاز ہوچکا ہے بلکہ حکمران طبقہ تو اس طرح کے خلافِ اسلام نظریات اور کھلم کھلا گناہوں کی روک تھام کے اقدامات کرنے کی بجائے اسے فروغ دینے اور اس قسم کے برائی پھیلانے والوں کو تحفظ اور کھل کر کام کرنے کا موقع دینے میں  آگے آگے دِکھائی دیتا ہے، الغرض ان بیان کردہ بُرائی کے اَسباب میں  سے ہر سبب اس قسم کی برائی کا خنجر مسلمانوں کے سینے میں  پیوست کرنے میں  اپنا زور لگا رہا ہے۔

ویلنٹائن ڈے کا پس منظر اور اس دن کو منانے کا انداز

           آمدم بر سرِ مطلب کے تحت اب سوال چونکہ ویلنٹائن ڈے کے بارے میں  ہے اس لئے خصوصاً سب سے پہلے ویلنٹائن ڈے کا تاریخی پس منظر اور اس دن ہونے والی خرافات کو بیان کیا جاتا ہے تاکہ مسلمانوں پر واضح ہو کہ اس گناہوں سے بھر پور دن کی حقیقت کیا ہے چنانچہ کہا جاتا ہے کہ ایک پادری جس کا نام ویلنٹائن تھا تیسری صدی عیسوی میں  رومی بادشاہ کلاڈیس ثانی کے زیرِ حکومت رہتا تھا، کسی نافرمانی کی بناء پر بادشاہ نے پادری کو جیل میں  ڈال دیا، پادری اور جیلر کی لڑکی کے مابین عشق ہوگیا حتّٰی کہ لڑکی نے اس عشق میں  اپنا مذہب چھوڑ کر پادری کا مذہب نصرانیت قبول کرلیا، اب لڑکی روزانہ ایک سرخ گلاب لیکر پادری سے ملنے آتی تھی، بادشاہ کو جب ان باتوں کا علم ہوا تو اس نے پادری کو پھانسی دینے کا حکم صادر کر دیا، جب پادری کو اس بات کا علم ہوا کہ بادشاہ نے اس کی پھانسی کا حکم دیدیا ہے تو اس نے اپنے آخری لمحات اپنی معشوقہ کے ساتھ گزرنے کا ارادہ کیا اور اس کے لئے ایک کارڈ اس نے اپنی معشوقہ کے نام بھیجا جس پر یہ تحریر تھا  ’’ مخلص ویلنٹائن کی طرف سے‘‘  بالآخر 14 فروری کو اس پادری کو پھانسی دیدی گئی ا س کے بعد سے ہر 14 فروری کو یہ محبت کا دن اس پادری کے نام ویلنٹائن ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔

          جبکہ اس تہوار کو منانے کا انداز یہ ہوتا ہے کہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے بے پردگی و بے حیائی کیساتھ میل ملاپ، تحفے تحائف کے لین دین سے لیکر فحاشی و عریانی کی ہر قسم کا مظاہرہ کھلے عام یا چوری چھپے جسکا جتنا بس چلتا ہے عام دیکھا سنا جاتا ہے ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں  فیملی پلاننگ کی ادویات عام دنوں کے مقابلے ویلنٹائن ڈے میں  کئی گنا زیادہ بکتی ہیں  اور خریدنے والوں میں  اکثریت نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی ہوتی ہے، گفٹ شاپس اور پھولوں کی دکان پر رش میں  اضافہ ہوجاتا ہے اوران اشیاء کو خریدنے والے بھی نوجوان لڑکے لڑکیاں ہوتی ہیں ۔

          مشرقی اقدار کے حامل ممالک میں  کھلی چھوٹ نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان جوڑوں کو محفوظ مقام کی تلاش ہوتی ہے۔ اسی مقصد کے لیے اس دن ہوٹلز کی بکنگ عام دنوں کے مقابلے میں  بڑھ جاتی ہے اور بکنگ کرانے والے رنگ رلیاں منانے والے نوجوان لڑکے لڑکیاں ہوتی ہیں ۔

          شراب کا بے تحاشہ کاروبار ہوتا ہے ساحلِ سمندر پر بے پردگی اور بے حیائی کا ایک نیا سمندر دکھائی دیتا ہے۔

          مغربی ممالک میں  جہاں غیر مسلم مادر پدر آزادی کے ساتھ رہتے ہیں  اور فحاشی و عریانی اور جنسی بے راہ روی کو وہاں ہر طرح کی قانونی چھوٹ حاصل ہے اس دن کی دَھماچوکڑی سے بعض اوقات وہ بھی پریشان ہوجاتے ہیں  اور اس کے خلاف بعض اوقات کہیں  کہیں  سے دبی دبی صدائے احتجاج بلند ہوتی



[1]     بہار شریعت،  حصہ نہم،  جزیہ کا بیان،  ۲ / ۴۵۱۔



Total Pages: 12

Go To