Book Name:3 Sharabi Bhai

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

          درودِ پاک کی فضیلت

          امیرِاہلسنّت،  بانیِ دعوتِ اسلامی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مایہ ناز تالیف ’’نیکی کی دعوت‘‘  میں حدیثِ پاک نقل فرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینۂ منوّرہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے : اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کچھ سَیّاح  (یعنی سیر کرنے والے)  فرشتے ہیں ،  جب وہ محافلِ ذکر کے پاس سے گزرتے ہیں تو ایک دوسرے سے کہتے ہیں :  (یہاں )  بیٹھو۔ جب ذاکرین  (یعنی ذِکر کرنے والے)  دُعا مانگتے ہیں تو فرشتے اُن کی دعاپر اٰمین  (یعنی ’’ ایساہی ہو‘‘ )  کہتے ہیں۔ جب وہ نبی پر دُرُود بھیجتے ہیں تووہ فرشتے بھی ان کے ساتھ مل کر دُرُود بھیجتے ہیں حتی کہ وہ مُنْتَشِر  (یعنی اِدھر اُدھر)  ہو جاتے ہیں ،  پھر فرشتے ایک دوسرے کو کہتے ہیں کہ ان خوش نصیبوں کے لئے خوشخبری ہے کہ وہ مغفرت کے ساتھ واپس جا رہے ہیں۔ (جمع الجوامع للسیوطی،  ۳ /  ۱۲۵،  حدیث: ۷۷۵۰)

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!                            صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 {1} تین شرابی بھائی

          تحصیل علی پور  (ضلع مظفر گڑھ،  پنجاب)  کے مقیم اسلامی بھائی کا مکتوبالفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ پیشِ خدمت ہے: کم سنی ہی میں میرے سرسے والد صاحب کا سایۂ عاطفت اُٹھ گیاتھا۔ والدصاحب کے دنیا سے کوچ فرمانے کے بعد میرے دو چھوٹے بھائی صحبت ِبد کا شکار ہو گئے،  جس کی نحوست سے ان کے اخلاق و کردار بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔ ان کی شرارتوں سے نہ صرف والدہ پریشانی سے دوچار رہتیں تھیں بلکہ دیگر لوگ بھی ان کی حرکات و سکنات کی وجہ سے بیزار تھے۔ والدہ محترمہ انہیں اچھا انسان بنانے اور برائی سے روکنے کے لیے سمجھاتیں ،  برائی سے نفرت اور اچھے افعال کے ذریعے دنیاوآخرت میں کامیابی پانے کا جذبہ دلاتیں مگر ان پر والدہ کی سود مند نصیحت کا کوئی اثر نہ ہوتا اور یہ افعالِ بد سے رُک کر ان کا دل خوش کرنے کے بجائے اپنی روِش پر قائم رہتے۔ ’’گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے‘‘  کے مصداق میں بھی اپنا دامن ان کانٹوں سے نہ بچا سکا اور بدقسمتی سے ان کی صحبت میں اٹھنے بیٹھنے لگا حتی کہ میں بھی ان کے ساتھ دنیا کی موج مستیوں میں مبتلا ہو گیا اور پھر رفتہ رفتہ  گناہوں کی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔ پہلے ہی دو چھوٹے بھائی والدہ کے لیے دردِ سر بنے ہوئے تھے مزید میں نے بھی ان کے غم و پریشانی میں اضافہ کر دیا۔ افسوس! والدہ کے قلبِ شفیق کو ٹھنڈا کر کے جنت کا حقدار بننے کے بجائے ہم تینوں بھائی ان کی پریشانی میں اضافہ کر کے نارِجہنم کے خریدار ہوتے جا رہے تھے۔ ہمیں نہ تو اس بات کی فکر تھی کہ ہمارے کرتوتوں کی وجہ سے لوگ والد مرحوم کو برا بھلا کہیں گے اور نہ ہی معاشرے میں اپنی بدنامی اور رسوائی کا کوئی خیال تھا۔ الغرض صبح ہوتے ہی ہم تینوں بھائیوں کی شرانگیزیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا جو رات گئے تک جاری رہتا،  لوگ ہماری بری عادتوں سے اس قدر بیزار تھے کہ اپنی اولاد کو ہمارے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے دینا تو کُجا ہمارے سائے سے بھی دور رہنے کی تاکید کرتے،  مگر ہم محلے کے لڑکوں سے دوستیاں گانٹھ لیتے اور انہیں بھی اپنا ساتھی بنا لیتے۔ بالآخرہم تینوں بھائیوں نے علاقے کے 40 لڑکوں پر مشتمل ایک خطرناک گینگ تیار کر لیا۔ علاقے میں ہماری کارستانیاں دیکھتے ہوئے ایک بااثر شخص نے ہماری پُشْت پناہی کرنا شروع کر دی اب تو ہمارے مزید پَر نکل آئے،  سرِعام ڈاکے ڈالتے،  چوریاں کرتے،  لوگوں کی اَملاک کو نقصان پہنچاتے،  مار پیٹ کے ذریعے لوگوں پر اپنا رُعب و دَبدبہ جماتے اور کمزور افراد کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بناتے،  مگر کسی کو ہمارے سامنے بولنے کی ہمت نہ ہوتی،  کوئی زبان کھولتا تو اس کی شامت آجاتی،  انہی جرائم کی پاداش میں کئی بار جیل کی صعوبتوں کا شکار ہوا مگر بااثر افراد سے تعلقات کام آجاتے اور جلد ہی رہائی مل جاتی۔ جیل سے باہر آنے کے بعد مزید جرائم بڑھ جاتے،  گناہوں کی آگ تھی جو بجھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی جس نے گھروالوں اور اہلِ علاقہ کا سکون جلا کر خاکستر کردیا تھا۔ دن بدن میرے جرائم میں اضافہ ہوتا گیا حتی کہ میراشمار اشتہاری مجرموں میں ہونے لگا،  پہلے تو سرِعام دندناتا پھرتا اور لوگوں کو خوف زدہ کرتا تھا مگر اب پولیس اور لوگوں کی نگاہوں سے چھپ چھپ کر رہتا۔ اسی طرح زندگی کے گیارہ سال بیت گئے مگر افسوس! میرے کالے کرتوتوں کا طوفان نہ تھما اپنے عبرت ناک انجام کو بھلائے دنیاوی موج مستیوں میں ایسا گم تھاکہ ہر وقت گناہوں



Total Pages: 10

Go To